فرسٹ ایئر میں فیل طلباء کو بھی ڈگری دینے کا فیصلہ، پرموشن پالیسی جاری

    September 19, 2020 2:39 pm PST
taleemizavia single page

پالیسی دستاویز کا خلاصہ: فرسٹ ایئر کے نمبروں کی بنیاد پر سیکنڈ ایئر کے پرچوں کی مارکنگ

فرسٹ ایئر میں فیل طلباء کو رعایتی نمبروں سے انٹرمیڈیٹ ڈگری دینے کا فیصلہ

آخری چانس کے حامل طلباء کو اوسطاً نمبروں سے ڈگری ملے گی

پالیسی قبول نہ کرنے والے طلباء کے لیے سپیشل امتحان منعقد کرنے کا فیصلہ

لاہور: پنجاب حکومت کے محکمہ ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے بورڈز کے طلباء کو پرموٹ کرنے کے حوالے سے باقاعدہ پالیسی جاری کر دی گئی۔ محکمہ ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے جاری کردہ پالیسی کے مطابق سیکنڈ ایئر کے امتحان میں فیل ہونے والے طلباء کو بھی فرسٹ ایئر کی بنیاد پر نمبرز دیکر پاس کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بورڈ امتحانات میں شرکت کرنے والے ایسے امیدوار جو رزلٹ امپروو کرنے کیلئے سیکنڈ ایئر کے امتحان میں شرکت نہیں کر سکے ان طلباء کو فرسٹ ایئر میں حاصل کردہ نمبرز ہی سیکنڈ ایئر میں دے کر پاس کیا جائے گا

جبکہ 2020ء میں انٹرمیڈیٹ کا امتحان دینے والے ایسے اُمیدوار جن کے پاس آخری چانس تھا ان طلباء کو اوسطا نمبروں کی بنیاد پر پاس کیا جائے گا۔

پرموشن پالیسی دستاویز کے مطابق فرسٹ ایئر کے 40 فیصد مضامین میں فیل ہونے والے طلباء کو پاسنگ نمبروں سے ڈگری دی جائے گی۔

محکمہ ہائیر ایجوکیشن نے بورڈز کو سپیشل امتحانات کے انعقاد کرنے کیلئے بھی ہدایات جاری کی ہیں تاہم سپیشل امتحانات کیلئے چار کیٹیگریز تشکیل دی گئی ہیں۔ ان کیٹیگریز میں پارٹ ون اور پارٹ ٹو کا مشترکہ امتحان دینے والے امیدوار سپیشل امتحان دے سکتے ہیں اور مدارس کے طلباء کیلئے بھی سپیشل امتحانات میں شرکت کی اجازت ہوگی۔

فرسٹ ایئر میں فیل ہونے والے طلباء سپیشل امتحانات کیلئے رجسٹرڈ ہو سکیں گے اور شہادت الثانویہ اور شہادت الخاصہ کا کا امتحان دینے والے مدارس کے طلباء بھی سپیشل کیٹیگری کے تحت امتحان دینے کے مجاز ہوں گے۔

پالیسی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی بورڈز طلباء کی ڈگریوں پر کووڈ 19 امتحانی پالیسی کا فقرہ درج کرنے کے پاپند ہوں گے۔

سپیشل امتحانات میں شرکت کیلئے امیدواروں کو متعلقہ بورڈ میں تحریری درخواست جمع کرانا ہوگی۔ مذکورہ کیٹیگری میں شامل جو طلباء فرسٹ ایئر کے نمبروں کی بنیاد پر سیکنڈ ایئر کی ڈگری نہیں لینا چاہتے وہ سپیشل امتحان دے سکیں گے۔

پالیسی دستاویز کے مطابق سائنس کے پریکٹیکل نہ ہونے کی بناء پر پچاس فیصد نمبرز طلباء کو ایوارڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس پالیسی دستاویز کے مطابق صوبے بھر کے تعلیمی بورڈز طلباء کے نتائج جاری کرنے کے پاپند ہوں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *