ادب کا نوبیل انعام متنازعہ کیوں؟

    October 9, 2020 9:10 pm PST
taleemizavia single page

ناصر عباس نیئر

سویڈش اکیڈمی ہر سال، اسی ماہ اکتوبر میں، طبیعیات ،کیمیا، طب ،معاشیات کے ساتھ ادب اور امن کے لیے نوبیل انعامات کا اعلان کرتی ہے۔ ادب اور امن کے انعامات عام طور پر متنازع بنتے ہیں ۔ کیا اس لیے کہ ہم سائنس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے یا ادب اور امن کے بارے میں زیادہ حساس ہیں ، کیوں کہ وہ راست ہماری زندگیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں؟

لیکن ایک اور وجہ بھی ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز سے شروع ہونے والا یہ انعام صرف اپنی اصل (سویڈن ) کے لحاظ ہی سے نہیں ، اپنی تاریخ اور اپنے طریق کار کے اعتبار سے بھی مغربی ہے۔ انعام دینے کاطریقہ بھی کچھ ایسا ہے کہ غیر مغربی دنیا کے کسی ادیب کو انعام مل جائے تو معجزہ ہو۔ ہر سال ستمبر میں مخصوص لوگوں، اداروں اور نوبیل انعام یافتگان کو نام تجویز کرنے کا باقاعدہ دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔

اس کا جائزہ نوبیل کمیٹی کے ارکان لیتے ہیں اور پہلے پندرہ بیس ادیبوں کی مختصر فہرست بنائی جاتی ہے ۔پھر چار پانچ ادیب منتخب کر لیے جاتے ہیں۔ حتمی فیصلہ ووٹنگ کے ذریعے ہوتا ہے۔ ادب کے ایک سو سترہ انعام یافتگان (ایک سو تیرہ مرتبہ دیا گیا ہے ، لیکن چار بار یہ انعام دودولوگوں میں تقسیم ہوا) میں غیر مغربی دنیا کے فقط پچیس کے قریب ادیب شامل ہیں۔ اس برس یہ انعام امریکی شاعرہ لوئزے گلک کو ملا ہے۔ 1943 میں نیویارک میں پیدا ہونے والی لوئزے ، ییل یونیورسٹی میں انگریزی ادب کی پروفیسر ہیں اور بارہ شعری مجموعوں کی خالق ہیں۔ وہ سولھویں خاتون ہیں جنھیں یہ اعزاز ملا ہے۔

کل سہ پہر سے پہلے انھیں امریکا سے باہر کم جانا تھا مگر اب انھیں پوری دنیا جاننے لگی ہے ۔نوبیل انعام ادیب کو بھاری رقم ہی نہیں ، بے مثال شہرت بھی دیتا ہے۔ اور کٹہرے میں بھی کھڑا کرتا ہے۔ کل سے ان پرتنقید ہورہی ہے۔گزشتہ برس سویڈش اکیڈمی کو پیٹر ہیڈکے کے انتخاب پرعالمی سطح پر جس تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اس کی مثال خود نوبیل انعامات کی تاریخ میں نہیں ملتی۔

عالمی سطح کا شاید ہی کوئی ادیب اور عالمی ادبی تنظیم ہو جس نے پیٹر ہینڈکے کوسربیا کے صدرملا سو وچ کی حمایت پر بدترین تنقید کا نشانہ نہ بنایا ہو۔کیا نوبیل کمیٹی خود اپنے فیصلے کے ممکنہ ردّ عمل کااندازہ کرنے سے قاصر تھی یا وہ پیٹر ہینڈکے کے خیالات کی تائید کررہی تھی یا پھر وہ ادب کو ادیب کے سیاسی نظریات سے الگ کررہی تھی ؟ بورخیس نے ایک جگہ ادیبوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سیاسی تبصروں سے گریز کریں ۔

کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک سیاسی تبصرہ ، کسی ادیب کے سارے ادب کو متنازع بنادیتاہے۔ پیٹر ہینڈکے کو بھی بعد میں احساس ہوگیا تھا ۔ اس نے ایک جگہ کہا کہ اس کا تعلق ٹالسٹائی ، ہومر اور سروانٹس سے ہے؛ ادیبوں کے قبیلے سے ہےنہ کہ سیاستدانوں کے گروہ سے۔اصل سوال یہ ہے کہ ادیب عوام کے ساتھ ہے یا عوام پر ستم ڈھانے والوں کے ساتھ ۔لیکن لوئزے گلک پر تنقید ، ان کی شاعری کے معیار کے حوالے سے ہورہی ہے۔

ناول نگاروں کے مقابلے میں شاعروں پررائے دنیا آسان ہے کہ صرف چند نظمیں(یا اشعار) پڑھ کر ایک رائے قائم کی جاسکتی ہے۔ یہ بات قارئین سے زیادہ شاعروں کے لیے اہم ہے کہ انھیں اپنا ایک شعر یا نظم بھی شایع کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنا چاہیے۔

لوئزے گلک کی شاعری ایک طرح کی نہیں ہے۔ اکثر نظمیں سادہ اور روزمرہ زبان میںلکھی گئی ہیں۔ یہ نظمیں پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے ،جیسے وہ عام زبان میں عام روزمرہ کی حقیقت کو محسوس کرانا چاہتی ہیں۔استعارے سے انھیں کم دل چسپی ہے۔ اس کی کمی وہ زبان کے باکفایت اور ایک ایسے فنکارانہ استعمال سے کرتی ہیں کہ لائنوں کے درمیان خاموشی کے وقفے پیدا ہوتے ہیں۔ وہ گھریلو ، خاندانی زندگی کو بہ طور خاص موضوع بناتی ہیں۔

ان کی کئی نظمیں ڈائری کی تیکنیک میں ہیں۔ ان کی نظم “اے ٹریول ڈائری “، نجی ڈائری کے احتیاط سے لکھے گئے مختصر پیراگراف کی مانند ہے۔ ان کی وہ نظمیں کہیں زیادہ اچھی ہیں جن میں وہ یونانی ولاطینی اساطیرکو از سر نو لکھتی ہیں اورانھیں روزمرہ تجربوں سے آمیزکرتی ہیں۔

اس ضمن میں ان کی کرائس نام کی یونانی جادوگرکردار کے حوالے سے لکھی گئی۔ بایں ہمہ روزمرہ حقیقت سے شاعری اخذکرنا ہو یا چیز کو بہ طور چیز پیش کرنا ہو شاعری میں اساطیر کا استعمال ہو،ان میں سے کوئی طریق کار بھی لوئزے کی ایجاد نہیں ،جس کی توقع نوبیل انعام حاصل کرنےو الے سے کی جاتی ہے۔

یہ سب ان سے پہلے والٹ وٹمین ، ایذر پائونڈ اور ٹی ایس ایلیٹ خاص طور استعمال کرچکے ہیںاور شاید انھیں پوری طرح صرف بھی کرچکے ہیں!اس انعام میں اگر کوئی چیزجشن منانے کے قابل ہے تو وہ یہ کہ یہ شاعری کو انعام دیا گیا ہے۔

فکشن کی بے مثال مقبولیت نے شاعری کو قدرے پسپا کردیا ہے ۔یہ اچھا نہیں ہوا۔شاعری ہمارے تخیل کو برانگیختہ رکھتی ہے،ہمارے لسانی فہم کو وسعت بہ کنار کرتی ہے اور نئے احساسات سے ہمکنار کرتی ہے۔ اس کی عدم مقبولیت ، ایک سماجی نفسی المیے کی نشان دہی کرتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *