پاکستان میں تعلیمی مسائل پر خصوصی ضمیمہ

    December 25, 2017 1:25 pm PST
taleemizavia single page

خصوصی ضمیمہ

پاکستان کا تعلیمی نظام اتنا خراب ہوتا جارہا ہے کہ اب کوئی یہ کہنا پسند نہیں کرتا کہ میرے بچوں نے میٹرک پاس کیا ہے۔ شہری علاقوں میں اے لیول اور او لیول کی برطانوی اہلیت زیادہ اہم سمجھی جارہی ہے۔ پرائمری ایجوکیشن میں وسائل کی کمی، سیکنڈری سکولوں میں اساتذہ کے اندر مثبت سمت کا فقدان اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سیاست بازی ملک کے مستقبل پر گہرا اثر چھوڑ رہے ہیں۔

آپ پاکستان کے جس ضلع میں رہتے ہیں وہاں تعلیم کی صورت حال کیا ہے؟ کیا پرائمری سکولوں میں تعلیم صحیح دی جارہی ہے؟ کیا استاد اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہیں؟ سیکنڈری سکولوں میں کیا حالات ہیں؟ آپ کے خیال میں پاکستان کا موجودہ تعلیمی نظام کس طرح کی نسل کو جنم دے رہا ہے؟اس بنیاد پر ایک سروے کیا گیا ہے جس میں پاکستانیوں کے تاثرات جمع کیے گئے ہیں جنہیں اب شائع کیا جارہا ہے۔

نوید نقوی، کراچی

پاکستان کا نظامِ تعلیم بہت خراب ہو چکا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ نقل اور اس میں خود اساتذہ کا مدد دینا ہے۔ میں خود جب نویں جماعت میں تھا تو ہمارے استاد حضرات ہم سے پیسے لیتے تھے تا کہ باہر سے جو نگران آئے گا اس کے کھانے پینے کا انتظام کر سکیں۔ نویں اور دسویں جماعت میں جو طالب علم اس طرح سے پاس ہوتے ہیں وہ آگے جا کر قوم کی باگ دوڑ کیا سنبھالیں گے۔ آج احساس ہوتا ہے کہ وہ ہمارے استاد نہیں بلکہ ہمارے دشمن تھے۔ ہمارے ہی کیا پوری قوم اور ملک کے دشمن ہیں۔ یہ سطریں لکھتے ہوئے دکھ ہو رہا ہے لیکن سچ یہی ہے۔

جاوید اقبال ملک، چکوال

چند روز قبل عمران خان چکوال بالکو آئل کے افتتاح کرنے کے لیے تشریف لائے تھے۔ میں نے ان کا انٹرویو کیا اور بلکل آپ والا سوال کیا تو وہ کہنے لگے کہ صرف میانوالی ہی میں ستر فیصد سرکاری سکول بند پڑے ہیں اور جو کھلے ہیں ان کی حالت بہت بری ہے۔

ایمن احمد، حیدرآباد

میں سندھ یونیورسٹی کا طالب علم ہوں۔ یہاں کی صورتحال یہ ہے کہ لاقانونیت کا دور دورہ ہے۔ یونیورسٹی سیاسی پارٹیوں کی آماجگاہ ہے۔ جب کارکن طلبہ ہڑتال کرتے ہیں تو ہر لڑکے کو مار کر ساتھ لے جایا جاتا ہے۔ اور لڑکیوں کی بسیں کئی کئی گھنٹے کے لیے روک لی جاتی ہیں۔ اساتذہ سمیسٹر میں ایک دفعہ آکر کورس پکڑا کر چلے جاتے ہیں کہ یہ کرنا ہے اور پھر امتحان کے روز ان کا دیدار ہوتا ہے۔ کوئی کسی کو مارے پیٹے تو پولیس صرف تماشائی بنی رہتی ہے۔ ایسے میں کیا پڑھائی ہوگی اور کیا معیار ہوگا یہاں سے پڑھ کر نکلنے والے طلبہ کا؟

آصف ججہ، ٹورانٹو

لوگوں کے پاس پیسہ ہے اور لوگ اپنے بچوں کو او لیول کروا رہے ہیں۔ لیکن اگر آپ دیکھیں تو پروفیشنل کالجوں میں زیادہ تعداد ٹاٹ کے سکولوں سے پڑھے ہوئے طالب علموں کی ہے اور میرے خیال میں وہ زیادہ ذہین بھی ہیں۔ ہم چار کزن ہیں اور ہم سب نے ایم ایس سی کی ہے اور ہم ان او لیول کرنے والے طلبہ کو اپنے سے زیادہ ذہین نہیں سمجھتے۔

شریف خان ماری، کوئٹہ

تعلیم کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی تمام تر ذمہ داری پرائمری سطح تک کے اساتذہ پر عائد ہوگی اور پرائمری کے بعد یہ ذمہ داری طلبہ پر ہوگی کیوں کہ پرائمری والے بچے اپنے نفع اور نقصان کے بارے میں نہیں جانتے اور اس کے برعکس میٹرک کے طلبہ اپنے مستقبل کے بارے میں اچھی طرح جانتے ہیں۔

حیات خان ماری، کوئٹہ

پاکستان میں اور خصوصاً بلوچستان میں نظام تعلیم کی بربادی کے ذمہ دار اساتذہ ہیں۔ حکومت بھی ذمہ دار ہے کیوں کہ حکومت کالجوں اور سکولوں کی نگرانی نہیں کرتی یہاں تک کہ یونیورسٹیوں کو بھی نہیں دیکھا جاتا۔ اساتذہ پرائیویٹ سنٹرز میں پڑھا کر اضافی رقم کماتے ہیں اور سرکاری مراکز میں مخلص ہو کر نہیں پڑھاتے۔

محمد عثمان ریاض، فیصل آباد

حکومت پاکستان نے ایک نیا سسٹم متعارف کروایا جس میں کہا گیا تھا کہ کسی بھی طالب علم کو فیل نہیں کیا جائے۔ اس سسٹم کا اثر طالب علم پر یہ ہوا کہ انہوں نے محنت کرنا چھوڑ دی اور جب یہ برے گریڈ میں پاس ہونے والے طلبہ کالجوں میں آتے ہیں تو انہیں داخلہ نہیں دیا جاتا۔ اس وجہ سے ان کا مستقبل شروع میں ہی تباہ ہو جاتا ہے۔ اساتذہ پر حکومت کا الگ دباؤ ہے۔

شہزاد نوید، برطانیہ

پاکستانی سکول کو پاکستان پولیس اسٹیشن کہہ سکتے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ سکول بچوں کے لیے ہیں اور پولیس اسٹیشن بڑوں کے لیے۔

ریاض فاروقی، کراچی

ہم نے ہر شعبے میں انگریزوں سے چیزیں وراثت میں لی ہیں اور تعلیمی نظام بھی ان میں سے ایک ہے۔ انگریزوں نے ہمیں مُنشی اور کلرک پیدا کرنے کے لیے ایک تعلیمی نظام دیا تھا اور ہم آج تک اس ہی کو پکڑے ہوئے ہیں۔ انگریزوں نے بھی اپنے بچوں کے لیے کچھ سکول بنائے ہوئے تھے آج ہمارا اعلٰی طبقہ بھی یہ ہی کر رہا ہے۔ وہ ہائی سکول کے بعد اپنے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے باہر بھیج دیتے ہیں اور انہیں پاکستان کے تعلیمی نظام سے لگاؤ ہی نہیں ہے۔ تعلیم میں فوری کوئی تبدیلی لانی ہوگی ورنہ ابھی ہم سو سال پیچھے ہیں اور اگر اس رفتار سے ترقی ہوتی رہی تو دس سال بعد ہم دو سو سال پیچھے ہو جائیں گے۔

اقبال کردامے، لندن

میری رائے میں ہم کبھی بھی اچھی تعلیم حاصل نہیں کر سکتے کیوں کہ ہم اسلام کی تعلیمات کو بھلا چکے ہیں۔ اساتذہ تعلیم دینے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور یہ امانت میں خیانت ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہیں معقول تنخواہ نہیں ملتی جس سے وہ اپنے کنبہ کے اخراجات برداشت کر سکیں۔ وہ ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے پرائیوٹ ٹیوشن سنٹر چلاتے ہیں۔

علی قریشی، لاہور

میں نے ایک بہت اچھے پرائیویٹ سکول سے تعلیم حاصل کی لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ میں انگلش بول تو لیتا ہوں لیکن لکھ نہیں سکتا۔ اردو میں پڑھ نہیں سکتا۔ ایک سال سرکاری سکول میں بھی پڑھا۔ وہ اس طرح مارتے ہیں جس طرح تو فوج والے جاسوسوں کو نہیں مارتے ہوں گے۔ آج تین سال بعد بھی میرے جسم پر نشان موجوں ہیں جن کو دیکھ کر میرے گھر والے بھی یقین نہیں کرتے کہ یہ کسی استاد کے لگائے ہوئے ہیں۔

شاہدہ اکرم، متحدہ عرب امارات

اگر کوئی پڑھنا چاہے تو اسے دنیا کی کوئی بھی طاقت روک نہیں سکتی۔ ہمارے ملک کا تعلیمی نظام بہت خراب ہو چکا ہے لیکن اس ہی ملک میں بہت عام سے سکولوں سے تعلیم حاصل کرنے والے بہت آگے بھی گئے ہیں۔ جیسا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر جن کو دنیا نے تسلیم کیا۔ اور بہت سے ایسے نام ہیں جنہوں نے اپنے ہی ملک سے تعلیم حاصل کر کے ملک کا نام روشن کیا۔ اصل بات صرف اور صرف چاہت کی ہوتی ہے۔ علم حاصل کرنے کی چاہت ہو تو کھمبے کی روشنی میں بیٹھ کر بھی پڑھا جا سکتا ہے اور ٹاٹ پر بیٹھ کر بھی اعلٰی تعلیم حاصل کی جا سکتی ہے۔ صرف تعلیمی اداروں کو الزام دینا ٹھیک نہیں اپنے رجحان کی بھی بات ہے۔ لیکن بات ہو رہی ہے تعلیمی اداروں کی بدحالی کی تو اس کا الزام میں صرف سسٹم کو دوں گی جس کی وجہ سے سب ہی متاثر ہو رہے ہیں۔ ہر طبقے کے لیے نظام مختلف ہے اور تعلیم کے بھی درجے مقرر ہیں۔

نوید راحت، برطانیہ

پاکستان میں تعلیم کا کوئی نظام نہیں ہے۔ میرا تعلق ضلع خانیوال سے ہے جہاں داخلوں ور اساتذہ کی تبادلوں میں اکثر سیاست کا عمل دخل ہوتا ہے۔

محمد توکل، لاہور

میرے خیال میں تعلیم کا شوق گھر سے اور ساتھ رہنے والوں کو دیکھ کر بڑھتا ہے۔ ہر بچے کو پڑھائی کا شوق ہوتا ہے لیکن کسی نہ کسی وجہ سے وہ شوق دب جاتا ہے۔ ہمیں پڑھے لکھے لوگوں کی عزت کرنی چاہیے اور پڑھے لکھے لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی عزت کروائیں۔ پڑھے لکھے انسان کو ایک بہتریں نمونہ ہونا چاہیے۔

عبدالحمید، لندن

ہمیں ایسی نسل کو پروان دینے کی ضرورت ہے جو نئے دور کے ساتھ معاشرے میں اپنا مقام خود حاصل کر سکیں۔

رخسانہ، لیاری، کراچی

تعلیم سکھانے کے لیے کتابوں کی نہیں اچھے لوگوں کی ضرورت ہے جو تھوڑے بہت بھی نہیں ہیں۔

محمد قریشی، لندن

ہم لوگوں نے تو بہت اچھے زمانے میں پڑھ لیا۔ اس نظام تعلیم میں کیا آپ اپنے بچے کو پڑھانا چاہیں گے؟

ہارون رشید، سیالکوٹ

پاکستان میں سرکاری سکولوں میں اساتذہ اور ضروری اشیاء نہیں ہیں جس کی مدد سے بچے تعلیم حاصل کر سکیں۔ سائنس کی لیبارٹریاں نہ ہونے کے برابر ہیں اور جو ہیں وہ بہت پرانی ہو چکی ہیں۔۔ پرائیوٹ سکول صرف بڑے شہروں میں اچھے ہیں لیکن وہ تو بس تعلیم کی دکانیں ہیں۔

عابد مہمند، پشاور

آج کل سکول پیسہ کمانے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ ہر کوئی سکول بناتا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ بعض لوگوں نے گھر کی بیٹھک کو سکول بنایا ہوا ہے۔ یہ لوگ بچوں کے مستقبل سے کھیلتے ہیں۔ نہ صرف میری بلکہ ہر غریب کی رائے یہ ہوگی کہ پرائیویٹ سکولوں کو ختم کیا جائے اور سرکاری سکولوں پر بھرپور توجہ دی جائے۔ یہ پرائیویٹ سکول ہی ہیں جنہوں نے استاد کا مقام ختم کردیا ہے اور عام آدمی بھی استاد کہلانے لگا ہے۔

محمد ظفر راجپوت، میرپور، آزاد کشمیر

اگر ہماری حکومت نصاب بدل رہی ہے تو حکومت کو سکولوں اور کالجوں کے اساتذہ کو اس نئے نصاب کی تربیت بھی دینی چاہیے۔ اس طرح ہمارے سرکاری تعلیمی ادارے بہتر ہو جائیں گے۔ ورنہ نیا نصاب ہمارے اساتذہ تو نہیں پڑھ سکتے، وہ تو اس کے نام سے ہی ڈرتے ہیں اور پرانے نصاب سے ہی اکتفا کرتے ہیں۔

زاہد خان، لاہور

میں یہ کہنا چاہوں گا کہ پاکستان میں نہ کوئی نظام تعلیم ہے اور نہ ہی نصابِ تعلیم۔ ہم صرف ڈگری ہولڈرز پیدا کر رہے ہیں نہ کہ پروفیشنل۔

عمران صادق، سیالکوٹ

میں بھی پاکستان کے ایک عام سے گاؤں میں رہتا ہوں اور میری تعلیم بی کام ہے۔ میں ایک کارگو کمپنی میں کام کرتا ہوں۔ یقین کیجیے جب چھوٹے بچوں کو ورک شاپوں میں کام کرتا دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ افسوس ہم تعلیم کو صرف پیسہ کمانے کے لیے حاصل کرتے ہیں اور ہمارے ملک میں جتنی بے روزگاری ہے اس کو دیکھ کر ایک عام آدمی اپنے بچوں کو کام پر بھیجنا ہی صحیح سمجھتا ہے۔ میں ایک بات جانتا ہوں کہ ہمارے تمام انفرادی اور اجتماعی مسائل کا حل صرف تعلیم میں ہے۔ پاکستان ہو یا کوئی اور قوم آپ تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں جس قوم نے علم حاصل کرنے پر محنت کی اس قوم نے ترقی کی۔ ورنہ جس طرح ہم اندھیرے میں ٹکریں مار رہے ہیں مارتے رہیں گے۔

عتیق الرحمٰن، پاکستان

پاکستان میں تعلیم کا معیار نہایت ناقص ہے کیوں کہ اس دور میں بھی ابھی تک ہمارے گاؤں میں پرائمری سکول نہیں ہے اور بچے اس مقصد کے لیے دوسرے گاؤں کو جاتے ہیں۔

بینش صدیقی، کراچی

تعلیم کی صورتحال یہ ہے کہ ملک میں واضح طور پر دو طبقے ہیں۔ ایک وہ جو گرائمر کی پیداوار ہیں اور دوسرے وہ جن کی قسمت خراب تھی اور قدرت نے انہیں پرائمری سکولوں میں پہنچا دیا۔ ملک میں تعلیم اس قدر عام ہے کہ ہر گلی محلے میں دس بارہ سکول موجود ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ سکول اتنی تعداد میں ہیں لیکن ان کا معیار کیا ہے؟ یہ سوال بیکار ہے ۔ دوغلا تعلیمی نظام دوغلی نسل پروان چڑھا رہا ہے۔استانیاں سکول میں بیٹھی سبزی بناتی ہیں اور وہ تمام کام کرتی ہیں جو وہ گھر میں نہیں کر پاتیں۔

نعمان اکرم، سویڈن

ہمارا تعلیی نظام بہت برا ہے۔ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے سویڈن آیا ہوں اور یہاں آکر مجھے معلوم ہوا ہے کہ تعلیم کسے کہتے ہیں۔ ہمارا تعلیم کا نظام پرانا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم اے اور او لیول تعلیم کی طرف جا رہے ہیں۔ وہ نظام جدید ہے۔

محمد فیصل، سرگودھا

میں نے ایک سرکاری سکول سے تعلیم حاصل کی ہے اور سرکاری سکول کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اساتذہ پروفیشنل نہیں ہیں اور وہ جان بوجھ کر کلاس میں اچھا نہیں پڑھاتے تاکہ شام کے وقت طالب علم ان سے ٹیوشن پڑھیں۔ سرکاری کالجوں میں بھی یہی حال ہے۔

عبدالصمد، اوسلو، ناروے

سب سے پہلے بھٹو صاحب نے ملک کا تعلیمی نظام برباد کیا اور رہی سہی کثر بعد میں آنے والی حکومتوں نے پوری کردی۔ ابھی بھی دیر نہیں ہوئی اگر ہم صدقِ دل سے آزادی سے پہلے کا تعلیمی نظام اپنا لیں تو کچھ بہتری ہو سکتی ہے ورنہ پستی ہی ہمارا مقدر رہ جائے گی۔

فدا احمد بلوچ، ناصرآباد، پاکستان

نظامِ تعلیم کی ابتری کی دیگر وجوہات کے ساتھ ایک مسئلہ یہ ہے کہ امیر طبقے کے لوگ اپنے بچوں کو انگلش میڈیم اور پرائیوٹ اداروں میں پڑھاتے ہیں اور سرکاری سکول صرف عام آدمی کے بچوں کے لیے رہ گئے ہیں۔ ایسے میں نظام تعلیم ابتر نہ ہو گا تو کیا ہو گا؟ جب نظام میں اتنی خرابیاں ہیں تو بہتری کہاں سے آئے گی؟ سکول ہیں تو کلاس روم نہیں، کلاس روم ہیں تو دیگر اشیاء نہیں۔ کالجوں کا بھی یہی حال ہے۔

فیصل انعام، دبئی

یہ ہمیشہ سے ہماری بدقسمتی رہی ہے کہ کسی بھی حکومت نے تعلیم پر توجہ نہیں دی اور صرف بلند دعوے کیے ہیں۔ بڑے شہروں میں تو تعلیم پھر بھی بہتر ہے لیکن مجموعی طور پر حالت بہت ابتر ہے۔

خوبیب کاظمی، قطر

جس طرح انسان کی جسمانی نشونما کے لیے روٹی ضروری ہے اسی طرح روحانی اور شخصی ترقی کے لیے تعلیم ضروری ہے۔ دور جدید کا ایک بہت بڑا چیلنج روزگار ہے، بد نصیبی سے جس کا رشتہ تعلیم سے جوڑ دیا گیا ہے۔ دیگر وجوہات جو بھی ہوں لیکن عدم استحکام کی وجہ سے بھی تعلیم میں کمی واقع ہوتی ہے۔ بار بار نصاب کی تبدیلی بھی اہم وجوہات میں شامل کر سکتے ہیں۔

شاہد علی، پاکستان

پاکستان میں تعلیمی نظام اتنا خراب ہے کہ اول تو تعلیم یافتہ لوگ بہت کم ہیں اور اگر ہیں بھی تو ایسے کہ ایم اے بھی نقل سے پاس کر تے ہیں اور کچھ نہیں سیکھتے۔ ہمارے ہاں پرائمری سکولوں میں پڑھائی نہیں ہوتی۔ اساتذہ سٹاف روم میں صرف باتوں میں مشغول رہتے ہیں۔ ایسے نظام کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتا یا انجام نہیں دیتا۔ سب کا مقصد صرف تنخواہ لینا ہے۔

عباس نقوی، لندن

میں نے بلوچستان یونیورسٹی میں بطور استاد پانچ سال کام کیا۔ میں نے دیکھا کہ وہاں کی عوام کو تعلیم نہیں صرف ڈگریاں چاہئیں۔ کئی مرتبہ جان کی دھمکیاں ملنے کے بعد میں نے وہ جگہ چھوڑ دی اور اب یہاں برطانیہ میں مقیم ہوں جہاں کم ازکم میں تحفظ اور اطمینان محسوس کرتا ہوں۔

محمد آصف، چمن، پاکستان

میں نے فضلِ حق کالج مردان سے او لیول کیا تھا اور پھر کوئٹہ سے ایف ایس سی کیا۔ آپ یقین کریں کہ وہاں کے او لیول نے میرا ساتھ ایف ایس سی کے علاوہ بی اے میں بھی دیا۔ یہاں تعلیم کے نام پر کاروبار ہو رہا ہے۔ سرکاری اداروں کا کیا کہنا یہاں تو پرائیوٹ ادارے لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ اللہ ہم سب کی حالت پر رحم فرمائے۔

عبدل جبار راؤ، پاکستان

پاکستان کے تعلیمی نظام میں تبدیلی بہت ضروری ہے۔ اس کے لیے ہمیں دور نہیں جانا پڑے گا۔ ہم اپنے ہمسایہ ملک بھارت کے تعلیمی نظام سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہم ان کی ہر پالیسی کو اپنائیں لیکن ان کے تعلیمی نظام کی اچھی باتوں کو اپنا کر ہم اپنے نظامِ تعلیم کو بہتر کر سکتے ہیں۔

محمد علی خان، پاکستان

سب سے پہلے تو ہمارا کوئی نظامِ تعلیم نہیں ہے اور اگر برائے نام ہے بھی تو صرف کاغذی۔ نہ تو اساتذہ تربیت یافتہ ہیں ، اگر ہیں بھی تو ان پر کوئی نظر نہیں ہے۔ سکول صرف حاضری رجسٹر پُر کرنے کے لیے کُھلتا ہے۔ میرے گاؤں میں سکول 1960 سے ہے لیکن آج تک کسی بھی بچے نے پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل نہیں کی۔ یہ سب نظامِ تعلیم، محکمے اور حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہو رہا ہے اور تمام قوم کو جان بوجھ کر جاہل رکھا جا رہا ہے۔

محمد عثمان الحق، لاہور

میرے خیال میں قابلیت تو بہت ہے لیکن تعلیمی معیار بہت برا ہے۔ ٹیکنیکل اور آئی ٹی کے شعبوں میں اچھے اساتذہ کی کمی ہے۔ ہماری قومی زبان میں کوئی اچھی کتاب موجود نہیں ہے اور سب اچھی کتابیں انگلش میں ہیں جس کی وجہ سے ہمارا طالب علم کچھ بھی اچھی طرح نہیں سیکھتا۔ چین ہی کی مثال لیجیے، انہوں نے سب کچھ اپنی زبان میں تبدیل کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے ان کی ترقی آپ سب کے سامنے ہے۔

یاور عباس خان، سویڈن

میں ایک سائنسدان ہوں اور والوو کمپنی کے لیے کام کرتا ہوں۔ میں نے آٹھ سال تک ٹاٹ کے سکولوں میں تعلیم حاصل کی لیکن سخت محنت کر کے میں سائنسدان بن گیا۔ مجھے پروفیشنل یونیورسٹی کے امتحان پاس کرنے کے لیے چالیس فیصد نمبروں کی ضرورت تھی اور میں اسی فیصد حاصل کر کے وہاں داخل ہوا۔ ہمارا نظام طالب علموں کو نکھارنے کے بجائے برباد کر رہا ہے۔

امتیاز علی، پاکستان

جس ملک میں تعلیم کا بجٹ دو فیصد اور فوج کا بجٹ اسی فیصد ہو اس ملک میں تعلیم کا معیار کیا ہوگا؟

علی نقوی، سڈنی، اسٹریلیا

اگر کوئی شوق سے تعلیم حاصل کر بھی لے تو کوئی مناسب نوکری نہیں ملتی۔ ہم جیسے لوگ غیر ملک میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آئے تھے اور ہماری قابلیت دیکھ کر ان ترقی یافتہ ملکوں نے ہمیں جوہری کی طرح پہچان کر عزت دی اور ہم انہیں کے ہو کر رہ گئے۔ لیکن پاکستان میں لوگ آج غیر تعلیم یافتہ افسروں سے ڈانٹ کھا رہے ہیں۔ تعلیم حاصل کرنے والے کسی سہولت کی پرواہ نہیں کرتے۔ آپ محنت سے وہ سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں جس کی دل سے تمنا رکھتے ہوں۔

مشتاق م، ہانگ کانگ

گزشتہ سال میں پاکستان میں تھا۔ ’حضرو‘ میں کچھ طالب علموں نے بتایا کہ ان کے استاد بہت دور جیسے راولپِنڈی اور مردان سے دوپہر تک سکول پہنچتے ہیں، لنچ ٹائم ہوچکا ہوتا ہے کھانا کھاتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں۔

فیصل قیصرانی، کوئٹہ

میں بلوچستان کے ضلع پشین میں پرائمری ٹیچر ہوں۔ بطور ٹیچر یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں رائج دوہرا نظام تعلیم، سیاست، فنڈز کی کمی، ٹیچروں کی تقرری اور تربیت کا ابتر نظام وغیرہ تعلیمی معیار میں کمی کی وجہ ہیں۔ پرائیوٹ سکول صرف پروفِٹ کمانے کا ذریعہ ہیں۔ دوہرے نظام تعلیم کی وجہ سے غریب طالب علم کمپلیکس کا شکار ہے۔

کامران اقبال، اونٹاریو

میرے خیال میں گزشتہ دس برسوں میں مختلف پرائیوٹ ادارے قیام میں آئے ہیں اور اعلی تعلیم کے نام پر ایک فراڈ ہیں۔ جو ڈِگریاں وہ فراہم کرتے ہیں ان کے بارے میں کوئی آئڈیا نہیں۔

کاظمی مقدس، لاہور

میں ایک استاد ہوں لیکن مجھ میں اور موٹر میکانِک میں کوئی فرق نہیں ہے۔ بلکہ اس کی عزت زیاد ہے۔ ٹیچِنگ ایک کمترین پیشہ ہے پاکستان میں۔ جاہلیت اور ظلم و جبر کے اس معاشرے میں پولیس مین یا پٹواری کی تو عزت ہوسکتی ہے، لیکن استاد کی نہیں۔ جب تک استاد میں عزت نہیں ہوگی وہ معمارِ قوم کی بجائے مسمارِ قوم ہوگا۔ پھر استاد سے یہ کہنا کہ اس نے اپنی عزت کھودی ہے، حالانکہ اس نے عزت کب پائی تھی۔

محمد ندیم خان، اونٹاریو

ہم پاکستانی قوم کی حیثیت سے کافی بدقسمت ہیں کہ ہمارے رہنما اور حکمران تعلیم جیسی اہم بنیاد کو نہیں سمجھتے۔ حکومت ان لوگوں کو ٹیکس بریک دیتی ہے جو اپنے بچوں کو پرائیوٹ سکول میں بھیجتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ پورے ملک میں کم سے کم ہائی سکول تک ایک ہی نظام تعلیم ہونا چاہئے۔

عدیل احسن، اسلام آباد

پورے پاکستان کو دیکھنے کی ضرورت نہیں، صرف اسلام آباد پر نظر ڈالیں۔ میں کافی تجزیہ کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ تعلیمی اداروں میں ’زیرو تعلیم‘ دی جارہی ہے۔ ٹیچر کلاسز میں بھی حاضر ہونے کی زحمت نہیں کرتے، ان کی تقرری ’سفارش‘ سے ہوتی ہے، میرِٹ کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ پرائمری ایجوکیشن پر تو بالکل توجہ نہیں دی جاتی۔

خان اظفر، ٹورانٹو

میں پاکستان میں شعبۂ تعلیم سے وابسطہ تھا۔ میرے خیال میں سرکاری اسکولوں کا معیار اچھا نہیں مگر ان کا معیار آسانی سے بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ سرکاری سکول کے بچے بھی بہت لائق ہوسکتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں یہ فخر کی بات ہوگئی ہے کہ کون کہاں پڑھ رہا ہے۔ تعلیم اور وسائل تعلیم میں فرق ہے۔ وسائل ہونے سے فرق تو پڑتا ہے، لیکن اچھا طالب علم وسائل کی کمی کو کسی نہ کسی طرح پورا کرسکتا ہے۔ نام نہاد اعلیٰ اسکول فخر اور غرور کی نشانی ہیں۔

ڈاکٹر نعیم احمد میمن، امریکہ

میں پاکستانی نظام تعلیم کا پیداوار ہوں لیکن مجھ پر یقین کریں میں انگریزی، اردو، فزِکس، کیمسٹری اور میتھمیٹِکس پڑھتے ہوئے بڑا ہوا لیکن ان مضامین کی حقیقت سے کبھی واقف نہیں ہوا۔ ہمارا تعلیمی نظام انگریزوں نے بنایا تھا تاکہ کلرک پیدا کیے جاسکیں اور کچھ نہیں۔۔۔۔ پاکستان میں ڈراپ آؤٹ ریٹ ہائی ہے۔۔۔۔

یاسر علی، دوبئی

میرے خیال میں دو مشکلات ہیں: پیسے کی کمی اور تعلیمی معیار کی زبوں حالی۔ پاکستان میں بہت ذہنی لوگ ہیں لیکن پیسے کی کمی کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کرسکتے۔ اور ہمارا معیارِ تعلیم اتنا خراب ہے کہ ہم اپنے پڑوسی انڈیا سے موازنہ بھی نہیں کرسکتے۔

نثار فاروقی، منڈی شاہ جیوانا، جھنگ

میرے گاؤں کا نام منڈی شاہ جیوانا ہے اور جب سے گرلز اسکول بنا ہے سائنس کی کوئی ٹیچر پوسٹ نہیں ہوئی ہے۔ میرے گاؤں کی آبادی تین ہزار ہے۔

اویس جنید، سِڈنی

سعودی عرب اپنے سالانہ بجٹ کا ایک بڑا حصہ صحت کی بجائے تعلیم پر صرف کرتا ہے جس کی وجہ سے ان کی معیشت بہتر ہورہی ہے۔ ہم صرف اپنی فوج کی جیبیں بھریں گے۔ اس کے لئے ہماری اگلی نسل کو قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ اور اس کے نتائج کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے۔

آصف رفیق، لائبیریا

میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک گاؤں سے تعلق رکھتا ہوں جہاں پرائمری تعلیم کا معیار اتنا کم ہے کہ کوالٹی ایجوکیشن اور ایک تعلیم یافتہ قوم کی بنیاد نہیں قائم کی جاسکتی۔

تاج عالم خان، ٹورانٹو

میں اس چیز کا بارے میں کیا بات کروں جس کا وجود بھی نہیں، جیسے تعلیم۔ مجھے فکر ہے کہ پاکستان میں ہم نئی نسل کو تباہ کررہے ہیں۔ ہم مغرب کی پیروی کررہے ہیں جبکہ ہمارا ماحول مشرقی ہے۔ حکومت کو کوئی بتائے کہ آرمی کی طرح تعلیم بھی ایک سیکٹر ہے۔ ہمارے یہاں سب کچھ صرف آرمی پر خرچ ہوتا ہے، لگ بھگ ستر فیصد وسائل۔

شبیر، حب چوکی، لسبیلہ، بلوچستان

میں آپ سب کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے صوبے بلوچستان میں تعلیم کی کمی کیوں ہے۔ دراصل ہماری بنیاد اتنی کمزور ہے کہ ہم ابھی ماڈرن دور میں نہیں آسکتے۔ یہاں وڈیروں اور جاگیرداروں کا دور ہے، وہ نہیں چاہتے کہ ہم میں سے کوئی آگے بڑھے کیونکہ ہم میں سے کوئی پڑھ کر آگے نکل سکتا ہے اور ہماری حکومت کا تختہ پلٹ سکتا ہے۔ یہ سب سے بڑا انڈسٹریل علاقہ ہے لیکن یہاں ایک سال ہونے کو ہے صرف ایک گورنمنٹ کالج کھلا ہے۔ یہاں کہ میڈیکل کالج میں جس کے پاس سفارش ہے وہی۔۔۔۔

محمد اسماعیل، سوات، سرحد

ہمارے کالج میں کوئی ٹیچنگ نہیں ہورہی۔ ٹیچر محنت نہیں کرتے، سست انسان کی طرح کرسیوں میں سوتے رہتے ہیں۔ امیر لوگ اپنے بچوں کو پبلک سکول میں پڑھاتے ہیں۔۔۔

عماد، اسلام آباد

سکولوں کے بجائے کالج بدتر حالات میں ہیں۔ وائرس کی طرح سیاست نے تمام گورنمنٹ کالجوں اور یونیورسٹیوں کو دبوچ لیا ہوا ہے۔ سیاست دانوں کے لئے کام کرنے والے مختلف سیاسی اور مذہبی گروہ کالجوں میں سرگرم ہیں۔

سید عمران رضا نقوی، ماڈل ٹاؤن

ویل، میرے خیال میں پاکستان میں پہلے سے سیوچویشن اب چنچ ہورہی ہے، آہستہ آہستہ۔ لیکن یہاں طبقاتی فرق کی وجہ سے ایجوکشین کا کوئی معیار نہیں ہے۔ ایک طرف گورنمنٹ اسکول کے بچے ٹاٹ پر بیٹھتے ہیں تو دوسری طرف ہائیر کلاس ایئر کنڈیشنڈ میں اسٹڈی کرتے ہیں۔ اِن فیکٹ، سارا سیسٹم ہی خراب ہے اور اس کی وجہ ہمارے ان پڑھ حکمران ہیں۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد

تعلیم کا نام بزنس ہی ہے، جیسے ڈاکٹری، ہم نے پیشے کو بزنس کا نام دے کر تعلیمی معیار مسخ کیے ہیں۔۔۔۔

توصیف بٹ، پسرور، سیالکوٹ

میرا شہر پسرور ہے جو کہ سیالکوٹ کی سب سے پسماندہ تحصیل ہے۔ یہاں لیول والی کلاسز تو نہیں ہیں پر لوگوں میں تعلیم کا شعور ضرور ہے۔ پسرور میں پرائمری کی سطح پر پرائیوٹ سکول آگے ہیں۔ اپنی پوری کوشش کے باوجود ہم اپنے بچوں کی تعیلم سے مطمئن نہیں ہیں۔ یہاں کسی بھی سکول میں تعلیم کا جدید آڈیو، وڈیو طریقوں کا استعمال نہیں ہے۔ کچھ فاصلے پر سیالکوٹ پبلک سکول ہے جو کہ بہت مہنگا ہے لیکن معیاری ہے۔ پورے ملک میں تعلیم کے شعور کا اثر یہاں بھی ہے اور لوگ اپنے بچوں کی تعلیم کے بارے میں فکر کرتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہاں بھی کوئی معیاری سکول اوپن ہوگا جو بچوں کی بنیادی ذہنی ضرورت کو پورا کرے گا۔