حکومتی غفلت: پاکستان میں 812 پی ایچ ڈی ڈاکٹرز بے روزگار

  • November 29, 2018 5:43 pm PST
taleemizavia single page

اسلام آباد: ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان اور حکومت کی ناقص منصوبہ بندی کے باعث پی ایچ ڈی ڈاکٹرز میں بے روزگاری کی شرح بڑھنے لگی ان میں ایسے پی ایچ ڈی ڈاکٹرز بھی شامل ہیں جنہوں نے 2016ء میں ڈگریاں حاصل کیں تھیں۔

پی ایچ ڈی ڈاکٹرز نے بے روزگاری کے خلاف اپنی ایک ایسوسی ایشن بنا رکھی ہےاور ملک بھر میں موجود بے روزگار پی ایچ ڈی اساتذہ کے اعداد و شمار کی تفصیلات جمع کی گئی ہیں۔

ڈیٹا کے مطابق اس وقت 812 ایسے افراد بے روزگار ہیں جن کے پاس پی ایچ ڈی کی ڈگریاں ہیں لیکن یونیورسٹیوں میں پڑھانے کے مواقع میسر نہیں ہیں۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسی کے مطابق پی ایچ ڈی ڈگری یافتہ افراد کو ایڈہاک ازم پر سرکاری یونیورسٹیوں میں ملازمتیں فراہم کی جائیں گی اور اس کے لیے ایچ ای سی جامعات کے وائس چانسلرز کو ملازمتوں کے لیے خطوط بھی لکھتا ہے لیکن پی ایچ ڈی بے روزگار کی تعداد مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سائنسز میں 426،سوشل سائنسز میں 205 اورآرٹس میں 181 پی ایچ ڈیزبے روزگارہیں گویا سائنس مضامین میں پی ایچ ڈی کرنے والے افراد میں بے روزگاری کی شرح بھی زیادہ ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ ایچ ای سی کے پاس بے روزگار پی ایچ ڈی افراد کا مکمل ڈیٹا ہی دستیاب نہیں ہے، کمیشن کی ویب سائیٹ پر صرف 264 افراد کا ڈیٹا دستیاب ہے۔

دوسری جانب ہائیرایجوکیشن کمیشن کے پاس صرف 264 دوسری جانب ایچ ای سی نے مزید 500 افراد کو پی ایچ ڈی کیلئے امریکہ بھیجا ہے اور لوکل پی ایچ ڈی ڈگریوں کے لیے اُمیدواروں سے درخواستیں بھی طلب کررکھی ہیں.

فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشنز کے مرکزی صدر ڈاکٹر محبوب حسین نے تعلیمی زاویہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے روزگار پی ایچ ڈی افراد کی صلاحیتوں سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے حکومتی سطح پر پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے، صرف ایچ ای سی ان افراد کی جامعات میں تقرریاں کرنے کی ذمہ دار نہیں ہے۔

ڈاکٹر محبوب حسین کا کہنا ہے کہ ایچ ای سی پالیسی کے تحت ان افراد کو صرف ایک سال کے لیے جامعات میں تعینات کرتی ہے اور ایک سال بعد یہ پھر بے روزگار ہوجاتے ہیں جب تک صوبائی حکومتیں مںصوبہ بندی نہیں کریں گی تو اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد میں بے روزگاری کی شرح پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔

اُن کا کہنا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ ان افراد کو جامعات میں ہی تقرر کیا جائے بلکہ انھیں کالجوں میں بھی تعینات کیا جاسکتا ہے اس سے کالجوں میں کوالٹی آف ایجوکیشن بہتر ہوگی۔

پی ایچ ڈی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں بنی گالہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا جس پر وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی نگرانی میں کمیٹی تشکیل دی گئی تاہم تاحال ان بے روزگار پی ایچ ڈی ڈگری یافتہ افراد کی کوئی شنوائی نہیں ہوسکی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.