تعلیمی زاویہ پر لکھنے کی ہدایات

    September 26, 2016 5:11 pm PST
taleemizavia single page

خوش آمدید۔ آپ کا بہت شکریہ کہ آپ تعلیمی زاویہ کے لیے لکھنا چاہتے ہیں۔ تعلیمی موضوعات پر اپنی نوعیت کی یہ پہلی ویب سائٹ ہے جس میں قومی اورعالمی امور تعلیمی حلقوں تک پہنچانا مقصود ہے۔ ہماری ویب سائٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کر کے آپ اپنے رائے ان حلقوں تک پہنچا سکتے ہیں۔
اگر آپ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو ذیل میں آپ کے لیے چند ہدایات موجود ہیں، جن پر عمل کر کے آپ اپنا بلاگ شائع کرسکتے ہیں۔
عام طور پر بلاگ 800 سے 1000 الفاظ کے درمیان ہونا چاہیے۔ اگر بلاگر کسی چیز کا حوالہ دینا چاہیں، تو وہ حوالہ ٹیکسٹ کے اندر ہائپر لنک ہونا چاہیے۔
بلاگ کہانی کی طرز پر یا ضمیرِ متکلم یعنی فرسٹ پرسن میں لکھے جا سکتے ہیں۔ بلاگ اور کالم میں فرق یہ ہے کہ بلاگ کالم کے مقابلے میں زیادہ غیر رسمی مزاج کے تحت لکھے جاتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بلاگ پوسٹس میں رائے یا دلیل کا ہونا ضروری ہے، اور بیان کی گئی کہانی کو وسیع تناظر میں بھی پیش کرنا چاہیے۔
بلاگ کے لیے جس قدر ممکن ہو ایسے موضوع کا انتخاب کرنا چاہیے جو تعلمیی امور سے قریب تر ہو۔ اس میں نصاب، کتب، تاریخ، فلسفہ، بین الاقوامی تعلیمی امور، سکول، کالج، یونیورسٹی، مدارس، اساتذہ اور طلباء کی انجمنیں، تعلیمی پالیسی، نجی تعلیمی ادارے وغیرہ وغیرہ گو کہ ہر ایسے موضوع پر آپ لکھ سکتے ہیں جس کا تعلق تعلیم کے ساتھ ہو۔
بلاگ فیچر اسٹوریز سے مختلف ہوتے ہیں، اس لیے لوگوں سے زیادہ انٹرویوز کرنا اور ان کی باتوں کے حوالے دینا بلاگ نہیں کہلاتا۔ بلاگز خبر سے بھی مختلف ہوتے ہیں، اس لیے کسی بھی شہہ سرخی والی خبر کو مختلف الفاظ میں پیش کر دینا بھی بلاگ نہیں کہلایا جا سکتا۔
بلاگ کا استعمال کسی بھی معاملے یا خبر پر اپنا تجزیہ دینے کے لیے، یا لوگوں کی رائے کا تجزیہ کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بلاگ ایک ہی موضوع پر مختلف مضامین کو لنک کر کے موضوع پر موجود مختلف خیالات کا جائزہ لے سکتا ہے۔
لیکن بلاگ کو صرف مختلف خبروں سے بھرا ہو ا نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ بتانا چاہیے کہ تمام خبریں آپس میں کس طرح ربط رکھتی ہیں، اور ان کی اہمیت (یا غیر اہم ہونے) کے حوالے سے رائے بھی دی جانی چاہیے۔ لیکن اس کے لیے مضبوط حوالے دینا ضروری ہے۔
اگر آپ کسی سائنسی موضوع پر قلم اٹھانا چاہتے ہیں، تو ہمارے صفحات حاضر ہیں۔ لیکن کوشش کیجیے کہ صرف انہی موضوعات پر لکھا جائے جن کا براہِ راست تعلق انسانیت اور خاص طور پر پاکستان کے رہنے والے عوام کو ہونے والے فائدے یا نقصان سے ہو۔ مثلاً پولیو کا خاتمہ، ایٹمی جنگ کے خطرات وغیرہ۔
لکھتے وقت الفاظ کے انتخاب کا خاص خیال رکھا جانا چاہیے۔ گالیوں یا کسی کی ذات پر حملے کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
تعلیمی زاویہ کے لیے لکھا گیا کوئی بھی مضمون پہلے کسی بھی جگہ شائع نہیں ہونا چاہیے۔ جب ایک بار تعلیمی زاویہ کی ویب سائٹ پر شائع ہو جائے، تو آپ اسے اپنی ذاتی ویب سائٹ پر شائع کر سکتے ہیں۔
ہم کسی بھی لکھاری کو یہ واضح طور پر نہیں بتا سکتے کہ ان کا بلاگ کب شائع کیا جائے گا۔ البتہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مطلع کر سکیں کہ آیا ان کا بلاگ شائع کیا جائے گا یا نہیں۔
فارمیٹ: بلاگ کے ساتھ 2 لائن پر مشتمل اپنی معلومات بھیجیے، جیسے کہ نام، مشاغل، تعلیم، وغیرہ۔ اس کے علاوہ ایک تصویر اور ٹوئٹر آئی ڈی (اگر ہے تو) بھی بھیجی جانی چاہیے۔ اگر آپ چاہیں تو آپ کی 2 لائن کی معلومات میں آپ کا ای میل ایڈریس اور ذاتی ویب سائٹ کا ایڈریس بھی دیا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *