پاکستان میں پچاس لاکھ معذور افراد کو تعلیم تک رسائی میں مشکلات

    December 2, 2016 11:05 pm PST
taleemizavia single page

کراچی

پاکستان میں اس وقت اندازاً پانچ ملین افراد کسی نہ کسی معذوری کا شکار ہیں۔ “اتنی بڑی تعداد کے باوجود ہر پانچ میں سے صرف ایک معذور فرد پرسن ود ڈس ایبیلٹی کو سماجی اور تعلیمی معاونت تک رسائی حاصل ہے جو بہرصورت پنپنے اور ترقی کرنے کے لیے ضروری ہے۔ ہر سات میں سے صرف ایک معذور فرد کو ملازمت کی جگہ پر مکمل معاونت حاصل ہے جبکہ ہر دس میں سے ایک کو مرض سے بحالی کی خدمات تک رسائی حاصل ہے۔ یہ اعدادوشمار افسوسناک ہیں۔

آغا خان یونیورسٹی کراچی میں معذور افراد کے عالمی دن کے موقع پر خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں مقررین کا کہنا تھا کہ معذور افراد کامیاب کاروبار چلا رہے ہیں، انسانی حقوق کی تنظیموں کے راہنما ہیں اور اسکولوں میں دیگر طلبا کے لیے مشعل راہ ہیں۔

اس سال معذوروں کے عالمی دن کا موضوع ہے “بہتر مستقبل کی تشکیل کے لیے سترہ مقاصد کا حصول”۔
آغا خان یونیورسٹی میں منعقدہ اس تقریب میں ماہرین نے جن موضوعات پر گفتگو کی ان میں معذوری کا باعث بننے والے حادثات کی روک تھام کے لیے حکمت عملی؛ بحالی کی خدمات تک رسائی کے اقدامات کو وسیع کرنا اور معذور افراد کے لیے معمول کے تعلیمی اداروں میں ماحول کو مربوط بنانے کے لیے اقدامات شامل ہیں۔

اے کے یو کے نیورولوجی ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کسی معاشرے کی اقدار کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں سب سے زیادہ مجروح طبقے یعنی معذور افراد کے ساتھ کیسا رویہ روا رکھا جاتا ہے۔ اس بنیاد پر اگر ہم پاکستانی معاشرے کا جائزہ لیں تو صورت حال کچھ ایسی حوصلہ افزا نہیں اور ہمیں اس میدان میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس عظیم ذمہ داری کو پورا کرنے کا آغاز ہم ایک چھوٹے تاہم منظم اقدام سے بھی کر سکتے ہیں مثلاً تمام عوامی مقامات کو وہیل چیئر کے لیے قابل رسائی بنا دیں۔

تقریب میں شامل ماہرین نے بتایا کہ دو ہزار دو میں تشکیل دی جانے والی نیشنل پالیسی فار پرسنز ود ڈس ایبیلٹیز دو ہزار پچیس تک ایسے ماحول کی تخلیق کا مطالبہ کرتی ہے جو تمام معذور افراد کے لیے مکمل طور پرمعاون ہو۔ انھوں نے نشاندہی کی کہ حکومتی تشکیل کردہ اس پالیسی کے مقاصد کے حصول کے لیے کافی کام کرنا ہنوز باقی ہے۔

ڈاکٹر واسع نے اس موقع پر کہا پاکستان عالمی لائحہ عمل پر پابندی کا عزم کر چکا ہے اور ایس ڈی جیز کے گول نمبرزچار، آٹھ، دس، گیارہ اور سترہ میں معذور افراد کے لیے گیارہ مخصوص حوالہ جات موجود ہیں۔ ان مقاصد کے مطابق معذور افراد کے لیے معیاری تعلیم تک رسائی، ناانصافی میں کمی کے اقدامات، مربوط معاشی ترقی کے فروغ کی حکمت عملی، چھوٹی آبادیوں اور شہروں کو ہر معذور فرد کے لیے مکمل طور پر قابل رسائی بنانے کے اقدامات اور ان پروگرامز کے اثرات کی نگرانی اور جانچ کی باقاعدہ کوششیں شامل ہیں۔

حاضرین سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر واسع نے عوامی آگاہی کے اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ ایسے امراض کی جلد تشخیص اور علاج میں مدد مل سکے جو معذوری کا باعث بن سکتے ہیں مثلاً فالج اور ذیابیطس۔ انھوں نے وضاحت کی کہ فالج کی بنا پر جسم حرکت کے قابل نہیں رہتا جبکہ ذیا بیطس کے نتیجے میں اندھا پن یا انسانی اعضا کی ایسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں جن کے باعث انھیں کاٹنا پڑتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قومی سطح پر فوری اقدامات لینا انتہائی ضروری ہے جس میں تین پہلو اہمیت کے حامل ہیں؛

اول: ٹریفک کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد یعنی گاڑیوں کی رفتار کی حد متعین کرنا، تیز گاڑی چلانے کی ممانعت اور ہیلمٹ پہننے کی پابندی لازم ہیں۔ ٹریفک حادثات کے باعث ملک میں ہر سال ایک ملین افراد زخمی ہوتے ہیں۔ ان زخمیوں میں سے دس فیصد افراد جن کے دماغ یا حرام مغز پر چوٹ لگی ہو معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ٹریفک کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروا کر ان ممکنہ معذوریوں کو روکا جا سکتا ہے۔

دوم: ماہرین کے مطابق ہسپتالوں میں ضروری آلات کی فراہمی دوسرا اہم قدم ہے۔ معذوری کی کئی اقسام بچپن میں نشوونما میں تاخیر، اعصابی خرابی یا حسیاتی معذوری کے باعث ہوتی ہیں جن کا علاج بحالی کے پروگرامز، تھیراپیز اور آرتھوپیڈک آلات کی مدد سے کیا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے بیشتر سرکاری ہسپتالوں میں یہ سہولیات میسر نہیں ہیں۔ ماہرین نے بتایا کہ خیبر پختونخواہ کی حکومت نے اس حوالے سے راہنما قدم اٹھایا ہے اور ضلعی سطح کے ہر سرکاری ہسپتال میں بحالی کی خدمات کی موجودگی کو یقینی بنایا ہے۔ ماہرین نے دیگر صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ خیبر پختونخواہ کی قائم کردہ مثال کی پیروی کریں۔

گورنمنٹ کالج فار ویمن، شاہراہ لیاقت کے ایسوسی ایٹ پروفیسر نسیم الدین بصارت سے محروم ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حکومت معذور افراد کی مردم شماری کر سکتی ہے تاکہ یہ جان سکے کہ کتنے معذور افراد تعلیمی اداروں اور ملازمتوں میں اعلی کارکردگی دکھانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایچ آر کنسلٹینسی ای-اسکوائر کے سی ای او جاوید شیخ نے حاضرین سے ذاتی تجربہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اُنیس سو پچانوے میں ایک حادثے میں انھیں حرام مغز پر شدید چوٹیں لگیں جس کے بعد وہ کمر کے نچلے حصے کو حرکت دینے سے معذور ہو گئے۔

وہ بحالی کی خدمات کی اہمیت پر روشنی ڈال رہے تھے۔ انھوں نے بتایا، “زخمی ہونے کے بعد مجھے پچیس دن تک بحالی کے لیے علاج اور اوکیوپیشنل تھیراپی فراہم کی گئی جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ میں روزمرہ کے کاموں اور ملازمت کے لیے کس طرح خود کفیل بن سکتا ہوں۔ اس تھیراپی کی مدد سے میں زندگی کی طرف واپس لوٹنے میں کامیاب ہوا۔ آج میں کامیابی سے اپنی کمپنی چلا رہا ہوں جو میں نے معذوری کے گیارہ سال بعد قائم کی تھی۔ میں وہیل چیئر پر ضرور ہوں لیکن میں ہر اس جگہ جا سکتا ہوں جہاں میں جانا چاہوں۔ میں اپنے معاملات میں خود کفیل ہوں۔

تقریب میں سماعت سے محروم ایک بزنس مین خورشید اختر؛ گونگے بہرے افراد کی ایسوسی ایشن کے صدر عامر نظامی؛ ملٹی پل اسکلیروسس کا شکار ایک مریض جو اپنا کاروبار چلاتا ہے؛ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ڈائریکٹر ریوینیو محسن قائم خانی جو کمر کے نچلے حصے سے معذور ہیں اور پولیو کے باعث بازوؤں کی خرابی کا شکار ایک رکشہ ڈرائیور نذیرالحسن نے بھی خطاب کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *