ملکی جامعات اور ون بیلٹ ون روڈ

    May 16, 2017 10:58 pm PST
taleemizavia single page

نعیم مسعود

اس رومانس سے بڑی ظالم بھی کوئی چیز ہے ؟ کاش اس کا جواب مجھے آتا ہوتا ! اس کا جواب تو کوئی تعلیم یافتہ یا تربیت یافتہ ہی دے سکتا ہے ، ہم تو ٹھہرے ان پڑھ گنوار اور اندھا کیا جانے بسنت بہار ۔ علامہ اقبال کا ایک شعر و فلسفہ شہر اقبال کی نذر ہے؛

پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور

مجھے سمجھ نہیں آئی کہ اتنا بڑا وزیر ہو اور اتنا امیر شہر ہو اور اس کی حوا کی بیٹیاں صاف پانی کو ترسیں۔ان کی یونیورسٹی کے لئے رکھی ہوئی زمین پر کسی “بد نظر” کی نظر ہو، اس شہر کے باسی اپنا ایر پورٹ تک خود بنالیں لیکن گورنمنٹ کالج وومن یونیورسٹی کے لئے زمین دے کر بہانوں سے چھیننے کے درپے ہوں ۔

انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ وزیر صاحب کو تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا اور نہ منشاء اللہ بٹ صاحب کو ، کہ وہ تکڑے آدمی ہیں، لیکن آصف بھلی صاحب آپ تو تعلیم دوست ہیں آپ کی اذان کہاں گئی؟ عثمان ڈار آپ کا نیا پاکستان نہ جانے کب بنے ، بنے ، نہ بنے ، مگر میاں شہباز شریف کی ایک کی ہوئی نیکی کو اپنا سیالکوٹ سمجھ کر آپ ہی بجالو۔

آپ کا جھکاؤ تو کسی پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پراجیکٹ “کیمپس” کی طرف نہیں ہے نا ؟ میرے پیارے دوست میاں نعیم جاوید آپ کہاں ہیں؟ چلو ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان تو کسی سیاسی تذبذب کا شکار ہیں۔

چلئے آپ سب آرام کیجئے ، میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فرحت سلیمی کی محنت اور لگن کو سلیوٹ کرتا ہوں ، اور دعاگو ہوں کی کہ وہ ممکنہ شہادت سے محفوظ رہیں، ویسے شہید کی موت قوم کی حیات ہے۔

شہر اقبال جانے ، دختران اقبال جانیں، میاں شہباز شریف، چئیرمین ایچ ای سی ڈاکٹرمختار احمد ، صوبائی وزیر تعلیم سید رضا علی گیلانی اور سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کیپٹن(ر) نسیم نواز جانیں۔ ویسے مشورہ ہے کہ چائنہ سے کشکول میں تھوڑا سا تعلیمی فہم بھروالیں۔

لاہور اور ملتان کی ہائر ایجوکیشن مرثیہ گو ہے۔ جامعہ زکریا ملتان کے وی سی پہلے کیمپس کو کم وقت دیتے پھر بیمار ہوگئے سو قائم مقام وی سی کبھی ڈاکٹر بشیر اور اب ڈاکٹر انصاری، ملتان کی وومن یونیورسٹی ڈاکٹر شاہدہ حسنین کی ریٹائرمنٹ کے بعد بےیارومددگار ، قائم مقام وائس جانسلری جامعہ زکریا کو ملی جو خود اپنے مقام پر نہیں۔

ڈاکٹر رؤف اعظم کو اپنے پروفیشن اور اکیڈیمیا اور مینجمنٹ کے حوالے سے بدحال و شکستہ حال و شکستہ دل یونیورسٹی پر توجہ دینی چاہئے تھی لیکن وہ کبھی چائنہ کبھی برطانیہ کبھی در کبھی بدر کے بھنور میں رہے۔

جانے پوزیشن ہولڈر کے ساتھ بار بار بیرون ملک بھیجنے کے لئے ڈاکٹر رؤف اعظم کا کس حکیم یا نیم حکیم نے اعلی حکام کو مشورہ دیا، اس کے لئے لاہور سے اگر کوئی وی سی دستیاب نہیں تھا تو فیصل آباد، ملتان، گجرات اور بہاولپور اور راولپنڈی بھی پنجاب میں ہیں ۔

اب اڑتی ہوئی ملی ہے خبر بزم ناز سے پنجاب اسمبلی میں کسی ممبر اسمبلی نے وزیر تعلیم سے ایجوکیشن یونیورسٹی میں لیپ ٹاپ تقسیم اور مالی امور میں بے قاعدگیوں اور بد انتظامیوں کا جواب مانگ لیا ہے۔

جیسے تیسے “ذاتی” رجسٹرار کی “ٹرکی” تقرری کا حساب دینا پڑ رہا ہے ، اور تو اور، اسے اوکاڑہ و دیگر کیمپس میں اجارہ داری کا موقع فراہم کرکے نہ صرف قحط الرجال کو تقویت بخشی ہے بلکہ اس کا در بھی وا کیا ہے۔

چانسلر صاحب کے آرڈرز کو لفٹ ہی نہیں کہ مختلف ڈائریکٹرز کی تقرری ختم کی جائے۔ بالائی احکامات کے باوجود خازن کی تقرری عمل میں نہیں لائی جا رہی ، ایک استاد جو سکول سے کالج اور کالج سے یونیورسٹی تک کے زینے چڑھ گیا، اس عارف صاحب کو خازن (ٹریژرر) کی ذمہ داری سونپ رکھی ہے جو خلاف ضابطہ ہے۔

یہی نہیں من چاہے فارمولے فٹ کرکے اپنے افسران کو مالی مفاد پہچانے میں ماہر یہ حضرت صاحب پنجاب ایچ ای سی ، ساہیوال یونیورسٹی اور اوکاڑہ یونیورسٹی کو بھی “گرانٹ” کئے ہوئے ہیں کہ اپنی گرانٹس کے منہ کھلے رہیں۔

ایوننگ کلاسز کا خصوصی معاوضہ برائے رئیس جامعہ جامعات کے عمومی ضابطے میں نہ تھا ، پھر اسے باضابطہ کرنے کے لئے سنڈیکیٹ سے منظوری بھی نہ لی گئی محض مینجمنٹ یا ایڈمنسٹریٹو کھاتے/ کاسٹ کی آڑ میں “خازن عارفانہ” کی کلاکاری سے انجوائےفل و بیوٹی فل بنالیا گیا۔

مختلف غیر ملکی دوروں کے تناظر میں ایڈمنسٹریٹو مد میں تو جناب وی سی ایجوکیشن یونیورسٹی کی “درست” مٹھی گرم ہوجاتی ہوگی لیکن بنیادی کام اور تعلم ، متعلم ، معلم اور متعلم کے جو بنیادی حقوق مسخ ہوتے ہیں اس پر غور عزت مآب وزیر اعلی کریں گے؟چانسلر یا پرو چانسلر؟؟

چئیرمین ایچ ای سی یا سیکرٹری ہائر ایجوکیشن غور فرمائیں گے یا پھر ن لیگ گڈ گورنس کو کہہ دیں کہ، قالو سلاما؟

ایڈہاک ازم پر چلنے والی یہ ایک بڑی اور واحد ایجوکیشن یونیورسٹی نے 15 سال میں کچھ نہیں دیا اور آج ماضی سے بڑے حالات ہیں کیونکہ شش و پنج میں مبتلا تمام ڈائریکٹرز پی ایچ ڈی پیدا کرنے سے قاصر ہیں، اور اس لئے بھی نہیں کرتے، کہ کوئی جگہ نہ لے لے۔

بات خازنوں یا ڈیپوٹیشنرز کی دیگر یونیورسٹیوں کی تقرریوں کی بھی کریں تو شرمناک صورت حال سامنے آئے گی۔ کئی کئی آرڈرز جاری ہوئے کہ، نہ “افیکٹ فرام” کا تکلف نہ “ایکٹ اپان” کی فارمیلٹی، بس “رسم دستخط” پر اکتفا ہے یوں جیسے سویا ہوا محل ہو شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے یہ کہانی پھر سہی۔

قارئین کرام ! ایک پریکٹیکل جوک سنئے سی ایس پی افسر ہو یا پی سی ایس ترقیاں لیتے اور امور نپٹاتے ان کی جان نکل جاتی ہے پھر شکیل اور عہدے بڑھتے ہیں۔ یونیورسٹیوں کے پاس کون سی گدڑسنگھی یا الہ دین کا چراغ ہے کہ پرسوں کوئی کنٹریکٹ پر آیا کل پکا ہوا اور آج ایڈمنسٹریٹو سیٹ پر بغیر پی ایچ ڈی 19واں 20اں گریڈ ، گاڑی ، کوٹھی ، عیاشی اور پتہ نہیں کیا کیا۔

کوئی ایچ ای ڈی کے نام پر اور کام پر پروموٹ، کوئی گورنر ہاؤس کی فسیلٹی کے ٹرک سے آشنا، کسی کی پی ایچ ای سی سہولت کار، کوئی رجسٹرار، کوئی ایکسٹرا رجسٹرار ، کوئی ایکٹر رجسٹرار، کوئی ایکٹنگ رجسٹرار، کوئی کو رجسٹرار، کوئی وی سی ایب (وسیب رجسٹرار) کوئی انڈر رجسٹرار ، اس کے علاوہ اسسٹنٹ و ڈپٹی و ایڈیشنل آرگینوگرام الگ داستانیں ہیں ۔

متفرق رجسٹرار میں ابھی کچن رجسٹرار، کزن رجسٹرار، بھانجا و ماما رجسٹرار الگ کہانیاں ہیں۔ ہاں ، وہ ایک بات اور جو صوبائی یا مرکزی سرکار کے افسران بے قاعدگیوں یا باقاعدگیوں سے یونیورسٹی ڈیپوٹیشنز پر ہیں ، وہ وہاں پر “لاڑے” ہیں ۔

ہاں، جن پر گرو وی سی اور اس کا چیلا رجسٹرار مہربان نہ ہوں، ان سے یونیورسٹیوں میں قسمت کی دیوی سے سری دیوی تک روٹھ جاتے ہیں۔

تعلیمی “نظام” کی رفاقتوں، محبتوں اور اقرباپروریوں کا قابل مطالعہ رشحات قلم ہے۔ بہر حال، ہم اپنا فیصلہ محفوظ رکھتے ہیں اور محض یہ عرض کرتے ہیں کہ ہم تعلیمی اور وی سی تقرریوں سے لے کر تبادلوں تک عدالتی رحم و کرم پر کیوں ہیں؟

عدالتوں ہی سے مدد کیوں؟ کیا کٹہروں سے بچنے کے لئے ایچ ای سی ، ایچ ای ڈی ، وزارت تعلیم میں کوآرڈینیشن ، چین ری ایکشن اور خوداحتسابی ممکن نہیں ؟؟؟

محترم المقام وزیراعظم، وزرائے اعلی اور گورنرز آپ کو اس تعمیر و ترقی کی خوش قسمتی اور اچھا وقت مبارک لیکن بجلی تو ابھی تک بنی نہیں جس کی وجہ سے آپ وزیراعظم بنے۔ تعلیم‘ صحت اور فراہمی انصاف کا بیڑا غرق ہے۔ گڈ گورننس نے تعلیم گاہوں کو شاپنگ مال بنا دیا ہے۔

روز چائنہ جانے والے تعلیم و تربیت کیوں نہیں لا سکے۔ آہ! کمالیہ سے اونچی ، سمندروں سے گہری اور شہد سے میٹھی دوستی ، چائنہ ترقی یافتہ بھی مگر جب وہاں سے کوئی ایم بی بی ایس کر کے آئے تو پی ایم ڈی سی کا امتحان لازم ، اگر امریکہ شریک سے کرکے آئے تو کوئی پی ایم ڈی سی کا چکر شکر نہیں ۔

ون بیلٹ ون روڈ سے پاکستان چین سے تھوڑی صحت اور تعلیم بھی لے لیں تاکہ اس قوم کے غریب کی بھی قسمت بدل سکے۔
تعلیم و تربیت نہ ہوئی تو چائنہ بھی دودھ کی نہریں بہا کر نہیں دے سکتا‘ اور افغانستان و ایران بھی نالاں رہیں گے ۔ جانے ملکی ترقی کے لئے تعلیمی رومانس اور تعلیمی ایمرجنسی کو کون سمجھے گا؟

آج ہیوی مینڈیٹ والے سمجھے نہ کل جیالے سمجھے۔ تعلیم ازخود ایٹمی طاقت، جنگی طاقت، داخلی طاقت، انسداد دہشت گردی طاقت اور خارجی طاقت ہے، سو تعلیمی طاقت ہے تو سب کچھ ہے ، یہی دودھ کی طاقت ، شہد کی طاقت، بارڈر سسٹم اور بارٹر سسٹم کی قوت ہے۔اصل ون بیلٹ اور ون روڈ یا شاہراہ ترقی یہی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *