لیاری اسپتال میں مشینیں ناکارہ، ڈائیلیسس یونٹ بند ہو گئے

    March 11, 2018 11:20 pm PST
taleemizavia single page

کراچی: محکمہ صحت سندھ کے تحت چلنے والاٹیچنگ اسپتال لیاری جنرل اسپتال محکمہ صحت اور اسپتال انتظامیہ کی عدم دلچسپی کی وجہ سے مسائل سے دوچار ہے جب کہ 3 ماہ قبل لاکھوں روپے مالیت کی خریدی جانے والی دواؤں کی معیاد ختم ہوگئی۔

محکمہ صحت سندھ کے تحت چلنے والے لیاری جنرل اسپتال کی کارکردگی پر لیاری کے عوام نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست کی ہے کہ اسپتال کی صورتحال کا نوٹس لیاجائے،اسپتال کے انتظامی افسران کی من پسند تعیناتیوں کی وجہ سے اسپتال کا بیڑا غرق کردیا گیا۔

مریضوں کے لیے خریدی جانے والی لاکھوں روپے مالیت کی ادویات3ماہ میں ہی زائد المیعاد ہوگئیں، اسپتال میں زیرعلاج مریضوں کو دواؤں اورخوراک کی فراہمی بندکردی گئی،اسپتال میں گردے کے مریضوں کودی جانے والی ڈائیلسس کی سہولت بھی بند کردی،اس کی بنیادی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اسپتال کا آر او پلانٹ خراب ہے جس کی وجہ سے 15دن سے ڈائیلسس یونٹ بھی بندکردیا گیا ہے۔

اسپتال میں ڈائیلسس یونٹ بند کرنے سے گردوں کے مریضوں کو اذیت کا سامنا ہے،ڈائیلیسس کرانے آنے والے مریضوں کو نجی اسپتالوں یا ایس آئی یوٹی بھیجا جارہا ہے،اسپتال کے ذمے دار انتظامی افسران کے مطابق اسپتال کی مرکزی اسٹور اورکچن کی عمارت ایک این جی او کے حوالے کردی گئی ہے جبکہ تھیلیسیمیا کے بند مرکز پر اعلیٰ حکام کو دکھانے افتتاحی بینر آویزاں کردیا گیا ہے لیکن تھیلیسیمیا مرکز میں کوئی ڈاکٹر (ہیماٹالوجسٹ) اور مستند طبی عملہ موجود نہیں۔

تھیلیسیمیا مرکز کے لیے منگوائی جانیو الی کروڑوں روپے کی مشینری پڑے پڑے ناکارہ ہوگئی، اسپتال کا ٹیلی فون ایکسچینچ عرصہ دار سے خراب ہے جبکہ اسپتال میں کارڈک یونٹ میں انجیوگرافی، آنکھوں کے علاج کے لیے استعمال کی جانے والی فیکومشین، اینڈو اسکوپی مشین اور آنتوں کے مرض میں استعمال کی جانے والی کولون مشین بھی خراب پڑی ہیں،لیاری جنرل اسپتال کو 22کروڑ روپے دواؤں کا بجٹ ملتا ہے جس میں سے اکثر مریضوں کو دوائیں نہ ملنے کی شکایت رہتی ہے۔

اسپتال میں 500 بستر ہیں لیکن اسپتال میں زیرعلاج مریضوں کو خوراک کی فراہمی بھی معطل ہے، اسپتال میں10سال سے زیر تعمیر ٹراما سینٹر کا کام التوا کا شکار ہے اس طویل عرصے میں صرف4 منزلہ عمارت تعمیر کی گئی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *