طلباء ٹیکسٹائل ڈگری کیوں کریں؟

  • April 2, 2018 1:46 pm PST
taleemizavia single page

سلیم انور عباسی

لباس کے لیےکپڑا ہر دوراور ہر زمانے میں زندگی کی بڑی ضرور ت رہا ہے۔ دنیا کی ہر بڑی تہذیب کے ارتقاء میں اس کی اہمیت مسلمہ رہی ہے۔ تاریخِ بشریت کے ہر دور میں مہذب انسان کی اہم ترین ضرورت رہا ہے۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں اس کی اہمیت اور افادیت کافی بڑھ گئی ہے کیونکہ آج کا زمانہ نت نئے فیشنوں کا زمانہ ہے، اس لیے اب نت نئے انداز ، ڈیزائننگ ، رنگ سازی، آمیزی اور طرح طرح کی کٹنگ کا بھی چلن ہوگیا ہے۔

بچوں سے لے کر نوجوانوں بلکہ بڑوں تک میں فیشن کا رواج ہوگیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج کپڑے کی بناوٹ ، میٹیریل ، ڈیزائن ، رنگ اور کٹنگ ہر ایک میں ہنر مندی کامظاہرہ ہوتا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ فنکاری اور ہنر مندی اپنے آپ سے نہیں پیدا ہوتی بلکہ اس کے پیچھے فنکاری ، صنعت کاری ، دماغ سوزی اور صلاحیت کی کارفرمائی ہوتی ہے۔ یہ سب ٹیکسٹائل انجینئروں کی ہنرمندی اور علم کا ہی کرشمہ ہوتا ہے کہ کپڑوں میں روزانہ نئی نئی نوعیت کی اختراع ہوتی رہتی ہے۔ آج کے فیشن پسند دور میں ہر دم نت نئے ڈیزائنوں اور نت نئے فیشنوں کی دھوم مچی رہتی ہے۔

Textile Design2

زمانہ قدیم سے ہی برصغیر پاک و ہند میں ٹیکسٹائل انجینئرنگ کی شاندار روایت رہی ہے۔آج بھی دنیا بھر میں ٹیکسٹائل انجینئرز اور فیشن ڈیزائنرز غیر ملکی فلم انڈسٹری سے لے کراسپورٹس وغیرہ کے نت نئے ڈھنگ کے کپڑے تیار کرنے میں اپنا جواب نہیں رکھتے ہیں۔ ہمارے خطےمیں ٹیکسٹائل انجینئروں اور ڈیزائنروں کی دنیا بھر میں مانگ بڑھتی جارہی ہے۔

اس لیے ٹیکسٹائل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل ککے اندرون ِ ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ِ ملک بھی روزگار حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ اس میں خود روزگاری اور سرکاری و غیر سرکاری ، ملکی و غیر ملکی تجارتی کمپنیوں میں بھی پر کشش ملازمتوں کے امکانات ہوتے ہیں۔

ٹیکسٹائل انجینئرنگ کی تعلیم

ٹیکسٹائل انجینئرنگ کی تعلیم بڑی اہمیت اور افادیت کی حامل ہے۔ ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں ڈپلومہ کورس کے لیے طلباء کا کم سے کم ہائی اسکول پاس ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ڈگری کورس کے لیے اُمیدوار کا انٹرمیڈیٹ پاس ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ٹیکسٹائل انجینئرنگ کا ڈپلومہ کورس 3 سالہ ہوتا ہے۔

جبکہ ڈگری کورس کے لیے 4 سال کی مدّت درکار ہوتی ہے۔ ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں ڈپلومہ یا ڈگری کورس کرنے والے امیدواروں کے لیے کپڑوں سے متعلق باریکیوں جیسے کپڑے کے ریشے ، اس کی بنائی کا طریقہ ، پروسیسنگ ، رنگوں کی پہچان ، رنگ سازی اور رنگ آمیزی کے طریقوں کا جاننا ضروری ہوتا ہے۔

Textile Design3

کپڑوں کی نت نئی ڈیزائنوں کی اختراع کے لیے طلباء میں تخلیقی صلاحیت اور جدّت پسندی کا بھی ہونا ضروری ہے ۔ ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں ڈپلومہ ہولڈر ٹیکنیشن کا اصل کام یہ ہے کہ مشینیں بلا رُکاوٹ کام کرتی رہیں ، تمام آلات رواں رہیں اور مشینوں کی وقت پر دیکھ بھال ہوتی رہے۔

مختلف قسم کے کپڑے کی تیاری سے پہلے مشینوں کو کسی خاص قسم کے کپڑے کے لیے ایڈجسٹ کرنا ہوتا ہے۔اگر دھاگہ یا کپڑا صحیح تیار نہ ہورہا ہو یا مشین بند ہوجائے تو نقص کو تلاش کرنا اور دور کرنا ٹیکنیشن کی ذمہ داری ہے۔

جدید مشینیں کمپیوٹر کی مدد سے کام کرتی ہیں، اس لیے آج کے دور کے ٹیکسٹائل ٹیکنیشن کو کمپیوٹرائزڈ مشینوں اور الیکٹرونک انجینئرنگ سے بھی واقف ہونا ضروری ہے۔ ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں ڈگری ڈپلومہ ہولڈروں کی اس صنعت سے متعلق مختلف عہدوں،ریڈی میڈ ہوزری اور گارمنٹس کی بڑی بڑی کمپنیوں میں فیشن ڈیزائنر ، فیشن کو آرڈینیٹر ، سِلک مینیجر ، مارکیٹنگ اور کنٹرولر کے عہدوں کے لیے اچھی ملازمت کے علاوہ خود روزگاری کے بھی بہتر امکانات ہوتے ہیں۔ کپڑوں کے فیشن میں روز بروز ہونے والی تبدیلی نے ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں انقلاب آفریں مواقع پیدا کر دیے ہیں۔

مشہور ڈرامہ نگار ولیم شیکسپیئر نے کیا خوب کہا ہے کہ “لباس شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ “دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو گاجسے اچھا دکھنے کا شوق نہ ہو، خاص طور پر خواتین، خواہ ان کا تعلق مشرق سے ہو یا مغرب سے فیشن کے معاملے میں مشکل سے ہی سمجھوتہ کرتی ہیں۔

Textile Design4

لباس کا انتخاب اس شوق کی تکمیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہےجبکہ اچھا لباس کسی شخصیت کے باذوق ہونے کی دلیل سمجھا جاتا ہے۔ اچھا دکھائی دینے کی فطری جبلّت نے دنیا میں فیشن انڈسٹری کو فروغ دیا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ جدید دنیا میں فیشن کا شعبہ ایک ابھرتی ہوئی صنعت کی حیثیت اختیار کرچکا ہےجس کا حجم اربوں ڈالرز ہےجو لاکھوں لوگوں کے لیے روزگار کا بھی ذریعہ بھی ہے۔

اگرچہ پاکستان کے ساتھ دیگر کئی ممالک میں روایتی سلائی کڑھائی کے رجحانات بہت پرانے ہیں اور آج بھی ہمارے گاؤں، دیہات میں اکثر خواتین اس ہنر میں نہ صرف مہارت رکھتی ہیں بلکہ اس فن کو اپنی آنے والی نسل کو منتقل بھی کرتی ہیں لیکن بڑھتی ہوئی آبادی اور ضڑوریات کے پیش نظر اب روایتی فیشن کی بجائے اس شعبہ میں نت نئے رجحانات سامنے آرہے ہیں اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس نے باقائدہ ایک اکیڈمک شعبہ کی حیثیت حاصل کر لی ہےجہاں روایتی اور غیر روایتی دونوں طریقوں سے اس شعبہ کے ماہرین تیار کیے جارہے ہیں۔

کسی دور میں فیشن پر صرف طبقہ اشرافیہ کی اجارہ داری تھی لیکن اب مڈل اور لوئر مڈل کلاس بھی برانڈز کا شعور رکھتے ہیں۔ اگر پاکستان کی معیشت میں برآمدات کی بات کی جائے تو اس میں ٹیکسٹائل کا شعبہ سب سے نمایاں ہے۔

چین، پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت، جرمنی، انڈونیشیا، ملائشیا، مصر، فلپائن، ساؤتھ کوریا، سپین اور برازیل وہ ممالک ہیں جہاں دنیا کے بڑے ٹیکسٹائل برانڈز کے لیے مینوفیکچرنگ ہو رہی ہے۔ پیرس، میلان، نیویارک اور لندن دنیا بھر میں فیشن کے چار بڑے مراکز سمجھے جاتے ہیں۔ دنیا میں سات ایسے ممالک ہیں جو فیشن کے حوالے سے بین الاقوامی شہرت رکھتے ہیں جن میں فرانس، اٹلی، برطانیہ، امریکا، جاپان، جرمنی اور بیلجیئم شامل ہیں۔

Textile Design5

لباس کی مینوفیکچرنگ عام طور پر تین خطوط پر کی جاتی ہے جن میں انفرادی طور پر لباس کی تیاری ، مختلف برانڈز کی جانب سے موسموں کی مناسبت کو مدنظر رکھتے ہوئے محدود تعداد میں تیارکردہ ملبوسات اور ہر خاص و عام یا بڑی تعداد میں لوگوں کی گارمنٹس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مختلف برانڈز کی طرف سے ہر سائز کے ملبوسات کو متعارف کروانا جس کے لیے ماس مارکیٹ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

مختلف ملبوسات کی تیاری میں آرٹ، ڈیزائن اور جمالیات کو مد نظر رکھنا فیشن ڈیزائن کہلاتا ہے۔ اس میں ثقافتی اور سماجی رجحانات کو بطور خاص پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ ایک ڈیزائنر فیشن کے رجحانات پر ہمیشہ گہری نظر رکھتا ہے اور اس حوالے سے مینو فیکچررز یا کسٹمرز کی راہنمائی کرتا ہےاوراس سارے عمل میں یہی ڈیزائنر کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ میٹریل، رنگ، پیٹرن اور سٹائل کا صحیح انتخاب ہی ایک اچھے ڈیزائنر کی پہچان ہوتا ہے۔

ٹیکسٹائل انجینئرنگ اور فیشن انڈسٹری کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔دور جدید میں فیشن انڈسٹری کی شروعات انیسویں صدی میں ہوئی اور چارلس فریڈرک ورتھ وہ پہلا ڈیزائنر ہے جس نے اپنا برانڈ متعارف کروایا۔ ورتھ نے ہی سب سے پہلے اپنے کسٹمرز کو لباس کے انتخاب کے لیے راہنمائی دینا شروع کی۔

ڈیزائن ہاؤسز نے 1858ء کے بعد بہت سے گارمنٹس کے ڈیزائنز کے لیے باقاعدہ طور پر ماہرین کی خدمات حاصل کرنا شروع کیں اور کسٹمرز کو اپنے پسندیدہ ڈیزائن کے انتخاب کی چوائس دی جانے لگی۔ کسی دور میں ٹیلر ایک فرد واحد کے طور پر گارمنٹ تیار کرتا تھالیکن اب لباس کی تیاری میں بہت سے ماہرین کی مہارتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مختلف فیشن ہاؤسز لباس تیار کرواتے ہیں۔ ان ماہرین میں فیشن ڈیزائنر، ٹیکنیکل ڈیزائنر، پیٹرن میکر، ٹیلر، ٹیکسٹائل ڈیزائنر، سٹائلسٹ، پینٹر یا فوٹو گرافر، فیشن فورکارسٹر، ماڈلز اور فیشن جرنلسٹس شامل ہیں جن کا اس شعبے کی ترویج میں اپنا اپنا کردار ہے۔

ٹیکسٹائل انجینئرنگ: مواقع و امکانات

پارچہ بافی (ٹیکسٹائل) پاکستان کی سب سے بڑی صنعت ہے۔ اس شعبے میں پاکستان نے حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ آزادی کے وقت پاکستان میں پارچہ بافی کے صرف دوکارخانے تھے۔ جون 1991ءکے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بڑے ٹیکسٹائل ملوں کی تعداد 250ہے۔ ان کے علاوہ غیر منظم شعبے میں ہزاروں چھوٹے کارخانے کام کر رہے ہیں۔

ہر سال اوسطاً 50 نئے کارخانے قائم ہو رہے ہیں اور قومی برآمدات کا 52 فی صد سے زیادہ حصہ پارچہ بافی کی مصنوعات پر مشتمل ہوتا ہے۔ پاکستان ساختہ سوتی کپڑا، ملبوسات، اونی مصنوعات اور قالین دنیا بھر میں پسند کیے جاتے ہیں۔ اس طرح پارچہ بافی، انجینئرنگ کا ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ترقی کے بے شمار امکانات ہیں اور اس شعبے میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار اور ترقی کے روشن مواقع موجود ہیں۔

گزشتہ چند برسوں میں ٹیکسٹائل کی صنعت میں اہم تبدیلیاں آئی ہیں۔ صنعتوں میں کمپیوٹر کے استعمال نے ٹیکسٹائل کے شعبے میں بھی کئی ایسے کاموں کو آسان اور جلد ممکن بنا دیا ہے جن میں پہلے خاصا وقت صرف ہوتا تھا۔

Textile Design6

دھاگے کی تیاری اور کپڑے کی بنائی کے دوران ڈیزائننگ….یہ سب کام اب خود کار مشینوں سے ہونے لگے ہیں جس کے نتیجے میں مشینوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔پارچہ بافی کی صنعت کا خام مال قدرتی ریشہ(کپاس، اون، ریشم اور پٹ سن) اور مصنوعی ریشہ (نائیلون، وسکوز اور پولیسٹر) ہوتا ہے۔ ٹیکسٹائل ملوں میں اس خام مال کو کپڑے میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ ان مصنوعات میں لیس، کپڑا، قالین ، ہوزری اور بنت کی دیگر اشیا شامل ہیں۔

ٹیکسٹائل کی صنعت کے چار اہم مرحلے ریشے کی تیاری ، دھاگا بنانا، بنائی (ویونگ یانٹنگ) اور ڈائینگ یافنشنگ ہیں۔ پہلے مرحلے میں اون یا کپاس کی گانٹھوں کو ذخیرہ اور پھر صاف کیا جاتا ہے۔ اس صاف شدہ روئی کو کارڈنگ مشین کے ذریعے ایک نرم رسّی کی شکل دی جاتی ہے۔ اسے مزید کھینچا جاتا ہے، آہنی کنگھوں سے گزارا جاتا ہے اور اس میں بل دے کر پتلے اور مضبوط دھاگے میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ ویونگ اور نٹنگ کپڑا تیار کرنے کے دو طریقے ہیں۔ لوم مشین یا نٹنگ مشین سے تیار شدہ کپڑا ایک مسلسل لمبائی میں برآمد ہوتا ہے۔ سرکلر مشینوں سے بعض تیار ملبوسات بھی برآمد ہوتے ہیں۔ بلیچنگ، ڈائینگ،پرنٹنگ، فنشنگ کپڑے کی تیاری کے آخری مراحل ہیں جن سے گزر کر کپڑا بازار میں فروخت کے لیے پہنچ جاتا ہے۔

اپرنٹس شپ ٹریننگ

اپرنٹس شپ آرڈیننس کے تحت ٹیکسٹائل ملوں میں مختلف شعبوں میں دو سال بر سر کار (آن جاب) تربیت دی جاتی ہے۔ اس میں داخلے کے اشتہارات اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔ داخلے کی اہلیت بالعموم میٹرک ہوتی ہے۔

نصاب

نیشنل کالج آف ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں تین شعبوں میں تربیت دی جاتی ہے۔ پہلے سال کا نصاب تینوں شعبوں کے طلبہ کے لیے یکساں ہوتا ہے جب کہ بعد کے تین سال ہر شعبے میں تخصیص (اسپیشلائزیشن) کے ہوتے ہیں۔

سال اوّل میں اطلاقی ریاضی، اطلاقی طبیعیات، اطلاقی کیمیا، انجینئرنگ میٹیریلز، تھیوری آف مشینر، پارچہ بافی کے خام مال، حرکیات (تھرموڈائنامکس) انجینئرنگ ڈرائنگ اور گرافکس، ورک شاپ پریکٹس، اسلامیات اور مطالعہء پاکستان کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔

دوسرے سال میں اسپننگ، ویونگ ٹیکسٹائل ٹیسٹنگ، ٹیکسٹائل میکینکس، ٹیکسٹائل کیمسٹری، ریاضی، رامیٹیریلز، طبیعیات اور آرگینک کیمسٹری کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ تیسرے سال میں اسٹیٹکس اینڈ کوالٹی کنٹرول، ٹیکسٹائل فزکس، اسپننگ پروسیس، فیبرک اسٹرکچر، بلیچنگ اینڈ ڈائینگ، پولیمر کیمسٹری، الیکٹروٹیکنیکس، یارن پروڈکشن، کلر فزکس اور اسلامیات و مطالعہءپاکستان کے مضامین ہوتے ہیں۔

Text Design 7

چوتھے سال کے دوران طلبہ ٹیکسٹائل انجینئرنگ، ٹیکسٹائل ٹیسٹنگ، اسپننگ پروسیس اینڈ پلاننگ، اسپننگ پریپریشن اینڈ کیلکولیشنز، ویونگ تھیوری اینڈ پریکٹس، ویونگ کیلکولیشنز، ڈائی اسٹف کیمسٹری، ٹیکسٹائل کیمیکل اینالیسز، پروڈکشن اینڈ پلاننگ ان ٹیکسٹائل فنشنگ، اسلامیات و مطالعہءپاکستان، فایبر فزکس ، اکنامک مینجمنٹ، یارن پروڈکشن اینڈ پلاننگ، یارن پروڈکشن کیلکولیشنز، ایڈوانس اسپننگ اسٹیڈیز، اسپننگ پروجیکٹ ، فایبر اسٹرکچر اینڈ ٹیکسٹائل ڈیزائننگ، فیبرک اینالیسز اینڈ پروڈکشن، ویونگ پروجیکٹ، ٹیکسٹائل پرنٹنگ، بلیچنگ اینڈ ڈائینگ اور ٹیکسٹائل کیمسٹری پروجیکٹ کے مضامین پڑھتے ہیں۔

کراچی اور ملتان کے گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی میں بھی کم و بیش اسی نوعیت کا نصاب رائج ہے۔ ویونگ اور اسپننگ کے پہلے دو سال کے مضامین یکساں ہوتے ہیں۔ چوںکہ ان دونوں اداروں میں ٹیکسٹائل کیمسٹری (یا پروسیسنگ/فنشنگ) ٹیکنالوجی نہیں ہے اس لیے اس سے متعلق مضامین یہاںکے نصاب میں شامل نہیں ہوں گے۔

ذاتی کاروبار کے مواقع

ٹیکسٹائل کے ویونگ شعبے میں تربیت یافتہ امیدوار کے پاس ذاتی سرمایہ ہو تو وہ ۸ سے ۱۲ لوم مشینوں کا ویونگ یونٹ لگا سکتا ہے۔ اسی طرح تولیہ سازی اور ہوزری کا چھوٹا یونٹ بھی لگایا جاسکتا ہے۔چھوٹے پیمانے پر پروسیسنگ کا کام بھی شروع کیا جاسکتا ہے لیکن ذاتی کاروبار کے لیے سب سے بہتر مواقع گارمنٹس کی صنعت میں ہیں۔

متعلقہ پیشے

ٹیکسٹائل ڈیزائننگ، گارمنٹس اور سلائی کے دھاگے کی تیاری اس شعبے کے متعلقہ پیشے ہیں۔ ٹیکسٹائل ڈیزائننگ کی تعلیم و تربیت نیشنل کالج آف آرٹس لاہور، اور فائن آرٹس اور کمرشل آرٹس کے دیگر کالجوں/اسکولوں میںدی جاتی ہے۔ گارمنٹس کی باقاعدہ تربیت سوئیڈش پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے علاوہ دیگر ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹرز میں اور خواتین پولی ٹیکنیکس میں دی جاتی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published.