علم پر کنٹرول: امریکہ کی 13یونیورسٹیاں ارب پتی کوش برادران کے پے رول پر

    views 562 August 27, 2016 10:26 pm PST
taleemizavia single page

رپورٹ: قراۃ العین فاطمہ

نئے شائع شدہ دستاویزات کے مطابق امریکہ کی ایک اہم ترین یونیورسٹی میں تقرریوں اور تعلیمی معاملات میں کوش برادران کے سیاسی اثر ورسوخ کا عمل دخل پایا جاتا ہے۔

ارب پتی مالیت کی کمپنیاں صرف سیاستدانوں پر سرمایہ کاری نہیں کر رہی بلکہ وہ پڑھے لکھے نوجوانوں پر بھی منصوبہ بندی کے تحت سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

فلوریڈا سٹیٹ یونیورسٹی کے شعبہ اقتصادیات کی اندرونی ای میلز اور دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں کے لیے مالی امداد کے بدلے میں سیاسی دباؤ پایا جاتا ہے۔

عوامی سالمیت کے مرکز سے حاصل کی گئی 16 صفحات پر مشتمل دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ چارلس کوش فاؤنڈیشن اپنی بڑی بڑی مالی امداد کے بدلے میں تعلیمی اداروں میں اپنی مرضی کی تقرریوں کا پُر زور مطالبہ کرتی ہے۔

اور اسی تدریس کے حامی ہیں جو ان کے سیاسی بنیاد پرست خیالات کے مطابق ہوں۔

چارلس اورڈیوڈ کوش اپنی پارٹی اور دیگر الٹرا رائٹ ونگ تحریکوں کے اہم عطیہ کنند گان میں شامل ہیں۔

ان تحریکوں کا بنیادی مقصد فری مارکیٹ اکانومی کی اہمیت کو وضع کرنا اور جب کبھی حکومت کی جانب سے فری مارکیٹ میں مداخلت کی جاتی ہے ان کی جانب سے سخت رد عمل اور مخالفت کا اظہار ہوتا ہے۔

فلوریڈا سٹیٹ یونیورسٹی کے شعبہ اقتصادیات کے چیئرپرسن بروس بینسن کے تیار کردہ میمو کے مطابق کوش شرائط کی بنیاد پر ہی فنڈنگ کرتے ہیں۔

یونیورسٹی کو فنڈنگ کے دوران یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ فنڈ کی گئی رقم کے عوض نہ صرف اپنی مرضی کے لوگوں کی تقرری کی جائے۔

بلکہ فنڈز یا سکالر شپ دینے کے لیے گریجویٹ طالب علموں کا انتخاب بھی ہماری مرضی سے ہو، یہاں رکاوٹیں ہیں۔

میمو کے اس خفیہ دستاویز میں لکھا ہے کہ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ یہاں مفت میں دوپہر کا کھانا نہیں ہوتا اور ہر چیر کی قیمت ہوتی ہے۔

اس صورت میں فیکلٹی اور گریجویٹ طلباء کے لیے رقوم مالی امداد کی تنظیموں کے ایک گروپ سے ہوتی ہے جو کہ لبرل خیالات کے حامی ہیں، ان تنظیموں کا ایک واضع ایجنڈا ہے۔

وہ طلباء کو ایسے تصورات سے متعارف کرانا چاہتے ہیں جن کو وہ اہم تصور کرتے ہیں۔ جیسا کہ مارکیٹ کے فوائد اور حکومت کی ناکامی کے خطرات۔

وہ ایسے طلباء کی پشت پناہی کرتے ہیں جو ان خیالات سے متفق ہوتے ہوئے انہیں فروغ دیتے ہیں۔ اس لیے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ایسے اساتذہ کو بھرتی کیا جائے جو انہی خیالات اور تصورات کو فروغ دیں۔

اگر یونیورسٹی کے حکام ایسے اساتذہ کی تقرریوں سے متفق نہ ہوں تو وہ انہیں فنڈ دینے سے انکاری ہوجاتی ہیں۔

ان دستاویزات میں 2007ء کی تمام تفصیلات موجود ہیں جب پہلی مرتبہ کوش برادران نے فلوریڈا سٹیٹ یونیورسٹی سے مذاکرات کیے۔

فاؤنڈیشن کے دیگر مطالبات کے ساتھ ساتھ ان کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ بینسن جو کہ کوش برادران کے تصورات کا حامی تھا، اس کی شعبہ اقتصادیات میں بطور چیئرمین تقرری کو تین سال کی معیاد میں اضافہ کیا جائے۔

اگر ایسا نہ کیا گیا تو مالی امداد روک لی جائے گی۔

ان دستاویزات میں اس کاثبوت ہے کہ کوش برادران کیا چاہتے ہیں اگر وہ سب کچھ جو وہ چاہتے ہیں انہیں نہ ملا تو اس کے نتائج کیا ہوں گے۔

مزید ان برادران کا کہنا تھا کہ جو کچھ وہ چاہتے ہیں اگر نہ ہوا تو وہ مزید مالی امداد نہیں کریں گے۔

کوش برادران کی طرف سے 2009ء میں پندرہ ملین ڈالرز کی رقم طے پائی جو ان کے لیے سمندر کے ایک قطرے کے برابر ہے۔

کوش برادران امریکہ کی دوسری بڑی نجی کمپنی کے مالک ہیں جس کی مالیت 36 ارب ڈالرز ہے۔ فلوریڈا سٹیٹ یونیورسٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس سال اپریل میں ایک ملین ڈالر کی رقم موصول ہوئی ہے۔

کوش برادران سے ابتدائی معائدے کے تحت تین رکنی ایڈوائزری بورڈ کی تشکیل دی گئی ہے ان ممبران کا تعلق چارلس کوش فاؤنڈیشن سے تھا۔

اس تین رکنی بورڈ نے فلوریڈا سٹیٹ یونیورسٹی کے شعبہ اقتصادیات میں اساتذہ اور دیگر سٹاف کی تقرری کرنی تھی۔ مالی امداد کی شرائط یونیورسٹی کے تعلیمی نظام کے لیے ناسور ہیں۔

دو ہزار تیرہ میں شدید تنقید کے پیش نظر یونیورسٹی کے حکام نے کوش برادران کی تقرریوں پر عمل دخل کو کم کرنے کے لیے مالی امداد کی شرائط میں ترامیم کیں ہیں۔

اس سال کے اوائل میں یونیورسٹی کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق؛
یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کہ ایڈوائزری بورڈ کے ممبران کو شعبہ اقتصادیات کے معاملات میں عمل دخل سے روکا جاسکے۔

کوش برادران کی جانب سے مالیاتی تعلقات کی واحد یونیورسٹی نہیں ہے۔ سی پی آئی کے مطابق کوش برادران کے 2012ء میں تیرہ ملین ڈالرز، 163 یونیورسٹیوں اور طلباء پر خرچ کیے۔

کوش برادران کی جانب سے جن یونیورسٹیوں کو یہ فنڈنگ فراہم کی گئی ہے ان کی تفصیلات درج ذیل ہے۔

جارج میسن یونیورسٹی8.49ملین ڈالرز،ٹرائےیونیورسٹی 274.500ڈالرز، یونیورسٹی آف اریزونا کو 249.520ڈالرز،اوتھا سٹیٹ یونیورسٹی 170.000 ڈالرز، کلیمسن یونیورسٹی کو 165.000 ڈالرزفنڈنگ کی گئی ہے۔

کانساس سٹیٹ یونیورسٹی کو149.000ڈالرز، یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینا کو 116.800 ڈالرز، جارج واشنگٹن یونیورسٹی116.000 ڈالرز، اوہاؤ سٹیٹ یونیورسٹی کو112.000 ڈالرز اور سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی کو 100.000 ڈالرز کی فنڈنگ کی گئی ہے۔