تعلیم اور ریاستی غفلت

    February 14, 2017 1:03 am PST
taleemizavia single page

عادل عزیز

ملکوں کی سماجی، معاشی اور سیاسی ترقی میں نوجوان نسل ہمیشہ اہم حصہ دار اور متحرک سمجھے جاتے ہیں اور ترقی یافتہ سماج اپنے سولہ سال سے لے کر تیس سال تک کی عمر کے افراد پر موثر سرمایہ کاری کرتے ہیں اور انہیں اپنے سماج کا سود مند شہری بناتے ہیں۔

پاکستان کی مجموعی آبادی کا کم و بیش ساٹھ فیصد حصہ نوجوانوں پر محیط ہے اور مختلف اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دو کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں حتیٰ کہ ان بچوں کی عمر سکول جانے کی ہے، گریجویشن کی سطح پر پہنچنے والے نوجوانوں کی تعداد بھی قابل تشویش ہے۔

اس نوجوان نسل کو جب خوراک کی کمی کا سامنا ہوتا ہے تو پھر ہمیں ان کی نشوونما جس میں ذہنی اور جسمانی گروتھ شامل ہے ایک فکر لاحق ہوجاتا ہے۔ جب سماج کے اس اکثریتی طبقے کو نظر انداز کر دیا جائے تو پھر بھلا کیسے ممکن ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستان کے سماج میں یہ طبقہ موثر کردار ادا کرتا نظر آئے۔

ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ مفت اور معیاری تعلیم اپنے شہریوں کو پہنچائے لیکن ریاست جب غفلت کا مظاہرہ کرتی ہے تو پھر والدین اپنے بچوں کو مہنگی تعلیم کے عوض پرائیویٹ سکولوں میں بھیجنے پر مجبور ہو جاتے ہیں چنانچہ صاحب حیثیت افراد کو ہی معیاری تعلیم میسر آتی ہے اور باقی خاندانوں کو سرکار کے سکولوں اور کالجوں میں ہی پڑھنا ہوتا ہے۔

پرائیویٹ ادارے اگرچہ منافع بخش تعلیمی کاروبار کر رہے ہیں لیکن اچھے نجی تعلیمی اداروں کا انفراسٹرکچر، سہولیات، اساتذہ اور بچوں پر چیک اینڈ بیلنس کے نظام کا سرکاری اداروں سے مقابلہ کرنے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔

اب ہمارے سرکاری سکولوں کی حالت اس لیے بھی دُگر گوں ہے کہ یہاں کے اساتذہ کی پرفارمنس آڈٹ کا کوئی موثر میکانزم ہی وجود نہیں رکھتا، سرکاری سکولوں کے اساتذہ اور ہیڈ ماسٹرز میں اونرشپ کا وہ جذبہ ہی نہیں ہے جو نجی سکولوں کے اساتذہ اور انتظامیہ میں نظر آتا ہے شاید وجہ یہی ہے کہ وہاں پر پرفارمنس آڈٹ کو موثر نظام اپنا وجود رکھتا ہے۔صرف یہی بلکہ ہمارے کالجوں اور سرکاری یونیورسٹیوں کو بھی کم و بیش اسی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اگر ریاستی نگرانی میں چلنے والے ادارے مثالی بن جائیں تو پھر مہنگی تعلیم سے نجات بھی مل سکتی ہے اور معیار تعلیم پر بھی سمجھوتہ نہیں ہوگا، لیکن یہ سب کون کرے گا؟

صرف یہی نہیں بلکہ تعلیم سے وابستہ جس بھی شاخ کا جائزہ لیں وہاں بگاڑ ہی نظر آتا ہے۔انٹری ٹیسٹ کا جو ظالمانہ نظام متعارف کروایا گیا اس نے غریب عوام کی تعلیم تک رسائی کو مذید کم کر دیا ہے۔ انٹری ٹیسٹ کے نظام سے غریب عوام ہی متاثر ہوئی ہے۔

امیر گھرانے کا بچہ اگرایم کیٹ، ای کیٹ، میں فیل ہو جائے تو وہ پچاس لاکھ دے کر ڈاکٹر اور تیس لاکھ دے کر انجنیئر بن جاتا ہے گویا اسکے لیے انٹری ٹیسٹ کس کھیت کی مولی ؟ پھر یہ انٹری ٹیسٹ لیا کس فلسفہ کے تحت جاتا ہے؟ اگر اس کا مقصد طالبعلم کی قابلیت جانچنا ہوتا ہے تو یہ بات قابل فہم نہیں لگتی کیونکہ فقط ایک نمبر کے فرق سے بھی سینکڑوں طالبعلم داخلہ کی دوڑ سے باہر ہو جاتے ہیں۔

مثال کے طور پر ایک بچہ جس کا اگریگیٹ85.6 بنا اور دوسرے طالبعلم کا 85.5 بنا تو پہلے والے طالبعلم کا داخلہ ہو جاتا ہے اور دوسرے کا نہیں ہو پاتا صرف عشاریہ ایک فیصدکا فرق کسی کی قابلیت جانچنے کا کتنا معقول پیمانہ ہے اس پر بحث کی ضرورت نہیں اور اگر قابلیت جاننا ہی مقصود ہے تو ایسے امیدوار جو انٹری ٹیسٹ میں بڑے مارجن سے فیل ہو جاتے ہیں اور دولت کے عوض پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں داخلہ لےیتے ہیں تو کس اصول کے تحت ایم ڈی سی، پی ای سی، ایچ ای سی انہیں ڈگری دیتی ہیں جب وہ انٹری ٹیسٹ میں نااہل قرار دیے جا چکے تھے ؟ پس ثابت ہوا کہ مسلہء قابلیت کا نہیں غریب عوام کے لیے معیاری تعلیم کے حصول کو ناممکن بنانے کا ہے۔

پھر متعدد تعلیمی نظام نے تو گویا سماج کی ہی تقسیم کر دی ہے۔ایک صحت مند معاشرے میں تعلیم کا مقصد انسانوں کو شعور دینا اور انکی ذہنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئےکار لانے کے لیے مناسب ماحول اور تربیت دینا ہوتا ہے لیکن یہاں تعلیم کو نوکری کے حصول کے ذریعے تک محدود کر کے نوجوان نسل اور پورے معاشرے پر ظلم کیا گیا ہے۔ اس معاشرے میں طلباء اپنی تعلیمی عرصہ کے دوران بیک وقت بہت سے ذہنی دباؤ میں جی رہے ہوتے ہیں جن میں گھر کی معاشی تنگدستی، انتظامیہ کا ریاست کی طرز پر بے جا دباؤ اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوکری کی فکر شامل ہیں، اس صورتحال میں کیونکر کوئی انسان اپنی ذہنی صلاحیتیں ابھار سکتا ہے ؟

یہ وہ حالات ہیں جن میں آج کا غریب نوجوان طالب علم جی رہا ہے اس پر ظلم عظیم یہ کہ ان نامسائد حالات سے گزر کر کسی طرح وہ ڈگری مکمل کر بھی لے تو نوکری کا حصول اس سے بڑا عزاب بن کر نازل ہوتا ہے۔ وہ تمام سنہری سپنے جن کی آس میں وہ خود اور اسکا خاندان زندگی کی تمام مشکلات برداشت کرتے آتے ہیں ایک پل میں چکنا چور ہو جاتے ہیں اور یہاں سے ایک گھناؤنا سفر شروع ہوتا ہے جو اکثر اوقات ایک پوری مایوس نسل، نشے، جرائم اور دہشت گردی پہ جا کر اختمام پزیر ہوتا ہے۔

اگر حالات اور وقت ساتھ دیں تو یہ سفر ایک بغاوت کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔ بظاہر تو نوکری کا نہ ملنا، تعلیم تک پہنچ نہ ہونا، عید پر نئے کپڑے نہ پہننا، شدید بیماری میں بھی علاج میسر نہ ہونا، راشن کی قیمتوں کا مسلسل بڑھنا اور اس جیسے کئی عوامل کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ نہیں لگتے لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ مقدار کے حوالے سے یہ چھوٹے چھوٹے عوامل بحرحال معیار میں تبدیل ہو کر ہی رہتے ہیں اور جب تک اس خاموش تبدیلی کا احساس حکمران تبقوں کو ہوتا ہے پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے اور پھر وہ یہی کہتے رہ جاتے ہیں ”انکے پاس روٹی نہیں
تو کیک کیوں نہیں کھاتے” اور قدرت اپنا کام دکھا جاتی ہے۔


Adil Azizz

عادل عزیز بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ صحافت میں زیر تعلیم ہیں۔ پاکستان میں طلباء کے بنیادی حقوق بذریعہ سیاسی جدوجہد کے قائل ہیں اور کتابیں پڑھنے کی لاعلاج بیماری لاحق ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *