پاکستان میں غیر متعدی امراض کے تدارک کے لئے تھنک ٹینک کی تشکیل

    August 7, 2019 1:02 pm PST
taleemizavia single page

کراچی: پاکستان میں غیر متعدی امراض (نان کیمونیکیبل ڈیزیز)اور ان سے ہونے والی اموات کو روکنے، ان کے علاج سے متعلق جدید اور مکمل رہنمائی فراہم کرنے کے لئے آغا خان یونیورسٹی میں ایک تھنک ٹینک تشکیل دیاگیا ہے جسے اے کے یو پی آئی -این سی ڈی کا نام دیا گیا ہے ۔

اس تھنک ٹینک میں مختلف شعبوں سے ماہرین شامل کیے گئے ہیں ۔تھنک ٹینک کی افتتاحی میٹنگ آغا خان یونیورسٹی میں منعقدہوئی جس میں انشورنس، تحقیق، غیر منافع بخش،بینکنگ اور پبلک سیکٹر کے افسران نے شرکت کی اور مستقبل کی منصوبابندی کے لیے ایک جامع پلانترتیب دینے پر زور دیا۔

تھنک ٹینک کی روح رواں آغا خان یونیورسٹی کی پروفیسر زینبصمدنےکہا کہ غیر متعدی امراض صرف ہیلتھ کیئر سیکٹر کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ ان کی پیچیدگیاں اور دیرپا اثرات معاشرے، پیداواری صلاحیت اور معاشی نشونما کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ان امراض کا علاج بیشتر خاندانوں کو غربت کے دہانے پر لے آتا ہے اورا نہیں حکومت اور دیگر معاشرتی عوامل پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 8کروڑ افراد امراض قلب، ہائپر ٹینشن ، سرطان،ذیابیطس، تمباکو نوشی کی وجہ سے ہونے والے مسائل، دماغی امراض اور دیگر غیر متعدی امراض کے ساتھ جی رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ غیر صحت مند طرز زندگی،ماحولیاتی گندگی ، فضائی آلودگی اور اربنائزیشن ہے۔

تھینک ٹینک کے شریک چیئر پروفیسر واسع شاکر نے کہا کہ 2010میں ایئر بلیو حادثے میں 125افراد کی جانیں گئیں جس پر عوامی توجہ کے باعث فوری طور پر ضابطے بنائے گئے تاکہ آئندہ ایسے حادثات نہ ہوسکیں لیکن غیر متعدی امراض جن سے اس حادثے کے برعکس روزانہ 14گنا زائد ہلاکتیں ہوتی ہیں پر نہ حکومت توجہ دیتی ہے نہ ہی سول سوسائٹی آواز بلند کرتی ہے نہ ہی کوئی خاطر خواہ اقدامات کیے جاتے ہیں حالانکہیہ امراض خاموش قاتل ہیں جو غیر محسوس طریقے سےبڑھتے ہیں۔

انہوں نے مذید کہا کہ ابتدائی طور پر طرز زندگی بہتر بنانے سے متعلق مہمات چلائی جائیں جس کے لئے ذرائع ابلاغ کے اداروں اور اسکولوں سے مدد لی جاسکتی ہے۔ان کےذریعے سگریٹ نوشی،سستی وکاہلی، آرام پسند طرز زندگی اور کھانے کی بری عادتوں کے نقصانات کے بارے میں معلومات پھیلائی جاسکتی ہیں۔

تحقیقی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر واسع شاکر نے کہا کہ مارکیٹ میں موجود تحقیقاتی فرمز، انشورنس کمپنیوں اور سرکاری اداروں کے پاس معلومات ہیں جن کے تجزیے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کون سا طریقہ ان بیماریوں کے علاج و تدارک کے لئے بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے اسٹیک ہولڈرز سے کہا کہ وہ تعلیم و تربیت ، پالیسی سازی ، آگہی اور تحقیق کے شعبوں میں اقدامات پر غور کریں۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے دیگر ماہرین نے اعدادوشمار کو اکھٹا کرنے کے علاوہ مرکزی ڈیٹا پوائنٹ کے قیام پر زور دیا جس سے غیر متعدی امراض کے صحت عامہ پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا جاسکے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اموات اور صحت کی خرابی کی اولین وجہ غیر متعدی امراض ہیں اس کے باوجود حکومت ان کے خاتمے کےلئے بے ربط حکمت عملی کے ساتھ کام کر رہی ہے جبکہ حکومتی اداروں میں رابطوں کا بھی فقدان ہے۔

پاکستان اس ضمن میں عالمی ادارہ صحت کے بنائے گئے نیشنل سسٹمز ریسپانس کے اہداف کے حصول سے بھی بہت دورہے۔ماہرین نے کہا کہ پاکستان کے ڈیموگرافکس بتاتے ہیں کہ آج کل غیر متعدی امراض خاص طور پر ایک پریشان کن مسئلہ ہیں۔انہوں نے متنبہ کیا کہ ملک کی آبادی کا زیادہ حصہ 30سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے اس لئے خطرہ ہے کہ آئندہ سالوں میں ان بیماریوں کا بوجھ آبادی کے اس حصے پر زیادہ بڑھے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اور تربیتی اقدامات کے ذریعے ہائپر ٹینشن پر قابو پایا جاسکتا ہے کیونکہیہ بیماری اکثرتشخیص نہیں ہوتی اور پیچیدگیاں پیدا کرتی ہے جس سے فالج بھی ہو جاتا ہے۔ اس موقع پر فنانس، انشورنس اور پبلک ہیلتھ اینڈ ڈیٹا سائنس انڈسٹری کے ماہرین کی بڑی تعداد کے علاوہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اور منسٹری آف نیشنل ہیلتھ سروسز اینڈ ریگولیشن کے نمائندے بھی موجود تھے ۔