وائس چانسلر جامعہ پنجاب ظفر معین ناصر کون؟

  • January 5, 2018 10:06 pm PST
taleemizavia single page

عاصم قریشی

یوں تو لاہور کالجوں کا شہر ہے لیکن اب اس شہر بے مثال کو یونیورسٹیوں کا شہر بھی کہا جائے تو کو مضحکہ نہیں ہے۔ یہ پاکستان کا واحد شہر ہے جہاں پر بیس پرائیویٹ اور بارہ سرکاری یونیورسٹیاں ہیں۔ لاہور کی سب سے چھوٹی یونیورسٹی میں بھی طلباء کی تعداد چار ہزار سے زائد ہے۔

سرکاری و نجی یونیورسٹیوں میں معیار تعلیم پر سوالات، مباحثہ، مکالمہ اور تنقید کے لا جواب پہلو بھی ملتے ہیں۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں کا شہر ہونے کے باوجود پروفیسرز اور ماہرین تعلیم کے نزدیک ہم بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے برابر بھی نہیں پھٹک سکتے۔ گویا ہم خوب نقطء اعتراض اُٹھا کر داد وصول کرتے ہیں۔

لاہور کی سب سے بڑی یونیورسٹی یعنی جامعہ پنجاب میں طالبعلم کی تعداد پنتالیس ہزار کے لگ بھگ ہے اور یہاں پر تدریس پر معمور اساتذہ کی تعداد تیرہ سو سے زائد ہے۔

صرف یہی نہیں بلکہ پنجاب یونیورسٹی کا بجٹ بھی پاکستان کی کسی بھی پرائیویٹ اور سرکاری یونیورسٹی سے بڑا ہے اور یہاں بجٹ کا سالانہ گوشوارہ سات ارب سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔

ان حقائق کا موازنہ اب ہم دُبئی کی اُن دو امریکی یونیورسٹیوں کے ساتھ کرتے ہیں جسے یونیورسٹیز سرچ کمیٹی نے وائس چانسلر کی شارٹ لسٹنگ میں پاکستان کی بڑی سے بڑی حتیٰ کہ جرمنی کی نامور یونیورسٹیوں پر بھی فوقیت دی گئی۔

لازمی پڑھیں؛ لاہور میں وائس چانسلرز کی “امن کانفرنس” کی کہانی

امریکن یونیورسٹی دُبئی؛ یہ ایک پرائیویٹ یونیورسٹی ہے جو دو ہزار چھ میں قائم ہوئی بنیادی طور پر یہ انڈرگریجویٹ اور گریجویٹ کی ڈگری کراتی ہے جو دُبئی انٹرنیشنل اکیڈمک سٹی کے تین بلاک پر مشتمل ہے گویا یوں سمجھیئے کہ پنجاب یونیورسٹی کے کوئی سے بھی تین ڈیپارٹمنٹ کے برابر اس یونیورسٹی کا کل رقبہ ہے۔

یہاں پر صرف چھ ایم اے کے پروگرامز ہیں جس میں صرف 2 ہزار 283 طلباء زیر تعلیم ہیں یعنی پنجاب یونیورسٹی کے صرف ہیلے کالج آف کامرس میں ہی طلباء کی تعداد پانچ ہزار سے زائد ہے جہاں پر ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرام بھی کرائے جاتے ہیں۔

امریکن یونیورسٹی دُبئی میں کُل اساتذہ کی تعداد 103 ہے جہاں پر سرے سے نہ تو ایم فل کی ڈگری کرائی جاتی ہے اور نہ ہی پی ایچ ڈی کی ڈگری آفر ہوتی ہے۔ یہاں کے انگلش لینگوئج سنٹر میں صرف تین اساتذہ ہیں۔

گریجویٹ لیول پر ایم بی اے، ماسٹر آف آرٹس ان ڈپلومیسی، ماسٹر آف آرٹس ان سیکورٹی اینڈ سٹرٹیجک سٹڈیز(میڈیا)، پروفیشنل ماسٹر ان سپورٹس لاء، سپورٹس مینجمنٹ، لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنسز کے پروگرامز ہیں بس اس کے بعد یونیورسٹی ہی ختم ہوجاتی ہے۔

اب بات ہوجائے یونیورسٹی آف ماڈرن سائنسز دُبئی کی؛ یہ یونیورسٹی دو ہزار دس میں قائم ہوئی اس یونیورسٹی کی پوری عمارت پنجاب یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف ایڈمنسٹریٹو سائنسز سے بھی شاید چھوٹی ہے اور لائبریری تو جامعہ پنجاب کے انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ کلچرل اسٹڈیز کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتی۔

شاید آپ کو جان کی حیرانی ہو کہ یہاں پر قائم پانچ کالجوں میں سے ایک کالج آف ٹورازم ایسا کالج ہے جہاں پر صرف ایک اُستاد ہے۔ نام تو یونیورسٹی آف ماڈرن سائنسز ہے لیکن یہاں پر صرف بیچلرز اور گریجویشن کے کورسز کرائے جاتے ہیں اور اساتذہ کی مجموعی تعداد 80 ہے۔ محض یونیورسٹی کے نام کے ساتھ امریکن یا پھر ماڈرن لگا دینے سے یہ دُنیا کی عالمی پائے کی یونیورسٹی نہیں بن جاتی۔

ضرور پڑھیں؛ وائس چانسلرز: اُستاد سے شہنشائے سیاست تک

چلیں اب ذرا آگے بڑھتے ہیں اور واپس پاکستان آتے ہیں۔ وائس چانسلرز کی سلیکشن کیلئے جب دو ہزار پندرہ میں حکومت پنجاب نے اشتہار دیا تو تین سو زائد اُمیدواروں نے درخواستیں جمع کرائی لیکن جامعہ پنجاب کیلئے جن تین اُمیدواروں کو سرچ کمیٹی نے شارٹ لسٹ کیا تھا اُن میں ظفر معین ناصر بھی شامل ہیں جن کا انٹرویو سرچ کمیٹی کے سربراہ سید بابر علی کی خواہش پر سکائپ پر کیا گیا یوں دو مرتبہ سکائپ پر انٹرویو کے بعد ظفر معین ناصر کو بھی شارٹ لسٹ کر لیا گیا۔

ظفر معین ناصر اُن دنوں یونیورسٹی آف ماڈرن سائنسز دُبئی میں تعینات تھے اور اُنہوں نے وہاں پر ستمبر دو ہزار پندرہ میں جوائننگ دی تھی یوں بطوراُمیدوار وائس چانسلر درخواست جمع کرانے کے وقت اُنہیں اس یونیورسٹی میں تعینات ہوئے صرف دو مہینے ہی ہوئے تھے لیکن اس چھوٹی سی یونیورسٹی (جس کی اپنی عمر محض چھ سال ہے) کے دو مہینے کے تجربے کو اتنی اہمیت دی گئی کہ اُنہیں جامعہ پنجاب جیسی یونیورسٹی میں رئیس جامعہ کے لیے شارٹ لسٹ کر لیا گیا؟

اسی طرح ظفر معین ناصر اس سے پہلے امریکن یونیورسٹی دُبئی میں تعینات تھے جو 2006ء میں بنی جس کا تفصیلی تذکرہ اُوپر کر دیا گیا ہے۔ 2012ء سے 2015ء تک اس یونیورسٹی کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن بھی تعینات رہے جو تین سال چھ مہینے کا عرصہ بنتا ہے۔

لیکن اس چھوٹی سی یونیورسٹی کا تین سال چھ مہینے کا تجربہ اس قدر اہمیت کا حامل کہ سرچ کمیٹی کو مجبور ہونا پڑا کہ وہ ان کے نام کو جامعہ پنجاب کیلئے کنسیڈر کرے۔

کیا اصل محرکات یہی تھے یا پس پشت کہانی کُچھ اور ہے؟

وائس چانسلر کے دیگر اُمیدواروں میں ایسے نام بھی شامل تھے جن کی پی ایچ ڈی کی ڈگریاں دُنیا کی پہلی دو سو بہترین یونیورسٹیوں سے مکمل ہوئیں، جن کے ریسرچ مقالوں کی تعداد دو سو سے بھی زائد ہے، جن کا بطور پروفیسر تجربہ بیس سال سے بھی زائد ہے۔ جنہوں نے پاکستان کی بڑی بڑی سرکاری جامعات میں ڈینز کے عہدوں پر کام کیا، بڑی سرکاری جامعات میں وائس چانسلرز تعینات رہے لیکن یہ سب نا اہل ٹھہرے۔

ظفر معین ناصر کی تو کنساس سٹیٹ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے جو آج بھی پہلی آٹھ سو یونیورسٹیوں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔

کیا اس نام کو شارٹ لسٹ کرنے کے پیچھے اصل کہانی کچھ اور تھی؟ کیا یہ وجہ تو نہیں کہ باقی اُمیدواروں کے پاس آئی ایم ایف کے مفادات کو تحفظ پہنچانے والے پراجیکٹس کرنے کا تجربہ نہیں تھا؟

کیا چالیس چالیس سال تک پاکستان کی سرکاری یونیورسٹیوں میں انتظامی ذمہ داریوں، مالی فیصلوں اور بین الاقوامی گرانٹس جمع کرنے کا تجربہ دُبئی کی ان دو چھوٹی چھوٹی یونیورسٹیوں کے مقابلے پر کوئی معنی نہیں رکھتا؟

یا شارٹ لسٹ ہونے کے لیے سرچ کمیٹی کے سربراہ اور اہم ترین ممبر کے ساتھ قریبی تعلقات ہونا از بس ضروری تھا؟

یہ بھی پڑھیں؛ وائس چانسلرز کی ماہانہ تنخواہ 6 لاکھ 79 ہزار روپے ہوگئی

جن بارہ ناموں کو سرچ کمیٹی نے وائس چانسلرز کیلئے فائنل کیا تھا ان ناموں کی تفصیلی جانچ پڑتال کرنے کے بعد تو خود سرچ کمیٹی کے خلاف پورا وائٹ پیپر تیار کیا جانا چاہیے اور اس وائٹ پیپر کو عدالت میں جمع کرایا جائے تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ کس طرح سے سرکاری یونیورسٹیوں کے خلاف قومی مفادات کے برعکس سازش کی گئی ہے اور اس سازش کی پُشت پر کون ہے۔

اس وائٹ پیپر میں کوئی سے بھی دیگر پانچ اُمیدواروں کے پروفائل کو شارٹ لسٹیڈ اُمیدواروں کے ناموں کے ساتھ موازنہ بھی یا جائے تاکہ اندازہ ہو کہ کیسے جان بوجھ کر نااہل افراد کو اداروں پر مسلط کیا جاتا ہے۔

ایسے افراد کو وائس چانسلر کے اُمیدوار کے طور پر شارٹ لسٹ کرنا کہ جنہوں نے کبھی مالی مینجمنٹ ہی نہیں کی، جنہوں نے کبھی مالی فیصلے ہی نہیں کیے، جنہوں نے محض انڈرگریجویٹ پروگرامز کو پڑھایا، جن کے ریسرچ پیپرز امپکٹ فیکٹ جرنلز میں نہ ہونے کے برابر ہیں تو پھر قصور وار کون ہے؟

سرچ کمیٹی کا 91 سالہ عمر رسیدہ ممبر سید بابر علی جب 64 سالہ شخص کو محض اپنی ذاتی انا کی خاطر یہ کہہ کر وائس چانسلر پراسیس سے باہر کرنے کی کوشش کرے کہ یہ چونسٹھ سالہ شخص اب بزرگ ہوگیا ہے تو پھر کسی نہ کسی کے خلاف وائٹ پیپر تو بنتا ہے۔

اگر یہ شارٹ لسٹیڈ اُمیدوار اتنے ہی وائبرینٹ ہیں تو پھر سرچ کمیٹی کے سید بابر علی ان اُمیدواروں کو اپنی یونیورسٹی میں ہی لے جاکر تعینات کر دیں تاکہ پنجاب کی سرکاری یونیورسٹیز کی بجائے اپنی یونیورسٹی (لمز) کی تباہی کا منظر بھی اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔


  1. Very important points to be remembered.

    This is besides his name issue as on his degrees / experience certificates and research publications.
    1. ZAFFAR MUEEN NASAR and
    ZAFAR MUEEN NASIR are legally two different persons.
    He has just 03 HEC recognized publications including 01 in blacklisted Journal as notified by HEC. As against the requirements of 15 HEC recognized publications in HEC recognized Journal.
    2. Regarding his 12 yrs of teaching experience he has never been to a teaching position in PIDE as per act of the Parliament, therefore does not conform to tangible two criteria as advertised by HED. i. e. 12 yrs of teaching experience and 15 HEC recognized Journal Publications.
    3. A brief of Dr. Zaffar Mueen Nasar’s high ranked academic career which compelled the search committee convener to shortlist him for PU.

    Matric RWP 1st Div.
    FSc. RWP. 2nd Div. 51% 511/1000.
    BSc. PU 2nd Div* 45% 315/700 (Double maths and Physics)
    MA. QAU 3.2/5 CGPA.
    I would therefore request you all to save Pakistan from such identity scams and so called academicians.
    Why don’t the convener of the committee appoint this legendary Academician as Rector LUMS after Prof Dr Sohail Naqvi?
    Why he was sent to PU? Is it a deliberate attempt to destroy the public sector?
    We are answerable to our younger Generations.

Leave a Reply to ظفر معین Cancel reply

Your email address will not be published.