سندھ میں نویں، دسویں جماعت کے نصاب میں تبدیلی التواء کا شکار

  • December 9, 2017 4:11 pm PST
taleemizavia single page

کراچی:صفدر رضوی

حکومت سندھ کی عدم توجہی کے سبب صوبے میں نویں اور دسویں جماع کی سطح پر نصاب مٰں تبدیل کا عمل رُک گیا ہے اور پبلشرز کو چھپائی کیلئے پرانا نصاب ہی فراہم کر دیا گیا ہے جس کے باعث آئندہ تعلیمی سال میں بھی طلباء کو پرانا نصاب پڑھنا ہوگا۔

اسی طرح سال 2019ء میں بورڈ کے تحت امتحانات پرانے نصاب کے مطابق ہی لیے جائیں گے۔ صرف یہی نہیں میڑک کے نصاب میں تبدیلی کا عمل رُک جانے کے باعث گیارہویں اور بارہویں جماعت کے نصاب میں بھی تبدیلی میں تاخیر ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ مرحلہ وار تبدیلی کے تحت آئندہ سال انٹرمیڈیٹ کے نصاب کو بدلنا تھا۔

خیال رہے کہ سندھ میں نصاب کی تبدیلی کا عمل مرحلہ وار جاری تھا اور ابتدائی چار سالوں مٰں پہلی سے آٹھویں جماعت کی درسی کُتب تبدیل شدہ نصاب کے ساتھ سرکاری سکولوں کو اور مارکیٹ میں فراہم کی گئی تھیں جس کے بعد 2018ء میں نویں اور دسویں جماعت کا تبدیل شدہ نصاب فراہم کیا جانا تھا۔

یہ بھی پڑھیں؛ سندھ: 3 کروڑ درسی کتب کا ٹھیکہ انٹرنیشنل پبلشرز کو دینے کا فیصلہ

ذرائع نے بتایا ہے کہ نویں اور دسویں جماعت کی بائیولوجی، کیمسٹری، ریاضی، فزکس، مطالعہ پاکستان، اسلامیات اور سندھی مضمون کی کتابوں میں تبدیلی کا عمل مکمل نہیں ہوسکا جس کے باعث سندھ ٹیکسٹ بُک بوڈ نے چھپائی کے لیے پبلشرز کو پرانا نصاب ہی فراہم کر دیا ہے۔

سندھ ٹیکسٹ بُک بورڈ کے چیئرمین آغا سہیل کا کہنا ہے کہ مکمل طور پر نصاب کی تبدیلی ممکن نہیں ہوسکی ہے تاہم کچھ تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔

دوسری جانب بیورو آف کریکلم کے سربراہ مشتاق سہانی کہتے ہیں کہ اُردو کے مضمون کی کتاب کا مسودہ سندھ ٹیکسٹ بُک بورڈ کی جانب سے ہمیں بھجوایا گیا ہے، کتاب لکھی جا چکی ہے اور ریویو کے مرحلے میں ہے۔ بیورو جلد ریویو کے بعد اسے بورڈ کے حوالے کر دے گا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published.