سرمایہ داریت کا جن:امریکی طلباء1.3کھرب ڈالرز کے مقروض

    May 6, 2018 11:40 am PST
taleemizavia single page

رپورٹ: عنیزہ بتول

امریکہ میں قرض لے کر پڑھنے کے رجحان نے طلباءپر اس قدر بوجھ بڑھا دیا ہے کہ اُن کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔

کالجوں اور یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کرنے والے طلباءکی فیسیں اتنی زیادہ ہیں کہ سٹوڈنٹ لون سے قرضہ لینا اُن کی مجبوری بن کر رہ گیا ہے۔

سٹوڈنٹ لون سے قرض لینے کے بعد اس کی ادائیگی امریکی گریجویٹس کے لیے بہت سنجیدہ مسئلہ ہے۔ 2010ءمیں سٹوڈنٹ لون سے قرضہ حاصل کرنے کی شرح کریڈٹ کارڈ قرضوں اور آٹو لون قرضوں سے کئی گنا زیادہ تھی اور 2012ءمیں سٹوڈنٹ لون ایک کھرب ڈالرز سے تجاوز کر گیا تھا۔

گزشتہ دو دہائیوں میں طلباءمیں قرضہ لینے کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جو خود امریکی حکومت کے لیے لمحہ فکریہ بن گیا ہے۔

امریکی طلباءقرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اعداد وشمار کے مطابق امریکی طلباءاس وقت 1.3کھرب ڈالرز کے قرضے کے بوجھ تلے دبے ہیں اور یہ قرضہ کم و بیش 4کروڑ30لاکھ افراد کو دیا گیا ہے۔ دو ہزار سولہ میں گریجویٹ طلباءمیں اوسطا 37ہزار172ڈالرز کا سٹوڈنٹ لون رکھتے ہیں۔

آمدن کم ہونے کی بناءپر ان گریجویٹس کو اپنے قرضے اُتارنے میں 20سے 30سال کا عرصہ لگ جائے گا۔

محکمہ تعلیم کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 70لاکھ لوگوں نے اپنے قرضوں کی اقساط کی ادائیگی نہیں کی۔

سٹوڈنٹ لون سکیم کے تحت ایک طالب علم زیادہ سے زیادہ 57ہزار500ڈالرز تک کا قرضہ لے سکتا ہے۔

نوے کی دہائی میں امریکہ کے نصف گریجویٹس میں فی طالبعلم پر اوسطا دس ہزار ڈالرز قرض تھا تاہم اب یہ تعداد نصف سے زیادہ ہوچکی ہے اور فی طالبعلم اوسطا قرضہ بھی پینتیس ہزار ڈالرز سے تجاوز کر گیا ہے۔

قرضوں کی شرح بڑھنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے میڑک کی تعلیم کے بعد وظیفہ کی مدمیں ملنے والی رقم بہت کم ہے جس سے تعلیمی اخراجات پورے نہیں ہوتے اور کالجوں کی تمام فیسیں طلباءکو خود یا پھر ان کے والدین کو ادا کرنا ہوتی ہیں جس سے مالی بوجھ میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

اس لیے امریکی طلباءمجبور ہیں کہ وہ سٹوڈنٹ لون سے اُدھار لیں۔تعلیم مہنگی ہونے کے باعث امریکی سرکاری کالجوں میں داخلہ لینے کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ چار سالہ ڈگری کرنے کی بجائے دو سالہ ڈگری کرنا ہی مناسب سمجھا جاتا ہے۔

اس سنگین مسئلے کے باعث امریکہ میں درمیانے درجے کے خاندانوں میں بیچلر ڈگری حاصل کرنے والوں کی تعداد میں کمی آرہی ہے۔

حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے پالیسی پیپر کے مطابق طلباءآسان شرائط پر دس سال کے عرصے کے لیے قرضہ حاصل کرسکتے ہیں۔

اگر وہ گریجویشن کے بعد نوکری سے حاصل ہونے والی آمدن کا نصف قرضے کی ادائیگی کے لیے واپس کرنے پر رضا مند ہوجائیں۔

قرضے لیکر پڑھنے والے طلباءکی ذاتی زندگی بُری طرح متاثر ہورہی ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق گریجویشن کرنے والے 20.1فیصد طلباءکہتے ہیں کہ قرضہ اُتارنے میں اُنہیں بہت دشواری ہوتی ہے اور وہ اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

مثال کے طور پر گھر خریدنا، شادی کرنا، اولاد کا ہونا وغیرہ اس میں شامل ہے۔

حتیٰ کہ ان طلباءنے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ جتنے پیسے اُنہوں نے اپنی ڈگری حاصل کرنے میں لگا دیے حقیقت میں یہ تعلیم اتنی زیادہ مالیت کے قابل ہی نہیں تھی۔

ان طلباءکے پاس کوئی فنی تعلیم پر مبنی ڈگری بھی نہیں ہوتی جو انہیں روزگار فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوسکے۔ امریکہ میں ایسے طلباءکی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے جو فیسوں کی ادائیگی کے لیے رقم نہ ہونے پر کالج سے نکال دیے جاتے ہیں۔

وال سٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق قرضہ لے کر تعلیم حاصل کرنے والے لاکھوں افرادغر بت کی وجہ سے قرض کی ادائیگی نہ کرنے پر ڈیفالٹر ز ہوگئے ہیں۔

امریکہ کے ماہرین معاشیات کہتے ہیں کہ حکومت کو کالج اور یونیورسٹی سطح کی تعلیم کی گرانٹس میں اضافہ کرنا ہوگا اور قرض لے کر پڑھنے والے طلباءکو ریلیف دینے کے لیے سکیم کا آغاز کرنا انتہائی ضروری ہے۔

سٹوڈنٹ لون سکیم پر امریکی طلباءمتعدد بار واشنگٹن، نیو یارک میں مظاہرے کر چکے ہیں تاہم حکومت کی جانب سے ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔