سرکاری یونیورسٹیز بینکوں کی غلامی میں

    September 29, 2019 2:51 pm PST
taleemizavia single page

محمد مرتضیٰ نور

سرمایہ دارانہ معیشت میں قومی و عالمی اداروں کی خواہش ہوتی ہے کہ معاشیات کا کنٹرول نجی بینکوں اور کارپوریٹ کمپنیوں کے پاس ہو لیکن اس خواہش کو پالیسی کی شکل دینے کے لیے ریاست راہ ہموار کرتی ہے۔ سماج میں درس گاہوں کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے اور بالخصوص اعلی تعلیمی ادارے۔ یہ تعلیمی ادارے اب نیو لبرل ازم کی زد میں ہیں لیکن عام آدمی حتی کہ جامعات کے اساتذہ اور طلباء کو بھی ادراک نہیں ہے کہ ان اداروں پر مستبقل میں ریاست کا کنٹرول نہیں رہے گا بلکہ یہ نجی اداروں کا بزنس بن کر رہ جائے گا۔

پاکستان کو اس وقت جہاں پر بڑے بڑے چلینجز کا سامنا ہے وہیں پر اعلی تعلیم اعلی تعلیمی شعبے کو بھی شدید مالی بحران کا سامنا ہے ۔اب تک ملکی سطح پر تاریخ کا شدید ترین تعلیمی بحران سامنے آیا ہے ۔حالیہ میڈیا رپورٹس کے مطابق سرکاری جامعات دیوالیہ ہورہی ہیں جبکہ جامعات نے مالی بحران پر قابو پانے اور تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے نجی بینکوں کی جانب قرضہ جات کے حصول کے لیے دیکھنا شروع کردیا ہے اور زرائع یہ بھی بتارہے ہیں کہ بعض بینکوں نے بھی قرض دینے سے انکار کردیا ہے۔

اگر پاکستان میں جامعات کے اعدادشمار کی طرف نظر ڈالی جائے تو اب تک ملک بھر میں منظور شدہ جامعات کی تعداد 206 ہے جن میں سے 124 جامعات کا تعلق سرکاری شعبہ سے ہے اور ان کے زیلی کیمپسز کی تعداد 79 ہے- جبکہ پرائیویٹ سیکٹر جامعات کی تعداد 82 اور ان کے زیلی کیمپسز کی تعداد 33 ہے۔

ایک تازہ اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال اعلی تعلیم کے شعبہ کے لیے درکار غیر ترقیاتی فنڈز کی مد میں 103 ارب روپے چاہییں تھے مگر بجٹ میں صرف 59 ارب روپے مختصص کیے گئے اور ترقیاتی فنڈز کی مد میں 55 ارب روپے درکار تھے مگر صرف 28 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

موجودہ صورتحال انتہائ گھمبیر ہوگئ ہے اعلی تعلیم کے بجٹ کی کٹوتی کے بعد جامعات میں مالی توازن درہم برہم ہوگیا ہے، جامعات کی فنڈنگ کی کمی کے بعد طلبہ کی فیسوں میں اضافہ طلبہ اور جامعات کی انتظامیہ کو آمنے سامنے لے آیا ہے۔گزشتہ ہفتے پاکستان کی صف اول کی بہترین جامعہ ، قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد اور وفاق کی بڑی جامعہ، اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی کے طلبہ سراپا احتجاج ہیں ، 25 اور 26 ستمبر کو سندھ بھر کے اساتزہ جامعات بند کرکے کٹوتی کے خلاف ہڑتال کی کال دے چکے ہیں اور خیرپختونخواہ کی 5 جامعات کے دیوالیہ ہونے کے بعد صوبے کے اساتزہ بھی سڑکوں پر ہیں۔

فیڈریشن آف آل پاکستان ایکڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر سہیل یوسف نے گزشتہ رات نجی ٹیلی ویژن کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اکتوبر کے پہلے ہفتے کے دوران یونیورسٹی اساتزہ کی مرکزی تنظیم اہم اجلاس میں اس اہم معاملہ پر مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

جامعات میں بدترین تعلیمی بحران کا پیدا ہونا ملک میں تعلیم پر عدم توجہ کا نتیجہ ہے جو کہ انتہائ خطر ناک ہے۔ مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق،

ملک میں اعلی تعلیم کا شعبہ اور جامعات بدترین انتظامی و مالی بحران کا شکار ہوچکی ہیں جس کی وجہ سے تنخواہوں اور پینشن کی ادائگیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے جامعات نجی بنکوں سے قرض لینے پر مجبور ہیں۔

سندھ کی جامعات میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر اساتذہ سراپا احتجاج ہیں جبکہ ملک کی صف اول کی ایک اور بڑی جامعہ کامسیٹس یونیورسٹی کو بنکوں نے قرضہ دینے سے معذرت کرلی ہے شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیر پور۔سندھ یونیورسٹی جامشورو، کراچی یونیورسٹی سمیت متعدد جامعات پربحرانی کیفیت طاری ہے جبکہ بہت سی جامعات نے داخلہ جات سیلف فنانس پر منتقل کردیے ہیں اور فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے وفاق سمیت کئ جامعات نے فیسوں میں بھی اضافہ کردیاہے ۔

حال میں ہی دی ٹائمز ہائر ایجوکیشن کی رینکنگ برائے سال 2020_2019 میں 500 جامعات میں شامل واحد پاکستانی جامعہ، قائداعظم یونیورسٹی کا سالانہ مالی خسارہ 500 ملین روپے سے زائد ہے ہے جبکہ اس کے باوجود جامعہ بین الاقوامی سطح پر ریسرچ کے میدان میں اہم مقام پر ہے اسے بھی مالی بحران پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر شام کی کلاسز کا اجراء سیلف فنانس بنیاد پر کرنا پڑا ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مالیاتی بحران سے جامعہ قائداعظم کی رینکنگ شدید متاثر ہوگی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائ حکومتیں فوری طور پر تعلیمی ایمرجنسی نافز کرکے جامعات کو مطلوبہ فنڈز کا اجراء کریں اور ایسی پالیسیز مرتب کریں جن سے بڑھتے ہوئے تعلیمی بحران پر قابو پایا جاسکے۔نئ پبلک سیکٹر جامعات کے قیام کی بجائے موجودہ جامعات کو بھرپور معاونت اور مطلوبہ وسائل فراہم کیے جائیں جبکہ اعلی تعلیمی شعبہ میں پبلک پرائیویٹ شراکت داری کی حوصلہ افزائ کرتے ہوئے نجی شعبہ کو خصوصی مراعات فراہم کی جائیں.

جامعات پر غیر ضروری قدغن کی بجائے اُن کی علمی، انتظامی اور معاشی خودمختاری کا تحفظ یقنی بنایا جائے تاکہ وہ خودمختار ادارے کے طور پر ملک کی معاشرتی اور معاشی ترقی میں فعال کردار ادا کرسکیں۔


Murtaza Noor

مرتضیٰ نور تعلیمی سولہ سال سے تعلیمی شعبہ سے وابستہ ہیں وہ اس وقت انٹر یونیورسٹیز کنسورشیم فار پرموشن آف سوشل سائنسز ان پاکستان کے کوارڈینیٹر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *