سندھ ؛ بائیو میڑک سسٹم خراب، محکمہ تعلیم کی تنخواہیں بند

  • January 25, 2018 11:46 am PST
taleemizavia single page

کراچی: سید محمد عسکری

صوبائی محکمہ تعلیم نے سندھ میں بائیو میٹرک کے نظام کی ناکامی تسلیم کرلی ہے اور اس سلسلے میں جمعرات 25،جنوری کو صوبے کے تمام اضلاع کے ڈائریکٹر اسکولز کا اجلاس بھی طلب کر لیا ہے۔

اجلاس کاعنوان ہی بائیو میٹرک کی ناکامی رکھا گیا ہے۔ جس وقت بایو میٹرک نظام کی ناکامی پر اجلاس طلب کیا گیا ہے وہیں اجلاس کیلئے جاری کیے گئے خط میں لفظ بائیو میٹرک کے اسپیلنگ ہی غلط لکھ دیئے گئے ہیں جس سے محکمہ تعلیم کی موجودہ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔

کروڑوں روپے مالیت سے بائیو میٹرک نظام سابق سیکرٹری تعلیم فصل پیچوہو کے دور میں شروع ہوا تھا لیکن تاہم اس نظام میں اس وقت مسئلے مسائل شروع ہوئے جب عبدالعزیز عُقیلی کو سیکرٹری تعلیم مقرر کیا گیا۔ عبدالعزیز عُقیلی نے بائیو میٹرک نظام کی ذمہ داری اِمتیاز بھَٹی اور انور بھُٹو کو دی جس کے بعد بائیو میٹرک کے نام پر ہزاروں اساتذہ، ملازمین، چوکیداروں کی تنخواہیں رُک گئیں اور پینشن اور دیگر واجبات پھنس گئے جس کے بعد عبدالعزیز عُقیلی کو ہٹا دیا گیا۔

نئے سیکرٹری ڈاکٹر اقبال کی آمد کے باعث امتیاز بھٹو کو محکمہ تعلیم سے رخصت ہونا پڑا جس سے محکمہ تعلیم کے ملازمین کو کچھ ریلیف تو ملا لیکن بائیو میٹرک کا معاملہ ہی الجھ گیا۔ اب بھی بائیو میٹرک مسائل کی وجہ سے سیکڑوں اساتذہ کی تنخواہیں رکی ہوئی ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ بایو میٹرک کے ایس ایم ایس نظام کیلئے ایک ایک این جی او “علمی” کی خدمات حاصل کی گئیں لیکن اس این جی او کے ساتھ یہ معاہدہ کب اور کیسے ہوا اس کی کوئی فائل ہی موجود نہیں۔

فضل پیچوہو کے دور سے لے کر اب تک کتنی رقم علمی کو دی گئی اس کا بھی کوئی ریکارڈ محکمہ تعلیم کے پاس موجود نہیں۔ ذرائع کے مطابق نئے ڈاکٹر اقبال درانی نے علمی کو رقم کی ادائیگی بند کردی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.