اسلامی دنیا میں سائنس کا مستقبل کیا ہوگا؟

    January 22, 2017 6:30 pm PST
taleemizavia single page

طیبہ چوہدری

سائنس کا خوف خاص طور پر جب سائنس کو صرف اور صرف دنیا کے مسائل کے لئے مورد الزام ٹھہرایا جاتاہے بلاجوازہونے کے باوجود عام ہے ۔ اسلامی دنیا کے کچھ حصوں میں مذہب اور سائنس کے درمیان ناقابل تردید تناؤ پایا جاتا ہے جس کو سامنے رکھ کر اس کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

اسلامی ممالک میں مخالف سائنسی رویوں کو تلاش کرنا بہت آسان ہے جو کہ اب مکمل طور پر اسلامی وسائل کے مفہوم کے ساتھ ڈیزائن کیےگئےہیں پھل پھول رہے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ قرآن کریم نے بگ بینگ، ثقب اسود(بلیک ہول) اور مقداریہ آلاتیات کی پیش گوئی کی۔

مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے مسلمانوں نے جدید سائنس کو ایک سیکولر، لادین، مغربی تعمیرسمجھا اور مسلمان علماء کی پچھلے ایک ہزار سال پہلے تک انجام دی گئی شاندار خدمات کو بھول گئے ہیں ۔ وہ سائنس کو مذہب سے الگ کرنے کے قابل نہیں ہیں چنانچہ، جدید سائنس کو لاتعلق یا اسلامی تعلیمات کے لحاظ سے غیر جانبدار کے طور پر نہیں دیکھتے۔

جانیئے؛ ڈاکٹر عبد السلام نوبل انعام کیسے جیتا

بہت سے مسلمان آج یہ تصورکہ’ سائنس اور مذہب ہم آہنگ ہیں ‘کو مکمل طور پر مسترد کر تے ہیں دراصل عالم اسلام اور مغرب کے درمیان کشیدگی اور تقطیب کی فضا موجود ہے یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ بہت سے مسلمان نفرت کناں ہوتے ہیں جب مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے انہیں ثقافتی یا عقلی طور پرپست قرار دیا جاتا ہے اورسائنسی کامیابیوں کا تذکرہ آتا ہے۔

مسلمانوں اور غیر مسلموں کو اس وقت کی یاد دلائی جائے جب اسلام اور سائنس ایک بہت ہی مختلف دنیا میں گمان غالب نہ تھے تو یہ سائنس کے لئے ایک بار پھرسے دنیا کے اس حصے میں پھلنے پھولنے کے لیے اہم ہے ۔

اس وقت، دنیا میں ارب سے زائد مسلمان ہیں جن میں ‘کچھ دنیا کی دولتمند قوموں میں سےہیں، کچھ غریب ترین اور کچھ جو مغرب کے مقابلے میں مسلسل ترقی کر رہے ہیں’ شامل ہیں۔ ان ممالک کے رہنما سمجھتے ہیں کہ اقتصادی نمو، فوجی طاقت، اور قومی سلامتی کا انحصار بنیادی طور پر ٹیکنالوجی کی پیش قدمی پر ہے۔

یہ بھی پڑھیں؛ پاکستان کا تعلیمی ڈھانچہ کب اور کیسے بدلا گیا

حتٰی کہ’ ہم اکثر سائنسی تحقیق میں اجتماعی کوششوں کی ضرورت کا بیان سنتے ہیں اور اس کے باوجود یہ صورت حال ہے کہ پچھلے دو عشروں کے دوران اسلامی دنیا نے اپنے جی ڈی پی کا 0.5 فیصد سے بھی کم تحقیق و ترقی پر خرچ کیا جبکہ اسکے مقابل 2.5 فیصد جی ڈی پی ترقی یافتہ دنیا میں سائنسی تحقیق پر خرچ کے ساتھ پایا گیا ۔

اسلامی ممالک میں ایک ہزار آبادی کے مقابلے میں دس سے بھی کم سائنسدان، انجینئرز اور تیکنیکی ماہرین ہیں جبکہ ترقی یافتہ دنیا میں یہ تناسب 140 کے قریب ہے۔

الکندی، الخوارزم، ابن سینا اور ابن الخیام اور ان کے فائدہ مند سائنسی اور علمی ورثے کو آج بھی رہتی مسلم دنیا میں پسند کیا جاتا ہے، اور کس طرح موجودہ قدرتی دنیا کی تفہیم میں کوئی چھوٹا سا حصہ عربی سائنس کی اعانت کے لیے دیا جاتا ہے، توفخر کا احساس بتَدریج ا ذہان میں بٹھایا جائے جو سائنسی چھان بین اور جانچ کی اہمیت واپس وہاں تک جوڑ دے جہاں سے یہ تعلق رکھتا ہے ۔

جانیئے؛ ہنزہ میں شرح تعلیم کیسے سو فیصد تک پہنچی

ایک معروف پاکستانی طبیعیات دان، پرویز ہود بھائی نےاس موجودہ مسئلے پر روشنی ڈالی ۔ انہوں کہا کہ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں اسے جن رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا وہ بہت سے پاکستانی پبلک سیکٹر اداروں میں عام ہیں ۔ قائد اعظم یونیورسٹی میں کوئی رونمائی(کتابوں کی دکان،بک شاپ)نہیں لیکن اس کیمپس پر کئی مساجد ہیں۔

یہ اسلامی دنیا میں تحقیق اورغور کی مشہورومعروف یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے اسکا موازنہ المامون کا کتابوں کے ساتھ اور وسطی بغداد، قاہرہ اور قرطبہ میں کئی حیرت انگیز لائبریریوں سے جنون کے ساتھ کریں ۔

یہ ایک صریح غلطی ہوگی کہ اسلامی دنیا میں سائنسی ترقی کی کمی کے لئے مذہبی قدامت پسندی کو ایک طرف علیحدہ کیا جائے ۔پرانے انتظامی امور سنبھالنے والوں اور نوکر شاہی(بیوروکریسی) کا ‘ کافی حد تک یہ کہنا ہے کہ بہت سے اسلامی ممالک اپنے نو آبادیاتی قابضین سے وجودمیں آئے ہیں اور ابھی تک سیاسی عزم کی شدید کمی، کرپشن سے نمٹنے اور مکمل فیل اور خستہ تعلیمی نظام اور اداروں کی وجہ سے تبدیل نہیں کیے گئے۔

یہ پڑھیں؛ یو ای ٹی کے خوش قسمت مُردے

سائنسی محققین کی ،جدید دور کے مطابق ٹیکنالوجی،تازہ ترین خبروں، اعلیٰ سازو سامان اور سیاسی بیان بازی سے کہیں زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔ اسلامی دنیا میں سائنسی ثقافت کی دوبارہ تعمیر کرنےاور اسے عروج بخشنے کے لئے صرف پیسے کی وسیع مقدار کافی نہیں ہو گی۔ اس کے علاوہ، الہیات سے سائنس کی ایک واضح علیحدگی کو یقینی بنایا جائے۔

ایک سائنسی ثانیہ راتوں رات نہیں ہو گا اور نہ صرف سیاسی عزم بلکہ درسی آزادی اور سائنسی طریقہ کار کے مطلب کے بارے میں تفہیم کی بھی ضرورت ہے ۔ لیکن اگر اسلامی دنیا ماضی میں سائنس کے مشعل برادر(رہنما)بنانے میں کامیاب ہو گئی تو یہ یقینادوبارہ پھر ایسا کر سکتی ہے۔


tayyaba

طیبہ چوہدری ایم اے انگریزی پنجاب یونیورسٹی لاہور کی طالبہ ہیں اور وہ بی اے کے امتحان میں گولڈ میڈلسٹ ہیں۔

  1. Nice Article. I have been also working for the popularization of science. I am happy that you are M.A English and you are also working on science education. We need to emphasize on it in every way.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *