بھارت کےخلائی راز آئی ایس آئی کو بیچنے کا جعلی پلاٹ

    September 16, 2018 12:01 am PST
taleemizavia single page

ویب ڈیسک

انڈیا کے خلائی تحقیق کے ادارے اسرو کے ایک سرکردہ سائنسداں ، دو غیر ملکی خواتین اور پاکستان کی خفیہ سروس آئی ایس آئی۔ اسرو کے راکٹ پراجکٹ کا راز، یہ بالی ووڈ کی کسی سنسی خیز جاسوسی فلم کا ایک مکمل پلاٹ نظر آتا ہے۔ لیکن دراصل یہ انڈیا کی پولیس اور خفیہ سروس کا پلاٹ تھا جو جعلی نکلا۔

چوبیس برس قبل1994 میں کیرالہ کی پولیس اور خفیہ سروس نے اسرو کے ایک سرکردہ خلائی سائنسداں اور کرائیوجینک راکٹ پروجکٹ کے سربراہ ایس نامبی ناراینن کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

ان پر دو مالدیپ سے تعلق رکھنے والے دو خواتین کے توسط سے انڈیا کے خلائی پروگرام کے راز پاکستان کی خفیہ سروس آئی ایس آئی کو فروخت کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

چوبیس برس بعد سپریم کورٹ نے گزشتہ جمعہ کو ناراینن کے خلاف تمام الزامات اور جاسوسی کے سارے پلاٹ کو جعلی قرار دیا۔

عدالت عظمی نے حکومت کو انہیں پچاس لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ ‏عدالت نے کہا ہے کہ اس فرضی جاسوسی کے واقعے کے ذمہ دار پولیس افسروں اور خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے ۔

جاسوسی کا یہ سنسی خیر واقعہ کیرالہ میں سیاحت کے لیے آنے والی مالدیپ کی دو خاتون سیاحوں مریم رشیدہ اور فوزیہ حسن کی گرفتاری سے شروع ہوا۔ پولیس نے انہیں ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد ملک میں رکنے کے جرم میں گرفتار کیا تھا۔

تفتیش کے دوران پولیس کو مریم کی ڈائری سے اسرو کے ایک سائنسداں ڈی ششی کمارن کا ٹیلی فون نمبر ملا۔ ایک مہینے کے اندر پولیس نے مریم، فوزیہ، سائنسدان نمبی ناراینن، ڈی ششی کمارن اور روسی خلائی ایجینسی کے ایک ایجنٹ چندر شیکھر کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

ناراینن اور ششی کمارن پر اسرو کے خلائی راز مالدیپ کی دونوں خواتین کے توسط سے پاکستان کی خفیہ سروس آئی ایس آئی کو فروخت کرنے کا الزام لگایا گیا۔ مریم اور فوزیہ کو پاکستان کی خفیہ سروس کا ایجنٹ بتایا گیا۔ ملک میں سنسنی پھیل گئی۔ اسرو کے سائسندان حیران رہ گئے۔

اس معاملے کی سی بی آئی سے تحقیق کرائی گئیں۔ تفتیشی بیورو نے دو برس کے اندر 1996 میں اس کیس کو پوری طرح جعلی قرار دیا اور اس فرضی پلاٹ کے ذمے دار پولیس افسروں اور انٹیلی جنس بیورو کے اہلکاروں کے خلاف ایک رپورٹ حکومت کو بھیجی۔ سی بی آئی کی تفتیش اور رپورٹ کے باوجود ناراینن کو انصاف ملنے میں 24 برس لگ گئے ۔

تفتیش سے یہ بھی پتہ چلا تھا کہ مالدیپ کی مریم رشیدہ دراصل پولیس افسر کے پاس یہ بتانے گئی تھیں کہ ان کے پاس ٹکٹ ہونے کے باوجود وہ اس روز ہڑتال کے سبب واپس نہیں جا سکیں گی۔ پولیس افسر نے انہیں حراست میں رکھ کر جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ ان کی ڈائری سے اسرو کے سائسندان ششی کمارن کا جو فون نمبر ملا تھا وہ ان کی بیوی نے دیا تھا جو ایک ڈاکٹر ہیں اور جن کو مریم نے دکھایا تھا۔ ششی کمارن کرائيوجینک پروجکٹ کے سربراہ ناراینن کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

پولیس اور انٹیلی جنس بیورو کے بعض اہلکاروں کی وجہ سے ان سائندانوں کی زندگی تباہ ہو گئی۔ وہ 24 برس تک ‘دشمن کے لیے جاسوسی’ کرنے کے الزام کا داغ لیے پھرتے رہے۔ ان کے ساتھ ان غیر ملکی سیاحوں کے بارے میں بھی طرح طرح کی کہانیاں شائع کرائی گئیں اور انہیں مہینوں تک جیل میں بھی رکھا گیا ۔

ملک کے ایک بہترین سائنسداں ناراینن کے گزرے ہوئے دن تو نہیں لوٹائے جا سکتے لیکن ان اہلکاروں کو ہر حالت میں سزا ملنی چاہیئے جواس کے ‎ ذمےدار تھے۔ اور اس سے بھی اہم بات یہ کہ اس فرضی پلاٹ کا مقصد کیا تھا۔ ناراینن کی گرفتاری سے کرائیوجینک انجن کی تحقیق اور تیاری کم از کم دس برس پیچھے چلی گئی ۔ کہیں اس کا مقصد اس پراجکٹ کو نقصان پہنچانا تو نہیں تھا۔ اور اگر ایسا تھا تو اس کے پیچھے کون تھا؟