ایران کی یونیورسٹیز میں غیر ملکی طلباء کی تعداد 52 ہزار ہوگئی

  • April 30, 2017 8:46 pm PST
taleemizavia single page

رپورٹ: محمد بشارت

ایران کی وزارت سائنس، ریسرچ اینڈ ٹیکنالوجی کی اس وقت اولین ترجیح اپنے ملک میں غیر ملکی طلباء کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے۔

وزارت سائنس کے وزیر محمد فرہادی نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ حکومت ایران میں غیر ملکی طلباء کی تعداد دو گنا بڑھانا چاہتی ہے اور اس کے لیے انٹرنیشنل اکیڈمک تعاون پر توجہ دی جارہی ہے۔ اس مقصد کے لیے عالمی سطح پر ایران مواقع پیدا کرنے کی کوشش میں ہے۔

ایران کے انگریزی اخبار فنانشل ٹرائیبون کی رپورٹ کے مطابق ایران میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے عالمی سطح پر طلباء میں دلچسپی پائی جاتی ہے۔ اس وقت ایران کی یونیورسٹیوں میں 52 ہزار غیر ملکی طلباء وطالبات زیر تعلیم ہیں۔ اس میں سے متعدد پروگرامز انگریزی زبان میں آفر کیے جارہے ہیں۔

ایران میں اس وقت جو غیر ملکی طلباء زیر تعلیم ہیں ان میں جاپان، چین، ہنگری، یوکرائن، پولینڈ، امریکہ، آسٹریلیا، پاکستان، نیدرلینڈز، کوریا، اٹلی، کینیڈا، فرانس، برطانیہ کے طلباء شامل ہیں۔ غیر ملکیوں میں عراق، تُرکی، شام، سنگا پور، آرمینیا، بحرین، آزربائیجان، انڈونیشیا، روس، ڈینمارک، سینیگال، لبنان، بھارت، جرمنی، میکسیکو، تائیوان، مصر، رومانیا، کروشیا، نائیجریا، عمان، ویت نام، جارجیا، سوڈان کے طلباء بھی شامل ہیں۔

ضرور پڑھیں؛ ایران کی وفاقی کابینہ میں امریکہ سے پی ایچ ڈی یافتہ شامل

ایران تاحال مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کی نسبت غیر ملکی طلباء کی تعداد میں کافی پیچھے ہے تاہم اب ایران اپنی سرکاری و پرائیویٹ یونیورسٹیز میں دُنیا بھر سے طلباء کو ایران میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔

مئی دو ہزار پندرہ میں ایران میں غیر ملکی طلباء کی تعداد 35 ہزار تھی جو اب بڑھ کر 52 ہزار ہوگئی ہے۔

محمد فرہادی کے مطابق ایران میں زیر تعلیم پچاس فیصد غیر ملکی طلباء ہیومینٹیز، تیس فیصد ٹیکنیکل اینڈ انجینئرنگ، سترہ فیصد میڈیکل سائنسز اور تین فیصد طلباء آرٹس کے مضامین پڑھ رہے ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل فارن سٹوڈنٹس افیئرز کے مطابق جنوری دو ہزار سولہ کی نیو کلیئر ڈیل کے مطابق غیر ملکی طلباء کی جانب سے ایران کی یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے کی درخواستوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔

ایران کی یونیورسٹی آف تہران، عامر کبیر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور فردوسی یونیورسٹی آف مشہد میں سب سے زیادہ غیر ملکی طلباء زیر تعلیم ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *