ہائر ایجوکیشن کمیشن بھی تو “9/11” کو بنا

    September 11, 2017 12:23 pm PST
taleemizavia single page

عامر اسما عیل

پاکستان کے آخری فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے دور میں میں اعلیٰ تعلیم کی نئی راہ متعین کرنے کا انقلابی پروگرام دو ہزار دو میں شروع ہوا۔ امریکہ کے شہر نیو یارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ کے ٹھیک ایک سال بعد پاکستان میں نائن الیون ہوا لیکن یہ نائن الیون تباہی کے لیے نہیں بلکہ اس ملک کی تمعیر کا تھا۔

پرویز مشرف کی ایماء پر نامور ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمن کی سربراہی میں ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان قائم ہوا جسے آج پندرہ سال مکمل ہوگئے آج ہمیں اپنے نائن الیون کو یاد کرنے کی ضرورت ہے کہ پندرہ سال پہلے کیا ہوا اور آج ہم اعلیٰ تعلیم میں کہاں کھڑے ہیں۔

ایچ ای سی سے پہلے یونیورسٹی گرانٹ کمیشن تھاجو پاکستان کی یونیورسٹیز کا مانیٹرنگ ادارہ تھا لیکن غیر موثر تھا۔ جب ایچ ای سی بنی تو ہماری جامعات میں ریسرچ کلچر کا نیا دور شروع ہوا، پبلک یونیورسٹیز کے ساتھ پرائیویٹ یونیورسٹیز کھلنے کا بھی آغاز ہوا۔ پاکستان کو ملنے والے قدیم کالجوں کو یونیورسٹیز کا درجہ دے دیا گیا۔

پی ایچ ڈی اساتذہ پیدا کرنے کے اہداف مقرر ہوئے، پی ایچ ڈی پروگرامز ریگولرائز ہونے لگے، پاکستان سے اپنے تحقیقی جرائد کا اجراء ہونے لگا، سائنس کی تعلیم میں دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں کو یورپ و امریکہ جا کر پڑھنے کے لیے سکالر شپس ملنے لگے گویا پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے میدان میں ایک انقلاب برپا ہوگیا۔

صرف چھ سال بعد ہی ملکی جامعات کا شمار دُنیا کی بہترین جامعات کی فہرست میں ہوا اور پاکستان عالمی سطح پر پہلی چار سو جامعات میں آگیا۔اس نئے ویژن پر سب سے زیادہ محنت ڈاکٹر عطاء الرحمن کی تھی جسے ایچ ای سی کی ٹیم نے عملی جامہ پہنایا۔

جامعات کے عالمی شماریات کے اہم جزو ، جامعات میں کی جانیوالی تحقیقات کے بین الاقوامی حوالے ،ان جریدوں کا معیار جن میں ان جامعات کی تحقیقات شامل ہوں ، ایجادات پر بین الاقوامی اسناد ، پی ایچ ڈی کرنیوالے طلباء کی تعداد،پی ایچ ڈی اساتذہ کا تناسب ،بین الاقوامی اعزازات او ر دیگر عوامل شامل ہیں ۔

ایچ ای سی نے ابتداء میں ہی اس پر کام شروع کر دیا تھا جس کے ثمرات ملنا شروع ہوگئے تھے۔

لیکن آمریت کا دور ختم ہوتے ہی 2008ء میں جمہوریت کے دور کے آغاز میں ہی جمہور دُشمن پالیسی کا آغاز ہوا اور صرف یہی نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم کے ساتھ حکومتی دُشمنی کا اُس وقت کھل کا اظہار ہوا جب ڈاکٹر عطاء الرحمن نے چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

اس استعفیٰ کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ یورپ، امریکہ، آسٹریلیا میں پی ایچ ڈی کے لیے جانے والے سکالرز کے وظائف کو حکومت نے بند کر دیا جس پر احتجاج کرتے ہوئے عطاء الرحمن نے استعفیٰ دے دیا لیکن حکومت نے ان کے استعفیٰ پر بھی کوئی دباؤ قبول نہ کیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے صوبہ سندھ کے شہر حیدر آباد کے شہری ڈاکٹر جاوید لغاری کو چیئرمین لگا دیا۔ وہ جیالے تھے اور بے نظیر بھٹو کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے تھے کیونکہ وہ محترمہ کے مشیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی بھی رہ چکے تھے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ایچ ای سی کا نیا چیئرمین پی پی پی کی جانب سے سینیٹر بھی رہے۔

آمریت کے بعد جمہوریت کا دور شروع ہوا تو ایچ ای سی کے مسائل بڑھنے لگے اور اسی جمہوری دور میں پاکستان کی اعلیٰ تعلیم میں ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا جب یہ انکشاف ہوا کہ متعدد پارلیمنٹرین کے پاس جعلی ڈگریاں ہیں اور ان ڈگریوں کی تصدیق اب ایچ ای سی کرے گا یعنی ایچ ای سی سے کلیئرنس ملے گی تو ڈگری اصل تصور ہوگی۔

جمہوری نمائندوں کی ایک ایک کر کے جعلی ڈگریاں پکڑی گئیں حتیٰ کہ سابق وزیر تعلیم کی بھی جعلی ڈگری پکڑی گئی۔ایک طرف جمہوری نمائندوں کی جعلسازی پر جگ ہنسائی ہوئی تو دوسری جانب اچھی خبر آئی کہ ٹائمز ہائر ایجوکیشن کی درجہ بندی میں پاکستان کا شمار دُنیا کی بہترین جامعات میں ہوا۔

ڈاکٹر جاوید لغاری کا دور تمام ہوا تو ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر مختار احمد کو چیئرمین تعینات کر دیا گیا۔ اُن کی تعیناتی کے بعد ایچ ای سی میں اندرونی طور پر اختلافات ہونے لگے حتیٰ کہ اُن پر یہ الزام بھی عائد ہوا کہ چیئرمین کی ڈگری مشکوک ہے۔ جیسے جاوید لغاری کی تعیناتی سیاسی وابستگی کی بنیاد پر تھی ایسے ہی ڈاکٹر مختار احمد کو بھی حکمران جماعت کی آشیر باد کی بنیاد پر یہ عہدہ مل گیا۔

ایچ ای سی کو اب اُس وقت بڑا جھٹکا لگا جب پیپلز پارٹی کی حکومت نے 2010ء میں آئین کی 18 ویں ترمیم میں 280آرٹیکل میں سے 102میں تبدیلی کر دی گئی اور نئے ادارے یعنی کمیشن برائے سٹینڈرڈز ان ہائر ایجوکیشن کاقیام عمل میں لانے کی منظوری بھی تھی جو سات سال بعد بھی روبہ عمل نہ ہوسکی اس کی بہت سی قانونی پیچیدگیاں ہیں جس پر سپریم کورٹ میں مختلف کیسز بھی دائر کیے گئے۔

اٹھارویں ترمیم میں جب ایچ ای سی کو ختم کرنے کا معاملہ آیا اور اعلیٰ کو صوبوں کے سُپرد کر دیا گیا تو یہ ایک نیا بحران تھا۔ ایچ ای سی کے فنڈز پر کٹوتی لگی، ایچ ای سی کے فنڈز روکے گئے، پی ایچ ڈی پروگرام متاثر ہوا، سکالر شپس رُکی گویا آٹھ سال میں ایچ ای سی کی گئی محنت کو زیرو کرنے کا حملہ کر دیا گیا۔ غالبا جمہوری حکمرانوں نے اپنی جعلی ڈگریوں کا بدلہ ایچ ای سی سے یوں لے لیا۔

معاملہ یہاں رُکا نہیں بلکہ اس کے خلاف ایچ ای سی کے بانی چیئرمین ڈاکٹر عطاء الرحمن سب سے پہلے عدالت گئے اور اس آئینی ترمیم کو چیلنج کر دیا۔ عدالت نے اپنے عبوری حکم نامہ میں ایچ ای سی کے حق میں فیصلہ سنایا اور صوبوں میں قائم کیے گئے ہائر ایجوکیشن کمیشنز کو بھی کالعدم قرار دیا گیا لیکن اس فیصلے پر مکمل طور پر آج تک عمل درآمد نہ ہوسکا۔

اب نیا تنازعہ جنم لینے لگا کہ ہائر ایجوکیشن کون کنٹرول کرے گا؟ وفاق یا پھر صوبے؟ اسی کمشکش میں سات سال گزر گئے اور ایک اور جمہوری حکومت اپنی مدت مکمل کرنے کو ہے لیکن یہ معاملہ حل نہ ہوسکا چنانچہ ہماری اعلیٰ تعلیم اب بھی اُس کشتی کی طرح ہے جو سمندر کی لہروں کی مرہون منت پر ہوتی ہے۔

پنجاب اور سندھ نے اعلی تعلیم کے فروغ اور صو بوں میں اعلی تعلیمی نظام کو مستحکم کرنے کیلئے صو بائی ہائیر ایجو کیشن کا قیام کیا۔ مگر صو بائی ہائیر ایجو کیشن کے قیام کے بعد اختیارات کی منتقلی میں وفاقی ایچ ای سی کا 2002ء کا آرڈیننس گلے کی ہڈی بن چکا ہے ، اس آرڈیننس کے مطابق وفاقی ہائیر ایجو کیشن جامعات کے قیام ، وائس چانسلرز کی تقرری اور مالیاتی امور کی خو د نگرانی کرے گا۔

اختیارات کی یہ جنگ اب ملک کی اعلیٰ تعلیم میں ساکھ کو متاثر کر رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر تباہی کی طرف لے کر جاری ہے۔ دو ہزار آٹھ سے پہلے جب پاکستان کی یونیورسٹیز کا شمار دُنیا کی بہترین یونیورسٹیز کی فہرست میں ہونے لگا تو آج نو سال بعد جب یہی ادارہ دوبارہ درجہ بندی کی فہرست جاری کرتا ہے تو ایک ہزار یونیورسٹیز میں پاکستان کی جامعات کی تعداد 7 سے کم ہوکر 4 ہو جاتی ہے۔

پاکستان جو اعلیٰ تعلیم کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومتی دور میں پھر مسلم لیگ نواز کے دور میں ترقی کا یہ پیہہ اُلٹا گھومنے لگا ہے۔

گزشتہ برس جب یونیورسٹیز کی عالمی درجہ بندی کی فہرست سامنے آئی تو پہلی چھ سو یونیورسٹیز میں ایشیاء کی سو یونیورسٹیاں شامل تھیں جن میں 21 کاتعلق چین،3سعودی عرب،2ملائیشیا ،8انڈیا،1ایران ،8تا ئیوان جبکہ 12کاتعلق ترکی سے تھا۔

درجہ بندی میں اکیڈمک اور ملازمین کی شہرت ،فیکلٹی طالب علم کی شرح ،بین الاقوامی طلباء کی تعداداور بین الاقوامی فیکلٹی کی موجودگی سمیت تحقیقی موادکی اشاعت کو مد نظر رکھا جاتا ہے ۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے متعدد بین الاقوامی ادارے مایوس کن رپورٹ پیش کرتے رہے ہیں جیسا کہ گلوبل کمپیٹیٹونس رپورٹ کے مطابق پاکستان اعلیٰ تعلیم کے میدان میں 140میں سے 124ویں نمبر پرہے جبکہ ہمسایہ ممالک بھارت 90،چین28 اور ایران 69 نمبر پر ہیں ۔

اب یہ انتہائی تشویش ناک ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کا بجٹ 90 ارب سے تجاوز کر گیا ہے اور ملک میں جامعات کی تعداد بڑھ کر 183 ہوگئی ہے لیکن اس کے باوجود گزشتہ برس ایچ ای سی نے صرف 48 فیصد اپنا ترقیاتی بجٹ خرچ کیا۔ اس وقت پنجاب میں 27 سرکاری یونیورسٹیز، 22 سب کیمپسز اور 24 پرائیویٹ یونیورسٹیز ہیں لیکن اس کے باوجود صوبے کو صرف 11 فیصد بجٹ ملا۔

اب پاکستان کو اس تعلیمی کشمکش کی حالت سے کیسے نکالا جائے؟

ایچ ای سی پاکستان اور صوبائی ایچ ای سی کے درمیان کیا لائزون ہوگا اس پر حتمی فیصلہ مشترکہ مفادات کونسل نے کرنا ہے اگرچہ اس میں سیاسی مصلحت کی بنیاد پر ہی فیصلہ ہوگا کیونکہ اس کونسل میں کوئی ماہرین تعلیم شامل نہیں جو اس اُلجھی گتھی کو سلجھائے جو خود اہل سیاست نے بڑی مہارت سے اُلجھائی ہے۔

ایک بات تو طے ہے کہ اگر حکومت تعلیم سے متعلق سنجیدہ ہے تو پھر ادارہ جاتی اپروچ کو واضح کرنا ہوگا کہ کس کے پاس کیا اختیار ہوگا وگرنہ اختیارات کی جنگ کبھی ختم نہیں ہوگی۔ پاکستان کو اگر عالمی جامعات کے مقابلے پر لانا ہے تو ہر سال دو ہزار طلباء کو بیرون ممالک دنیا کی بہترین جامعات میں تحقیق کیلئے بھیجا جانا چاہیے اور واپس وطن لوٹنے پر انکے شعبہ جات سے متعلق انہیں روزگار فراہم کیا جانا چاہیئے ۔

ملک کی چند مخصوص اور اہم قابل ذکر جامعات میں تحقیقی مراکز بین الاقوامی طرز پر بنانا ہونگے جہاں تحقیق کے کلچر کو عام کرنے میں مدد مل سکے اور سینکڑوں طلباء تحقیقی کام پر مگن رہیں ۔ جبکہ قومی سطح پر تحقیق کیلئے بھی مراکز قائم ہونے چاہئے جن پر اہم سہولیات بہم موجود ہوں تاکہ بین الاقوامی سطح پر سامنے آنے کیلئے بین الاقوامی طرز پر تحقیقی مراکز سے اس کمی کو بھی پورا کیا جاسکے جسکا سالانہ بجٹ ایک ارب سے زائد مختص کیا جائے۔

ارباب اقتدار کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ پاکستان میں اعلی تعلیم کے حصول کیلئے بیرون ملک سے طلباء کب آئیں گے کب ہمیں انکی جامعات میں تحقیق کے طلباء بھیجنے کی ضرورت نہیں ہوگی انہیں سوچنا ہوگا کیونکہ تعلیم ہی قوموں کی ترقی کا ضامن ہو اکرتی ہے ۔ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اس شعبہ میں ملکی مفاد اور بقا کی خاطر سیاست نہیں کریں گے۔


Amir Ismail

عامر اسماعیل سماجی کارکن ہیں اور وہ آج کل انٹر یونیورسٹیز کنسورشیم فار پرموشن آف سوشل سائنسز ان پاکستان کے کوارڈینیٹر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *