سر سید کا تعلیمی فلسفہ اور برطانوی سامراج

    March 31, 2019 6:09 pm PST
taleemizavia single page

عباس شاد

سید احمد خان مرحوم نے جب شعور کی آ نکھ کھولی تو دہلی میں علم وشعور کے دو بڑے مراکز تھے۔ ایک شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی جو ولی اللہی فکرو نظریہ کے ترجمان اور مربی تھے اور دوسرے مرزا مظہر جان جاناں شہید کے جانشین شاہ غلام علی کی خانقاہ جو طریقہ نقشبندیہ مجددیہ کے معمولات پر عمل پیرا تھی۔

سر سید کے ننھیال ولی اللہی فکر کے سرخیل شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے عقیدت رکھتے تھے اور والد شاہ غلام علی کے چہیتے مرید تھے۔ سرسید کی تعلیم ہندوستان میں موجود پرانے اصولوں پر ہوئی تھی انہوں نے پہلے قرآن مجید پھر فارسی درسی کتابیں کریما، خالق باری، آمد نامہ، گلستان، بوستان پڑھیں۔ گویا ہمارے ممدوح سید مولوی ہی تھے لیکن وہ اپنی یہ تعلیم بھی مکمل نہ کرسکے تھےان کی یہ پرانی طرز کی تعلیم بھی ادھوری رہ گئی تھی۔

سر سید آ غاز میں سید احمد شہید کی تحریک اصلاح سے بہت متاثر تھے سید احمد شہید اور سید اسماعیل شہید سے محبت اور عقیدت رکھتے تھے۔ لیکن بعد ازاں آپ نے بوجوہ اپنا راستہ بالکل جدا کرلیا کیونکہ آپ کمپنی کے ملازم تھے اور کمپنی کی خیر خواہی میں انہوں نے ہندوستانیوں کے مقابلے میں ہر محاذ پر کمپنی بہادر اور ان کے مفادات کو ترجیح دینا شروع کردیا تھا۔

سرسید تو اپنی تحریروں میں بہت واضح ہیں لیکن لوگوں نے ان کے قالب کو اپنی مرضی کی شخصیت میں ڈھالنے کے لیے بہت سی غلط فہمیوں کو جنم دیا ہے۔ سب سے پہلی غلط فہمی تو یہ پیدا کی گئی ہے کہ علماء نے سر سید کی مخالفت اس لیے کی کہ علما جدید تعلیم کے مخالف تھے. اس پر شیخ اکرام اپنی معروف کتاب موج کوثر میں لکھتے ہیں۔

ہم نے سر سید کے موافق اور مخالف دونوں تحریریوں کا مطالعہ کیا ہے. ہماری رائے میں یہ خیال غلط ہے اور علما اور اسلام کے ساتھ صریح بے انصافی ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے انگریزی کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے کے متعلق فتوی لیا گیا تھا تو انہوں نے بزور کہا تھا “جاؤ انگریزی کالجوں میں پڑھو اور انگریزی زبان سیکھو شرعاً ہر طرح جائز ہے۔

محمود الحسن شیخ الہند نے جامعہ ملیہ دہلی کے افتتاحی خطے میں کہا تھا کہ آپ میں سے جو حضرات محقق اور با خبر ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ میرے بزرگوں نے کسی وقت بھی کسی اجنبی زبان سیکھنے یا دوسری قوموں کے علوم و فنون حاصل کرنے پر کفر کا فتوی نہیں دیا۔ پھر بالآخر یہ کیوں تصور پیدا کرلیا گیا کہ علماء تعلیم کے مخالف ہیں سر سید نہ ہوتے تو ساری قوم جاہل رہ جاتی۔

پھرمدرستہ العلوم کی مخالفت بھی سب سے پہلے جدید تعلیم یافتہ دو بزرگوں نے کی تھی اور وہ دونوں معزز سرکاری ملازم تھے یعنی مولوی امدادالعلی ڈپٹی کلکٹر اور مولوی علی بخش سب جج۔ بلکہ اول الذکر بزرگ نے تو سب سے پہلے سر سید کے خلاف کتاب بھی لکھی تھی جس کا نام تھا “امدادالافاق برجم اہل نفاق بجواب پرچہ تہذیب الاخلاق، پھر بلا وجہ اکا بر دیوبند کو تعلیم کے بالمقابل کھڑا کرنا یہ تاریخ کی سب سے بڑی نا انصافی ہے۔

پھر سرسید کے اپنے ہی ساتھیوں نے جب علی گڑھ جاکر تجربہ کرلیا تو اسے محض کوٹ پتلون کی پیمائش گاہ قرار دیا اور پھر علی گڑھ کو نقصان بھی سرسید کی اپنی غلط پالیسیوں سے پہنچا مثلاً ایک عرصے تک کالج کا انتظام ایک مینجنگ کمیٹی چلا رہی تھی۔

سر سید نے 1889ء میں ایک ٹرسٹی بل تجویز کیا جس میں وہ بورڈ آف ٹرسٹیز کے سیکرٹری رہنا چاہتے تھے اور اپنے بیٹے سید محمود کو جوائنٹ سیکرٹری بنانے کے خواہاں تھے۔ اس تجویز کی مولوی سمیع اللہ خان، نواب وقار الملک اور دیگر بزرگوں نے سخت مخالفت کی لیکن سر سید نے کسی کی نہ سُنی اور اپنے بیٹے کو ہی جوائنٹ سیکرٹری بنوایا۔

سر سید کا صاحبزادہ بعد میں شراب نوشی کا شکار ہوا اور انگریز دوستوں کی صحبت میں رہنے لگا۔ سر سید کو اپنی آخری زندگی میں اس کا بہت گہرا صدمہ پہنچا۔ سر سید نے مذہبی معاملات میں اپنے آپ کو الجھا کر اپنی بہت سی توانائیاں ضائع کردیں انہیں اگر وہ سلیقے سے کہیں اور خرچ کرتے تو شاید بہتر نتائج دے پاتے۔ کیونکہ مذہبی معاملات میں بھی وہ کوئی بلند پایہ فکر پیش نہیں کرسکے جہاں جہاں ان کی مذہبی تشریحات میں عقل پسندی یا فلسفیانہ رنگ نظر آتا ہے۔

یہ جوہر شاہ ولی اللہ دہلوی کے ہاں پورے اور مکمل توازن کے ساتھ موجود ہے لیکن سرسید توازن کھوکر عدم توازن کا شکار ہوکر اصولی اور مسلمہ عقائد کا انکار کر بیٹھتے ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ دہلوی نے بھی انتہائی مدلل انداز میں عقائد، فلسفہ اور مذہب پر بحث کی ہے اور قدیم فلاسفہ کے علمی غرور کو توڑا ہے لیکن مجال ہے کہ کہیں پھسل جائیں۔

مگر سرسید مرحوم نے جس دلیری سے تسلسل، اجماع اور دیگر مسلمات کی دھجیاں بکھیری ہیں وہی انہیں لے ڈوبیں حالانکہ سر سید اوردار العلوم دیوبند کے مولانا قاسم نانوتوی ایک ہی چشمے سے سیراب ہوئے تھے اور اس چشمے کا امتیاز ہی یہ تھا عقلیت کے ساتھ ساتھ سلف کا تتبع مولانا قاسم نانوتوی نے دونوں امتیازات کو بخوبی نبھایا۔

لیکن سر سید نے جہاں سلف سے رشتہ توڑا وہاں عقلیت کے معیارات بھی قائم رکھنے میں ٹھوکر کھائی سر سید نے تعلیمی پالیسیوں کے توسط سے جہاں انگریزی تعلیم کی حمایت کی وہیں یہ ان کے حق میں زہر ثابت ہوئی۔ جو طبقہ ان سے متاثر ہوا وہ اپنی تمدنی وتہذیبی روایات سے بیگانہ ہوکر برطانوی سامراج کی غلامی و خوشنودی میں اپنی عزت و وقار کو ڈھونڈنے لگا۔ سر سید نے اپنی قوم کو انگریزی تہذیب و تمدن اور معاشرت کی خوب تلقین کی۔

ان کے نزدیک حق وباطل کا معیار صرف یہ رہ گیا تھا کہ انگریز ایسا کرتے ہیں یا نہیں کرتے وہ اپنے زیر اثر طلبا کو جہاں انگریزوں کی طرح اٹھنا بیٹھنا اور کھانا پینا سکھاتے تھے۔ وہاں دینی نظریے میں اعتزال بنیادی عقائد میں اضمحلال اور اسلامی علوم فنون کی تضحیک اورتمسخر بھی اڑاتے تھے۔ مسلمانوں کی سیاسی غلامی کے ساتھ ساتھ ذہنی اور فکری غلامی کا راستہ بھی ہموارکرنے میں سر سید مہرہ ثابت ہوئے لارڈ میکالے کے تعلیمی فلسفہ کو سر سید نے عملی شکل دی۔ دیسی ذہن پر انگریزی چھاپ لگانے میں سر سید پیش پیش رہے۔

بنیادی طور پر سر سید کا فلسفہ تعلیم ادھورا، ناقص اور بے جان ہے اور اس میں تین بنیادی نقص ہیں۔

اول یہ کہ سر سید عوام کو تعلیم دینے کے خلاف ہیں وہ صرف ایلیٹ کلاس اور نوابوں کی اولاد کو تعلیم دلانا چاہتے ہیں علی گڑھ میں صرف امیر زادے ہی پڑھتے تھے۔

دوئم سر سید خواتین کی تعلیم کے سخت خلاف ہیں ان کا خیال ہے تعلیم یافتہ خواتین خود سر اور باغی ہو جائیں گی۔

یہاں تک کہ انہوں نے خواتین کے حقوق پہ مولوی ممتاز علی کی کتاب پھاڑ ڈالی تھی مولوی ممتاز علی کا تعلق دار العلوم دیوبند سے رہا اور وہ خواتین کی تعلیم کے لیے کوشاں تھے۔

سوئم علی گڑھ میں جن مضامین کو پڑھایا جاتا تھا اس میں سائنس کم اور انگریزی تہذیب زیادہ نمایاں تھی۔ بلکہ دلی کالج میں زیادہ سائنس پڑھانے کا رجحان تھا۔

پروفیسر امجد علی شاکر ایک جگہ لکھتے ہیں کہ سر سید کا تصور سماج انتہائی پسماندہ تھا وہ بنیادی طور پر جاگیردار معاشرے کا احیا چاہتے تھے۔ جاگیر داری معاشرے کی اخلاقیات وروایات کی وہ حمایت کرتے اور اس کے علمبرداربھی تھے۔ کیا کوئی معاشرہ ان تین چیزوں کے بغیر ترقی کرسکتا ہے. جب کہ اس کے مقابلے میں دیوبند کا ایک عالم اپنے فلسفہ تعلیم میں یہ تینوں چیزیں دے رہا ہے۔

عبیداللہ سندھی کہتے ہیں کہ سر سید خواص کے لیے تعلیم کا تصور لے کر آئے تھے لیکن میں اپنے مزدور اور کسان کو اتنا ہی تعلیم یافتہ بنانا چاہتا ہوں جتنا کہ ایک زمیندار اور صنعت کار ہوسکتا ہے۔ اسی طرح سے وہ یورپ سے فنی مہارتیں سیکھنے کی بات کرتے ہیں. آج ہمیں سر سید کے تعلیمی فلسفہ کے نتائج پر مباحثہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جدید نوآبادیاتی دور میں اس فلسفے کے اثرات کو پرکھا جاسکے۔


abbas-shad

عباس شاد محقق ہیں اور دار الشعور لاہور کے ڈائریکٹر ہیں۔ تاریخ، سیاست، تعلیم، مذہب، فلسفہ پر متعدد کتابیں شائع کر چکے ہیں۔ وہ ماہنامہ شعور و آگاہی لاہور کے مدیر بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *