تیسری دُنیا کی کرکٹ اور پاکستان کا طالبعلم

  • March 21, 2018 12:02 pm PST
taleemizavia single page

پروفیسر اکرم سومرو

سیٹی بجے گی، سٹیج سجے گا، تالی بجے گی، اب کھیل جمے گا

پاکستان کا مطلب کیا؟

غلا م ہیں غلام ہیں رسول ﷺ کے غلام ہیں

روٹی کپڑا اور مکان، مانگ رہا ہے ہر انسان

کیا ان سب نعروں میں اور قومی مسائل کے درمیان کوئی ہم آہنگی ہے؟

پاکستان کی 70 فی صد آبادی غربت کے معیار سے بھی نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ کم از کم پاکستان کی یونیورسٹیز و کالجز کے نوجوان کو اندازہ ہونا چاہیے کہ پاکستان تیسری دُنیا کے ممالک کی فہرست میں ہے، پسماندگی قومی مقدر بن چکی ہے۔ ہم ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں گنتی کے سرمایہ داروں، حکمرانوں، پالیسی سازوں کے گماشتوں کے یرغمال ہیں۔

یہاں علوم کی ترسیل اور معلومات کا تبادلہ بھی منافع کے ارتکاز کا محتاج بن چکا ہے۔ تیسری دُنیا کے ممالک پر سامراجی تسلط کو برقرار رکھنے کیلئے وہاں کی عوام کو قومی مسائل کے بجائے جز وقتی خوشیوں میں مصروف کر دیا جاتا ہے۔ پاکستان کا اشرافیہ اب میڈیا کے ساتھ مل کر یہ کھیل کھیل رہا ہے۔ گزشتہ ایک مہینے سے میڈیا منڈی کے ذریعے سے جو ایجنڈا سیٹ کیا گیا ہے اس کا محور پاکستان سُپر لیگ کے گرد گھوم رہا ہے۔ میڈیا مالکان اشتہارات زیادہ ملنے کی بناء پر پی ایس ایل کی عمدگی کے نشے کے انجکشن مسلسل عوام کو لگا رہے ہیں، عوام کو اس کی ضرورت ہے یا نہیں اس سے قطع نظر، میڈیا محض اشرافیہ کے مفادات کو تحفظ فراہم کر رہا ہے، غالبا میڈیا مالکان بھی اسی اشرافیہ کا حصہ بنتے چلے جارہے ہیں۔

پی ایس ایل تو پاکستان کی شناخت ہے لیکن گراؤنڈز دُبئی کے آباد ہوئے، لاہور میں ایک دو میچ اور ایک میچ کراچی میں رکھ کر عوامی دلجوئی کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ تنقید باقی نہ رہے۔ جن غیر ملکی کھلاڑیوں نے پی ایس ایل کے نام پر بھاری معاوضے لیے اُنہوں نے پاکستان میں کھیلنے سے انکار کر دیا اور وہ دُبئی سے ہی واپس اپنے ملکوں کو چلے گئے۔ پی سی بی کو پہلے سے معلوم تھا کہ کون سے کھلاڑی پاکستان نہیں آئیں گے لیکن عوام کو لا علم رکھا گیا کہ کرکٹ کا کاروبار چلتا رہے۔

کرکٹ کے ذریعے سے پاکستان اپنا عالمی تشخص قائم کرنا چاہتا ہے، کہ ریاست پُر امن ہے اگرچے اس امن کو برقرار رکھنے کے لیے لاہور کو سیکورٹی کے نام پر سیل کیا گیا، شاہرائیں بند کی گئیں، فوج، رینجرز حتیٰ کہ پولیس کے 18 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے، پانچ گھنٹے تک ٹریفک جام رہا، عوام کا وقت، پیسہ، پٹرول اور خون جلتا رہا۔ یہ کیسا کرکٹ میچ ہے کہ جس کی قیمت عوام کو ادا کرنا پڑ رہی ہے، یہ کیسا کرکٹ میچ ہے جس میں بندوقیں اُٹھائیں اہلکار امن کا پیغام دُنیا کو دے رہے ہیں۔ کیا ترقی یافتہ ممالک کی آنکھیں بند ہیں جنہیں سیکورٹی کی صورتحال پر اندھا رکھا جا سکتا ہے۔

میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے لیکن اس ستون میں سرمایہ پرستی کا غلبہ ہے، مالکان ملٹی نیشنل کارپوریشنز کے ساتھ گٹھ جوڑ میں ہیں، ملکی اشرافیہ کے ساتھ دوستی کا بندھن ہے اور عوامی خدمت کے نام پر فراڈ بیچا جاتا ہے اور مفاد خریدا جاتا ہے۔

میڈیائی حلقوں سے وابستہ رپورٹرز سے لے کر اینکرز تک سبھی اس ملک پر سٹیٹس کو، استحصالی نظام کو قائم رکھنے میں حصہ دار ہوگئے ہیں۔ آواز حق تو شاید امارت کی کثیر المنزلہ عمارت کے نیچے دب کر رہ گئی ہے۔ قومی مسائل کا حل کرکٹ میں تلاش کیا جارہا ہے، قومی شناخت کا حل کرکٹ میں تلاش ہورہا ہے، قومی ترقی کا حل کرکٹ میں بتایا جارہا ہے، قومی خوشی کو کرکٹ سے جوڑا جارہا ہے، قومی و ملکی امن کو کرکٹ کا محتاج بتایا جارہا ہے، گویا کرکٹ ہے تو امن ہے اور امن ہے تو کرکٹ ہے اور اسی سے ہی معاشی و اقتصادی ترقی کے سارے راز پنہاں ہیں۔

تیسری دُنیا کا میڈیا ظلم کو تحفظ دیتا ہے، عوام کا سیاسی، معاشی شعور سلب کرتا ہے، خبرنامہ میں کرکٹ کا جنون یوں دکھایا جاتا ہے گویا پوری قوم اس کا شکار ہو، خبرنامہ کا آغاز ملک کی اقتصادی بدحالی کی بجائے کرکٹ کے چوکے اور چھکے سے کیا جاتا ہے۔ یہ کھیل تماشہ کون کر رہا ہے؟ اس کھیل تماشے کو کرانے والے کون ہیں؟

نوم چومسکی کے میڈیا کے نظریات شاید پاکستانی میڈیا کے لیے پیش ہوئے ہیں، جہاں خبر منتخب ہونے سے لے کر نشر ہونے اور شائع ہونے تک مالی مفاد کے گرد گھومتی ہے۔ اشتہارات ہی میڈیا کا مذہب ہیں، میڈیا کی سیاست ہیں اور میڈیا کی آکسیجن ہیں۔ میڈیا کی پالیسی کہاں طے ہوتی ہے، مالکان کس سے ہدایت لیکر ڈائریکٹر نیوز، ڈائریکٹر پروگرامنگز کو ڈائریکشن دیتے ہیں یہ سب کچھ ہمیشہ سے مخفی رہا ہے۔ پھر کیا ہوتا ہے، رپورٹر وہی رپورٹ کرتا ہے جس کی ہدایت ہوتی ہے، اینکر وہی بولتا ہے جس کے پیسے ملتے ہیں، کاپی ایڈیٹر وہی خبر کلیئر کرتا ہے جس کا حکم ہوتا ہے، نیوز پروڈیوسر وہی سُرخیاں لگاتا ہے جس کی ہدایت وہ براہ راست اُوپر سے لے رہا ہوتا ہے۔ میڈیا اب چوتھے ستون سے زیادہ سرمائے کا ارتکاز کرنے کی سائنس بن گئی ہے۔

قوم کی ترقی قومی خوشحالی، سیاسی عدل و انصاف، معاشی عدل، سماجی امن اور انسانوں کی ترقی سے وابستہ ہوتی ہے۔ قوم جب اقتصادیات کے شعبے میں ترقی کرتی ہے تو عالمی سطح پر پذیرائی ملتی ہے، ریاست جب سیاسی امن قائم کرتی ہے تو دُنیا گواہی دیتی ہے۔ کرکٹ کے ذریعے سے گنتی کے سرمایہ داروں کو منافع تو ملتا ہے، لیکن کرکٹ گراؤنڈ کے باہر بندوقوں کے سائے میں قومی شناخت، سیاسی امن کا سبق دُنیا کو نہیں پڑھایا جاسکتا۔

پی ایس ایل کی پاکستانی میڈیا میں پذیرائی کا جو پراپیگنڈہ شعوری طور پر کیا جارہا ہے اس کا لازمی نتیجہ عوام میں بے شعوری کو پروان چڑھانا ہے تاکہ استحصال اور جبر کا یہ نظام یوں ہی قائم رہے اور پاکستان کا مطلب لا الہ الا اللہ نہیں بلکہ اشرافیہ کے معاشی مفادات کا تحفظ ہی باقی رہے۔


akram-soomro-2

محمد اکرم سومرو میڈیا اسٹڈیز کے اُستاد ہیں وہ آج کل لاہور میں پنجاب یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف کیمونیکیشن اسٹڈیز میں تعینات ہیں۔ اس سے پہلے وہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد اور ایف سی کالج لاہور میں پڑھا چکے ہیں۔ میڈیا پر شعوری تنقید کے ذریعے طلباء کو پڑھانا ان کا شوق ہے۔

  1. Australia New Zealand me bhi match hote hain england me bhi … wahan to mehz ground staff aur gate keepers k ilawa koi security nazar nhi aati… Ham foreign media ko chaaron atraaf me guns aslah barood dikha kr kya prove kr rhy hain

  2. It’s 100 percent right. I am strongly agree with u at the point of PSL. Overall it’s amazing article encouring youth of pak specially students of colleges and universities for betterment of the country.

  3. Lamha e fikriyah ha #sir ye ab bhi na jaage to kb jaagain gye?? Kbhi hm bharti filmaon dekh krr hansaa krte the k… bharat main aesa hota ha… tb hm chote the…. yahaaan to us se kayiii darje badtreeen hmare swth ho rha ha! 😐😐😐
    ALLAH is qoam ko hidayat de. . . Or ise Sahii or umda leader de…! Ameeen

  4. ایک بہترین نظریہ فکر۔بڑے بڑے مسئلوں کو پس پشت ڈال کر قومی ترقی چھوٹے اور وقتی واقعات میں پنہاں کرنا ایک سازشی عنصر ہے اور اس کا زہر اتنا اژر پزیر ہو چکا ہے اور اس حد تک سرایت کر چکا ہے کہ عوام الناس آنکھیں اور بصیرتیں بند کیے اندھا دھند پیروی کر رہے ہیں۔

  5. عمدہ کاوش اور اچھا پیغام
    سر سومرو صاحب کے اس آرٹیکل پر ابھی کچھ اشعار لکھے ہیں۔

    بندوق کے ساۓ میں محبت کا پیام دیتے ہیں
    کرکٹ کی بحالی کو امن کا نام دیتے ہیں
    ہر طرف بھوک اور مفلسی کا عالم ہے
    پر کھلاڑیوں کو وہ منہ مانگے دام دیتے ہیں

    اور ایک یہ رباعی بھیکہ

    ٹریفک جام,ہر ذی روح نشاط مدام ہے
    کرکٹ میڈیا میں زباں زد عام ہے
    کرکٹ کی بحالی ہے تو سب اچھا ہے
    یہ میرے ملک کا عجب نشری نظام ہے۔

  6. I am not agree with u doctor sahb. India nay well planned mansoby k teht pakistan mein dehstgardi krai, jis say na sirf jano mal ka nuqsan hua wahan muashi traki bhi ruk gai. Koi forign investers yahan nain aye aur same sports mein hua. Is duration mein india nay bohat say forign investrs hasil kiay aur sports mein bhi boht agy nikal gaya. Sports k through india ki earning is time india ko boht agy lai ja rahi hai. Pakistan nay bari mushkil say terrorism p qabo paya hai. Aur sports ko wapis lany k liay yh sab krna perna hai. Humen yh sab bear kerna hai. I m in lahore. Yahan shadid trafgic jam and many more problem arises due to this match. But m happy bcz sports is coming back slowely.

  7. GOOD
    But had it been better if u would have given solution rather than just criticism
    There is always some room for improvement

Leave a Reply to Waleed Asghar Cancel reply

Your email address will not be published.