ایران: اسرائیل کیلئے جاسوسی کرنیوالے یونیورسٹی اُستاد کو پھانسی

  • October 29, 2017 12:15 pm PST
taleemizavia single page

ویب ڈیسک

تہران میں جج نے ڈاکٹر احمد رضا کو پھانسی کی سزا دینے کے حکم پر دستخط کر دیے ہیں۔ احمد رضا پر اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کا الزام تھا جسے احمد رضا نے تسلیم بھی کیا۔ وہ آج کل ایران میں میڈیکل ریسپانس ٹو ڈیزاسٹر ایمرجنسیز کے موضوع پر یونیورسٹیز میں پڑھانے کے لیے آئے ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر احمد رضا سویڈن میں ڈیزاسٹر میڈیسن کا مضمون پڑھاتے ہیں وہ اٹلی، بیلجیئم میں بھی اس مضمون پر یونیورسٹیوں میں متعدد لیکچرز دے چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق احمد رضا میڈیکل ڈاکٹر ہیں اور وہ سٹاک ہوم میڈیکل یونیورسٹی سویڈن میں لیکچرر اور ریسرچ ایسوسی ایٹ ہیں۔

کمیٹی آف کنسرنڈ سائنٹیسٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ احمد رضا کی پھانسی کا فیصلہ واپس لیا جائے اُنہیں تہران یونیورسٹی میں ایم اے کے طلباء کو ڈیزاسٹر مینجمنٹ پڑھانے کے لیے مدعو کیا گیا تھا اور وہ اس سے پہلے بھی متعدد بار ایران میں پڑھانے کے لیے آچکے ہیں۔

احمد رضا پر قومی سلامتی کے خلاف غداری کا مقدمہ اگست میں شروع ہوا تھا اور اُن پر الزام تھا کہ وہ ایران کے خلاف اسرائیل کے لیے جاسوسی کا کام کر رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق احمد رضا کی اہلیہ نے تسلیم کیا ہے کہ ایران کی قومی سلامتی کے خلاف کام کرنے کے عوض اُنہیں پیسے، تعلیمی اداروں میں اہم عہدے اور ریسرچ پراجیکٹس سے نوازا جاتا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ احمد رضا نے دو ہزار چودہ میں ایران کے لیے جاسوسی کرنے سے انکار کیا تھا اور یورپین ممالک میں ایران کے جوہری پروگرام، بائیولوجیکل، ریڈیولوجیکل اور کاؤنٹر ٹیررازم پروگرامز کے لیے کام کرنے سے انکار کیا تھا۔

احمد رضا کے دو بچے ہیں جن کی عمر 5 سال اور 14 سال ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.