انسانی جسمانی ساخت کی تبدیلی کا سائنسی تجربہ

    May 11, 2017 12:55 pm PST
taleemizavia single page

ڈاکٹر عطاء الرحمن

ہماری تمام جینٹیکس معلومات ہمارے جین میں محفوظ ہوتی ہیں۔ ایک چھوٹے سے خوردبینی ہار کا تصور کریں جس میں چار رنگوں کی تین بلین موتیاں پروئی ہوئی ہیں دراصل چار اقسام کے سالمے ہیں جن کو نیو کلیک ایسڈ کہا جاتا ہے۔

ان کی ترتیب ہماری تمام خصوصیات، قد، رنگ، آنکھوں کا رنگ ہمارے دل اور دماغ کی ساخت کا تعین کرتی ہیں۔ ان موتیوں کی ترتیب کو جینیاتی کوڈ کہا جاتا ہے۔

انسانوں میں پہلی دفعہ یہ کوڈ 2007ء پروفیسر جم واٹسن کا معلوم کیا گیا تھا۔ اس میں کئی لاکھ ڈالر کا خرچ آیا اور اس کو مکمل کرنے میں دو سال لگ گئے تھے۔ اب اس کام کے لیے تیز رفتار مشینیں آگئی ہیں جن کی مدد سے یہ کام صرف دو ماہ کے اندر محض چالیس ہزار ڈالر سے ہوجاتا ہے۔

اس حوالے سے امپریل کالج لندن کے سائنس دانوں نے ایک نئی پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے ایک چھوٹی سی مائیکرو چپ تیار کی ہے جو کہ صرف 50 نینو میٹر طویل ہے۔ اس کے درمیان میں ایک سوراخ کیا گیا ہے جب سالمیاتی ہار اس انفرادی نیو کلیک ایسڈ سے گزارا جاتا ہے تو برقی رو میں آنے والی تبدیلیوں سے اس کی خصوصیات کی شناخت کر لی جاتی ہے۔

اس کی رفتار حیران کن حد تک تیز ہے، ایک پورے جینوم کو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں پڑھ لیا جاتا ہے۔ چنانچہ اس کی رفتار ایک کروڑ سالمے فی سیکنڈ ہے جو کہ اس سے قبل اختیار کیے گئے طریقوں سے حیران کن حد تک زیادہ تیز رفتار ہے۔

ہم بوڑھے کیسے ہوتے ہیں؟ کیا ہم بوڑھے ہونے کے عمل کو سست کر کے زندگی کے دورانیہ کو بڑھا سکتے ہی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو طویل عرصے سے طبی اور حیاتی کیمیا دانوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتے آرہے ہیں۔ بڑی عمر کے افراد میں 50 سے 70 بلین خلیے روزانہ مر جاتے ہیں۔ ہر خلیے میں موجود عمل یعنی خلیاتی موت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ 8 سے 14 سال کے بچوں میں 20 سے 30 ارب خلیے روزانہ ہلاک ہوجاتے ہیں اور اتنے ہی نئے بن جاتے ہیں۔

ایک سال کے اندر ان کی مقدار بچے کے جسم کے وزن کے برابر ہو جاتی ہے۔ واقعی حیرت انگیز ہے! سائنس دان اس اشارے یعنی سگنل کے بارے میں جاننے کی کوشش کر رہے ہیں جو خلیے کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ اب تقسیم کے ذریعے بڑھنے کا عمل روک دو اور ہلاک ہو جاؤ۔

یہ بھی پڑھیں؛ ڈاکٹر عبد السلام اور خدائی ذرہ کی دریافت

اس عمل میں مداخلت کے ذریعے خلیوں کو زیادہ لمبے عرصے زندہ رکھا جا سکتا ہے۔ جس کی وجہ سے زندگی کا دورانیہ بڑھ جائے گا اس حوالے سے طبی دوائیں تیار کی جارہی ہیں جو عمر رسیدگی ککے عمل میں مداخلت کر کے طویل اور صحت مند زندگی کو ممکن بنا سکیں گی۔

زندگی بڑھنے کے عمل کی ایک اور وجہ ہمارے ڈی این اے پر یو وی روشنی اور دوسرے اقسام کے شعاعی اخراج سے ہونے والے نقصانات ہیں۔ یہ ڈی این اے میں ساختی نقص پیدا کر دیتے ہیں۔ خوش قسمتی سے ڈی این اے کے نقصان زدہ حصوں کی بعض خامروں (اینزائمس) کی مدد سے مرمت کی جاسکتی ہے۔

تاہم جیسے جیسے ہماری عمر بڑھتی ہے مرمت کا عمل غیرموثر ہوتا جاتا ہے جس کی وجہ سے ٹوٹے پھوٹے ڈی این اے جمع ہونا شروع ہوجاتے ہیں جو آخر کار بڑھاپے اور موت کا باعث بن جاتے ہیں۔

آکسیجن جو ہماری زندگی کے لیے انتہائی ضروری ہے اپنی متعاعمل شکل (آکسیجن ریڈیکل) میں عمر رسیدگی میں اہم کردار ادا کرتی ہےیہ ہمارے ڈی این اے کو نقصان پہنچا کر عمر رسیدگی کے عمل کو تیز کرتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بعض (ضد تکسیری عمل) جو کہ سرخ انگوروں اور بعض سبزیوں میں پائے جاتے ہیں ہمارے لیے بہتر سمجھے جاتے ہیں۔ سائنس نے بہتر طبی نگہداشت کے ذریعے دُنیا کے اکثر خطوں میں زندگی کے دورانیہ کو سو سال تک بڑھا دیا ہے تاہم یورپ، چین کوریا وغیرہ میں بوڑھے لوگوں کی بڑھتی ہوئی آبادی اور پیدائش کی شرح میں کمی کی وجہ سے نوجوان آبادی میں کمی پریشانی کا سبب ہے کیونکہ اس کی وجہ سے تخلیقی کارکنان کا قحط واقع ہورہا ہے اور صحت کے نظام پر اخراجات کی وجہ سے مالیاتی بوجھ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

جینیاتی طور پر انسان اور بندر یکساں ہیں انسانی جینوم کو بنانے والے تین ارب حروف میں سے 2.985 ارب ایک جیسے ہیں ان کا فرق صرف ایک فیصد جینوم کا بنتا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بندر ظاہری شکل، ذہانت، بولنے کی صلاحیت سے محرومی یا ہاتھوں کی بناوٹ وغیرہ کے لحاظ سے ہم سے بالکل مختلف نظر آتے ہیں۔ اکثر جینیاتی تبدیلیاں عمومی نوعیت کی ہیں مگر بعض سلسلے بہت اہم ہیں۔ ڈی این اے کا اور سلسلہ ہمیں الفاظ تشکیل دینے، نشانہ ہضم کرنے اور سنجیدہ آلات کے استعمال میں اپنے ہاتھ اور انگلیوں کو استعمال کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔

بعض جین ہمارے جارحانہ مزاج کے ذمہ دار ہیں یہی وجہ ہے کہ انسان کے سوا کوئی دوسرا جانور اپنے ہم نسلوں کو ہلاک نہیں کرتا۔ ہماری تاریخ میں موجود جنگیں اس بات کا ثبوت ہیں۔ انسانی جینوم کی پیچیدگی سے سلجھنے اور جینوم کے ان حصوں کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے بعد جو کہ غصے، یا جارحانہ مزاج میں حصہ دار ہوتے ہیں جارحیت پیدا کرنے والے جین کے افعال کا بند کرنا ممکن ہوگیا ہے جس سے انسان زیادہ خوبیوں کا حامل ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں؛ آدم سمتھ معاشی لبرل ازم کا بانی

بعض لوگ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ جارحیت پسند ہوتے ہیں۔ ان کی انتہا یہ ہوتی ہے کہ اس قسم کے رجحان انہیں مجرمانہ سرگرمیوں کی جانب لے جاتے ہیں۔ یہی حال جانوروں کا ہے کہ بعض جانور اپنی اندرونی خصوصیات کی وجہ سے گھریلو طور پر سدھائے نہیں جا سکتے۔

ان جانوروں میں بھیڑیا، لومڑی، لنگور، زیبرا، چیتا، گینڈا، افریقی بھینس اور دوسرے جانور شامل ہیں۔ 1970ء میں روس میں ادارہ برائے علم الخلویات اور جینیات میں ایک دلچسپ تجربہ کیا گیا۔

چوہوں کے دو گروپ ایکے بعد دوسری نسل سے لے کر جارحانہ اور سدھانے والی خصوصیات کے حوالے سے علیحدہ کیے گئے اس قسم کے بار بار دہرائے جانے والے انتخاب کے 30 سال گزرنے کے بعد دونوں گروہوں نے حیران کن مختلف رویوں کا اظہار کیا۔ سدھانے والے گروپ نے سدھائے جانے کی انتہائی صلاحیت کا اظہار کیا جب کہ جن کی جارحانہ مزاج کے حوالے سے نشوونما کی گئی تھی وہ انتہائی جنگلی اور غضب ناک ثابت ہوئے اس سے یہ بالکل واضح ہوتا ہے کہ اس کے ذمہ دار بعض جین ہیں۔

بیس مئی 2010ء میں سائنس کی دُنیا میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا جب کریگ وینٹر اور اس کے ساتھیوں نے پہلے مصنوعی، خود سے نقش ثانی بنانے والے جراثیمی خلیے کی پیدائش کا اعلان کیا اس انکشاف نے زندگی کی نوعیت کے حوالے سے بنیادی سوالات اُٹھائے۔

یہ حیران کن پیش رفت صنعتی انقلاب اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب سے زیادہ اہم ہے۔ پہلا مصنوعی خلیہ بنانے کے بعد جس کو مکمل طور پر مصنوعی جنیوم سے کنٹرول کیا گیا ہے سائنس دانوں کو اُمید ہو چلی ہے کہ وہ اس طریقہ کار کو استعمال کر کے جراثیمی خلیے بنا لیں گے اور اس طرح بائیو فیول، ادویات سازی اور دوسرے کار آمد کیماوی مواد تیار کر سکیں گے۔

ایک مصنوعی خلیے کی تیاری کے لیے سائنس دانوں نے درحقیقت کیا کیا؟ کیا کوئی بھی قدرتی ڈی این اے استعمال نہیں ہوا؟ جس ڈی این اے کی تالیف کرنا تھی اس کا ڈیزائن کمپیوٹر کے ذریعے تیار کیا گیا اور بنیادی تعمیری یونٹس کو کامیابی سے ایک خلیے میں جمع کیا گیا جو کہ لمبائی میں لاکھوں یونٹس (نیو کلیک ایسڈ) پر مشتمل تھے۔

جب اس کو ایک بیکٹیریا کے خالی خلیے میں داخل کیا گیا تو مصنوعی جسم نے جراثیمی خلیے کا کنٹرول حاصل کر لیا اور پھر نقش ثانی کے عمل کے ذریعے اس خلیے کی کروڑوں نقول تیار ہوگئیں دوبارہ بننے کے عمل کی صلاحیت زندہ اجسام میں انتہائی حساس طریقہ کار ہے۔

یہ بھی پڑھیں؛ پاکستان، مسلمان اور علم کی ملکیت کا مبالغہ

ہمارے لیے یہ بات سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ ہم صرف شکل تبدیل کر سکتے ہیں مثال کے طور پر اگر ہم کاغذ کا کوئی ٹکڑا جلاتے ہیں تو اس کے نتیجے میں بننے والی راکھ، کاربن ڈائی آکسائیڈ، پانی کے بخارات اور دوسری گیسوں میں تبدیل ہوجاتی ہے اور ان سب کا اگر وزن کیا جائے تو ان کا مجموعی وزن کاغذ کے اصل وزن کے برابر ہوگا۔

ہم اس صورت میں صرف کاغذ کی شکل کو راکھ اور گیسوں میں تبدیل کر پاتے ہیں بالکل اسی طرح کاغذ کی تیاری کا عمل بھی صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب لکڑی کا گودا اور دوسرے اجزاء کاغذ میں تبدیل کرنے کے لیے موجود ہوں۔

اب سوال یہ کیے جارہے ہیں کہ یہ کام ہمیں نئے جانوروں اور پودوں کی تیاری سے کہاں تک لے کر جائے گا؟ کیا ہم ایسے عفریت تیار کرنے جارہے ہیں جو ہمیں یا انسانیت کو تباہ کر دیں گے یا پھر مصنوعی حیاتی اجسام کی تیاری کے ایک نئے انداز سے فائدہ پہنچائے گا؟ مصنوعی حیاتیاتی کی ترقی ہماری آنے والی زندگیوں پر لامتناہی اثرات مرتب کرنے کا باعث ہوگی۔


ata ur rehman

ڈاکٹر عطاء الرحمن ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے سابق چیئرمین ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *