پاکستان، مسلمان اور علم کی ملکیت کا مبالغہ

  • 943 Views
  • April 2, 2017 10:42 pm PST

pag1-image
دریافت اور ایجاد کے لیے آزادی فکر اور آزادی استدلال کی ضرورت ہے پاکستان میں دونوں ناپید ہیں

ڈاکٹر مبارک حیدر

مغالطے اور مبالغے کی ایک نمائندہ شکل وہ دعویٰ ہے جو آج کے ترقی یافتہ علوم کے بارے میں ہمارے اکثر علماء اور دانشوروں کے منہ سے سنا جاتا ہے۔ اقبال نے تو اتنا کہا؛

مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے یہ نہیں بتایا کہ علم کے یہ موتی کس عمل کے نتیجے میں یورپ جاپہنچے اور یہاں کیوں نہیں رہے؟ یہ دعویٰ عام ہوگیا کہ جدید دنیا کے علوم ہمارے آباؤ اجداد نے ایجاد کیے۔ مغرب والے ہم سے سیکھ کر ہم پر چھا گئے ہیں۔ مغرب والے ہمارے آباء کے علوم چرا کر لے گئے، مغرب والوں نے ہمیں علم سے محروم کر دیا۔

مغرب والوں کی سازش کی وجہ سے ہم پیچھے رہ گئے اور وہ آگے نکل گئے۔ مغرب والوں نے ہمیں تقسیم کر دیا اور سب سے دلچسپ یہ دعویٰ کہ جدید علوم گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ ہمیں صرف وہ علم حاصل کرنا چاہیے جو ہمارے مذہبی علماء کی نظر میں صحیح ہے۔

ہم خود سے یہ سادہ سوال نہیں پوچھتے کہ ہمارے آباء نے فلسفہ، ریاضی، علم، کیمیاء، علم طبیعات، علم فلکیات اور علم طب یا علم تاریک میں جو کام کیا وہ بعد کی نسلوں میں ہم نے کیوں نہیں سیکھا؟ ان علوم میں عرب اور دوسرے مسلم مفکرین کا کام نوویں صدی عیسوی سے بارہویں صدی عیسوی کے آواخر تک سامنے آیا پھر رُک کیوں گیا؟ اہل مغرب تو اٹھارہویں صدی سے پہلے دُنیا کو بنانے، بگاڑنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، پھر تیرہویں صدی کے آتے آتے کیا ہوا کہ ہم اُستاد عالم کے رتبے سے اُتر کر بکریاں چرانے لگ گئے۔

اگر دُنیا نے ہمارے دادا کی یونیورسٹی سے تعلیم پائی تو ہمیں دادا کی یونیورسٹی میں داخلہ لینے سے کس نے روکا تھا جبکہ ہمارے بادشاہ دُنیا کے اکثر علاقوں پر حکمران تھے اور 650ء سے 1750ء تک ہمیں روکنے والا کوئی نہ تھا۔

پھر ایسا کیوں ہے کہ ہمارے دادا سے علم حاصل کرنے والوں کا علم ہمیں گمراہی لگتا ہے۔ اور ایسا کیوں ہے کہ یہ مغرب جو ہمارے دادا کے علم کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتا ہمیں دُشمن کیوں سمجھتا ہے یا ہم اسے دُشمن سمجھتے ہیں؟

کیا اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ مغرب نے ہماری سرزمینوں پر غلبہ حاصل کیا، لہذا وہ مستقل دُشمن قرار پایا۔ اگر دُشمنی کا معیار یہی ہے تو پھر ان گنت واقعات ایسے بھی ہیں کہ مسلمانوں نے مسلمانوں کے علاقے فتح کیے اور ان پر حکومتیں قائم کیں۔ مسلمان ایک دوسرے سے جنگیں لڑتے رہے تو کیا یہ دُشمنی کی مستقل بنیاد ہے اور کیا علم سے نفرت کی وجہ کافی ہے کہ علم والے نے ہمارے اُوپر حکومت کی ہے۔

حقیقت اس کڑوے سچ میں ہے کہ خود ہمارے بزرگوں نے ان عظیم الشان مسلم سائنسدانوں اور مفکروں کو کام کرنے سے روک دیا جن کے سنے سنائے ناموں کو دُہرا کر ہم فخر سے گال پھلا لیتے ہیں۔ ان مفکروں میں الفارابی، الخوارزمی، البیرونی، ابن سینا، عمر خیام، ابن حسن بن حیثم جو جدید آپٹکس اور کیمرہ کے بابا آدم ہیں، جابر بن حیان، ابن عربی، ابن رُشد، کندی اور کتنے ہی شاندار لوگ جنہوں نے جدید سائنس، علم فلکیات، ریاضی، فلسفہ اور طب میں اپنے پیش رو یونانیوں اور اہل ہند سے سیکھا اور پھر ان علوم کو نئی بلندیاں عطاء کیں۔

جن سے اہل یورپ نے سیکھا اور بجا طور پر کہا جاتا ہے کہ یورپ میں تحریک احیاء علوم ان اساتذہ کے بغیر ممکن نہیں تھی لیکن ان اساتذہ میں شاید ہی کوئی ایسا بچا ہو جسے کفر کے فتوؤں، دھمکیوں اور جسمانی اذیتوں کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو۔ اس درد ناک صداقت سے کم لوگ واقف ہیں کہ ان میں سے بہت سے لوگوں کی بیش قیمت کتابیں دینی علماء کے فتوؤں کی روشنی میں جلا دی گئیں۔ اور تیرہویں صدی کے آتے آتے یہ عظیم علمی روایت بنیاد پرستی کے ڈھیر تلے دب کر خاک ہوگئی۔ الفارابی 870ء میں پیدا ہوا اور ابن رُشد 1198ء میں فوت ہوا۔ لیکن علم کا یہ سفر پہلے ہی رُک چکا تھا۔ ہلاکو خان نے 1256ء میں بغداد پر حملہ کر کے اس رُکی ہوئی تہذیب کو سزا دے دی۔ جب فکری آزادیاں سلب کی جاتی ہیں تو پھر قوموں کو اس کی سزا ملتی ہے اور ترقی سے تنزل کا سفر برق رفتاری سے طے ہوتا ہے۔

اُندلس میں مسلم حکومت کے سبب ان شاندار علوم کے کچھ حصے یورپ کے علم دوستوں تک پہنچے جسے ارتقاء انسانی کا ذریعہ بننے والے اہل فکر نے اس وقت بھی سینے سے لگائے رکھا جب اُندلس میں مسلم تہذیب نے نقوش مٹانے کے لیے عیسائی انتہا پسند، مسلمانوں کے علم کو کفر کا درجہ دے کر جلا رہے تھے۔ ادھر بغداد میں ان علوم کی جو شکلیں بچ گئی تھیں وہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو چکی تھیں۔

چنانچہ ہلاکو خان نے 1256ء میں جب بغداد کو تاراج کیا تو بغداد کی مساجد اور گلیوں میں اس قسم کے موضوعات پر مناظرے ہوتے تھے کہ الضالین میں “ض” کی ادائیگی کرتے وقت زبان کس پوزیشن میں رکھنا شرعی طور پر درست ہے۔ اور کہتے ہیں کہ ان مناظروں کے بعد مسلم عوام گلیوں میں دیر تک تلواروں سے لڑتے نظر آتے تھے۔ معلوم نہیں اس میں کتنا مبالغہ ہے لیکن بہرحال سچ ہے کہ مسلم اُمہ کو اپنے علوم سے کسی غیر نے نہیں اس کے اپنے دینی بزرگوں نے الگ کیا۔

علم کے ساتھ ہونے والا یہ سلوک وسطی زمانوں تک ہی محدود نہیں۔ زمانے بدلے تو پھر مسلمانوں کے ہاں روشن ذہن اُبھرے لیکن ہر ایک کے ساتھ وہی سلوک ہوا جو وسطی زمانوں کے ان شاندار ذہنوں کے ساتھ ہوا تھا۔ جدید دور میں گرچہ سائنس کے خالص علمی مضامین میں ریسرچ اور ایجاد کے میدان میں ہمارے ہاں بہت کم کام ہوا ہے۔ تاہم علم و سیاست میں بہت سے شاندار رہنما پیدا ہوئے ہیں۔

تاریخ عالم کا ایک سبق یہ ہے کہ قوموں کے عروج و زوال میں فیصلہ کُن کردار انسانی وسائل کا ہوتا ہے۔ انسانی وسائل کی نشوونما اور معاشرے میں اس کا عمل دخل اگر صحیح رستوں پرچل نکلے تو معاشرے سنور جاتے ہیں، نہیں تو برباد ہو جاتے ہیں۔ فوجی اعتبار سے تاتاریوں نےدُنیا کو جس رفتار سے تسخیر کیا وہ مسلمانوں سے کہیں تیز تھی۔ لیکن انسانی وسائل کی جو نشوونما مسلم فاتحین کی پشت پر تھی وہاں نہ تھی تو فرق دیکھیں؛

مسلمانوں نے صدی پر محیط حکومت کی جبکہ تاتاری آئے اور گئے وہ بغداد کو لوٹ کر بھی قائم نہ رہ سکے جبکہ مسلم معاشرہ لُٹ کر بھی آباد رہا۔ اگر مسلمانوں نے اپنے سائنسدانوں اور مفکروں سے فائدہ اُٹھایا ہوتا تو شائد آج تاریخ کچھ اور ہوتی۔

انسانی وسائل سے کیا مُراد ہے؟ انسانی وسائل اس استعداد کو کہتے ہیں جو افراد کو علم اور تجربہ سے حاصل ہوتی ہے اور معاشرہ کی اجتماعی زندگی کے کام آتی ہے۔ یہ علم انسانی زندگی کے ہر طرح کے معاملات میں ترقی کرتا ہے جس میں معاشرت سے لے کر ماحولیات اور کائنات کے علوم تک سب کُچھ شامل ہے۔

طاقت ور معاشرے اپنی زندگی کے ہر شعبے میں ایسے شاندار افراد پیدا کرتے ہیں جو اس اعلیٰ ترین ذہنی صلاحیت کے مالک ہوں، سیاسیات سے لے کر مجرد علوم تک، فلسفلہ سے لے کر ٹیکنالوجی تک، سماجی زندگی سے متعلق ہر شعبہ میں اعلیٰ معیار کا حصول صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ افراد اپنے کام کو ہر دوسرے معاملہ پر فوقیت دیتے ہوں۔

پھر دریافت اور ایجاد کے کُچھ اور تقاضے ہوتے ہیں اس کے لیے آزادی فکر اور آزادی استدلال کی ضرورت ہوتی ہے۔ گھٹن اور پاپندی اور طے شدہ ضابطوں کی اطاعت انسانی فکر کو ایجاد کی راہ پر جانے ہی نہیں دیتی۔

وسطی زمانوں میں مسلم اہل علم جب یونان کے علوم سے باخبر ہوئے تو اُنہیں محسوس ہوا کہ منطق اور فلسفہ سے لے کر معاشرت اور سیاست تک ہر طرح کے افکار کو دلیل کی کسوٹی پر پرکھنا اور عملی ٹیسٹ سے گزارنا ضروری ہے۔ عباسی دور میں فکر و نظر کی تھوڑی سی آزادی نے انہیں مختلف شعبوں میں اپنے وقت کے بہترین معیاروں تک پہنچا دیا۔

مسلم اقوام کی پچھلی ایک صدی کی جدوجہد آج ایک منتشر ماضی کی حالت میں ہے۔ حتیٰ کہ حالت یہاں پہنچی ہے کہ مسلمانوں کی نئی نسل انسانی وسائل کی دوڑ میں رضا کارانہ طور پر الگ ہوگئی ہے۔ علم کے خاص شعبے میں جس کے پاس اگر کوئی ملکہ ہے تو وہ ترقی یافتہ اقوام کی شہریت اختیار کر رہے ہیں، وہاں ملازمتیں ڈھونڈ رہے ہیں۔

علم کی ملکیت اور علم کی تعریف کے مغالطے کیا کیا ہیں اور کیسے کیسے ان مغالطوں نے مسلم ذہن کو متاثر کیا ہے کیسے دین کے نام پر دُںیا کے معاملات کو شرمسار کر دیا گیا ہے۔ اس مبالغہ اور مغالطہ سے ایک کرخت اور متکبر مذہبی طبقے نے جہاں اپنی بالا دستی قائم کی وہیں پر سیاسی اشرافیہ نے بھی مضبوطی پکڑ کر اس سماج کے جڑوں میں پیوست ہوگیا۔


Mubarak Haider

مبارک حیدر نے گارڈن کالج راولپنڈی سے انگریزی میں ایم اے کر رکھا ہے اور پھر اسلامیہ کالج لاہور سے وابستہ ہوگئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اُنہیں لیبر ونگ کا سربراہ بھی مقرر کیا۔ وہ تہذیبی نرگسیت اور مبالغے مغالطے کتاب کے مصنف بھی ہیں۔

1 thought on “پاکستان، مسلمان اور علم کی ملکیت کا مبالغہ”

  1. مبارک صاحب بڑامعقول تجزیه ہے المیه تویه ہے که ہمارےہاں بڑے جدیداداروں میں میں بہی تحقیق وتجزیه کے بجاۓ لگے بندہے تصورات پرتیرمارے جاتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *