صادق ایجرٹن کالج بہاولپور کا استاد شدت پسند شاگرد کے ہاتھوں قتل

  • March 20, 2019 10:35 pm PST
taleemizavia single page

بہاولپور: پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر بہاولپور میں بدھ کے روز ایک طالب علم خطیب حسین نے مبینہ طور پر اپنے استاد خالد حمید کو قتل کیا ہے، اس قتل کی وجہ انھوں نے اپنے استاد کے ‘مذہب مخالف سوچ’ قرار دی ہے۔

بہاولپور کے ایس ای کالج کے طالب علم خطیب حسین کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ ڈی پی او دفتر کے ترجمان نے کہا ہے کہ واقعے کی ایف آئی آر کاٹنے کے لیے انہیں درخواست موصول ہو گئی ہے اور آج ہی اس قتل کا مقدمہ خالد حمید کے بیٹے کی مدعیت میں درج کیا جائے گا۔

قتل کے اس واقعہ کے بعد فوری طور پر کالج بند کر دیا گیا. تفصیلات کے مطابق کل اکیس مارچ کو شعبہ انگریزی میں الوداعی پارٹی کا انعقاد کیا جارہا تھا جس کے لیے روز مرہ کی بنیاد پر طلباء و طالبات اس پارٹی کی تیاری کر رہے تھے۔ خطیب حسین نے اپنے ویڈیو بیان میں اس پارٹی کو اسلام مخالف پارٹی قرار دیا ہے۔

دوسری جانب بہاولپور میں ریجنل پولیس آفیسر کے ترجمان ریحان گیلانی کا کہنا ہے کہ ‘طالب علم خطیب حسین نے آج صبح چھریوں کے وار کر کے اپنے پروفیسر کو قتل کیا ہے جس کے بعد انہیں موقع سے ہی گرفتار کر لیا گیا۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ کالج میں رواں ہفتے منعقد ہونے والی ایک الوداعی پارٹی کی مخالفت کر رہے تھے’۔

خالد حمید صادق ایجرٹن کالج کے شعبہ انگریزی کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ تھے اور جس وقت ان پر حملہ ہوا وہ کالج میں ہی موجود تھے۔ واقعے کے بعد وہاں موجود لوگوں نے طالب علم کو پکڑ لیا اور ان کے بیان کی ویڈیو بھی بنائی۔

بہاولپور کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر امیر تیمور نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ٹیم تشکیل دی ہے، جو ‘قتل کے محرکات کی تحقیق کرے گی اور دیکھے گی کہ آیا اس قتل میں مزید افراد ملوث ہیں یا نہیں’۔

اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک خط بھی گردش کر رہا ہے جس میں کسی طالب علم کا نام لکھے بغیر ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی گئی ہے کہ کالج میں سالانہ فن فیئر کی ریہرسل جاری ہے، جسے رکوایا جائے’۔ اس فن فیئر کو ‘غیر اسلامی’ کہا گیا ہے، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی اطلاعات کے مطابق ایسا کوئی خط ڈی سی دفتر میں موصول نہیں ہوا اور معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں اپریل 2017 میں خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کو جامعہ کے طلبہ نے ان پر توہین مذہب کا الزام لگا کر قتل کر دیا تھا۔

اس واقعے کے کچھ ہی عرصے بعد چارسدہ میں اسلامیہ پبلک کالج کے ایک طالب علم نے اپنے پرنسپل پر مبینہ طور پر توہین مذہب کا الزام لگا کر انہیں قتل کر دیا تھا۔

جبکہ میں پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں 2016 میں پندرہ سالہ لڑکے نے اس وقت اپنا ہاتھ کاٹ دیا جب انہیں لگا کہ انھوں نے توہین رسالت کی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.