گمشدہ لاہور اور ادب کی تخلیق

    February 22, 2019 3:58 pm PST
taleemizavia single page

اکمل سومرو

رام کرشن چندر کے بیٹے لوہ کو کیا معلوم تھا کہ جس جگہ کو وہ آباد کر رہا ہے وہ لوہ کوٹ سے لاہوربن جائے گا، لوہ کو کیا اندازہ تھا کہ یہ شہر ہندوستان کا دوسرا سیاسی مرکز بن جائے گا پھر اس شہر میں وقت کا بادشاہ جلال الدین اکبر قلعہ تعمیر کر کے یہاں رہے گا۔ لوہ تو ہندو ازم کا عقیدہ رکھتا تھا اُسے کیا معلوم تھا کہ لاہور میں 99 فیصد مسلمان آباد ہوں گے۔پھر لاہور باغوں کا شہر ہوگا، ادب کا مرکز ہوگا، ثقافتی شناخت رکھے گا حتیٰ کہ یہاں تک ہو جائے گا کہ “جنے لاہور نیئی ویکھیا او جمیاں ای نیئں”۔

اس لاہور میں بی بی پاکدامن کا مزار ہوگا، حضرت عثمان علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ تبلیغ دین کریں گے بعد میں اُن کا مزار غریبوں کو مفت کھانے کھلانے کا مرکز بن جائے گا۔ لاہور جو صرف اچھرہ، مزنگ ( اصل نام مہ زنگ ہے) اور شاہو دی گڑھی تک محدود تھا آج لاہور رائے ونڈ تک پھیل گیا۔ اس شہر کی تاریخ نے اسے شہر بے مثال بنا دیا ہے۔

پنجاب پر انگریزوں نے 1849ء میں قبضہ کیا تو لاہور کا قلعہ، بادشاہی مسجد، گردوارے، مندر سبھی انگریزوں کی نگرانی میں چلے گئے انگریز حکومت نے دہلی، کلکتہ کے بعد لاہور کو اپنا حکومتی مرکز بنایا۔ لاہور پر پہلے ہندو ازم کا رنگ تھا، مغل آئے تو یہاں کے تعمیراتی نقشے بھی مغلیہ سلطنت کی عکاس ہوگئے، انگریز آئے تو یہاں پر وکٹورین طرز کی عمارتیں بننے لگیں یہ شہر سیاست کا مرکز بنا تو ساتھ ہی ساتھ یہاں پر نئے علوم بھی پروان چڑھنے لگا۔

لازمی پڑھیں؛ برصغیر کی برطانوی تقسیم کا قصہ اور لاہور کی سیاسی اہمیت

گویا اب لاہور علوم و فنون، ادب، تہذیب اور علم کی تخلیق کا مرکز بن گیا اور پھر تاریخ نے کروٹ لی اور لاہور کی قسمت پاکستان کی قسمت کے ساتھ جُر گئی۔ پاکستان کو اپنی شناخت کے لیے لاہور کا سہارا لینا پڑا۔ ریاستی نظریے کے مطابق لاہور کی سڑکیں، عمارتیں، تعلیمی ادارے اور یہاں کی تاریخ کو مسلمان کیا گیا اور اداروں، چوراہوں کے ناموں تک کو تبدیل کر دیا گیا۔ پاکستان نے اپنی شناخت بناتے بناتے لاہور کی شناخت ہی چھین لی، آج لاہور کہاں کھڑا ہے، لاہور کی شناخت کیا ہے؟

لاہور کی تہذیبی، ثقافتی و ادبی شناخت کو تحفظ فراہم کرنے میں ریاست کا کردار تو اپنی جگہ لیکن اس شہر بے مثال کیلئے یہاں کی درسگاہیں کیا کر رہی ہیں، ان درسگاہوں کے اساتذہ کیا کر رہے ہیں؟ حقائق تلخ ہیں لیکن لب کشائی تو بالآخر کرنی ہے۔

ضرور پڑھیں؛ لاہور میں وائس چانسلرز کی امن کانفرنس کی کہانی

اس شہر پر ن سے نہوست کا قبضہ ہوگیا ہے۔ تعمیراتی ڈھانچوں سے انسانی ذہنوں کی تعمیر کی بجائے انسانی ڈھانچوں کے مینار تیار ہورہے ہیں۔ تہذیب قصہ پارینہ ہوگئی، دو سال پہلے تک لاہور کی نہر میں جشن بہاراں کے نام پر ثقافتی جنازہ نکالا جاتا تھا۔ جو ہماری تہذیب کی پہچان تھی وہ نہر بُرد کر کے اس کے سامنے تصاویر بنائی جاتی تھیں اور اس کا اہتمام باقاعدہ طور پر ریاستی حکومت کرتی۔

میں تعمیراتی ٹھیکوں، سڑکوں اور پلوں کے جال پر تو کچھ نہیں کہتا، میں صرف اس شہر کی علمی حالت پر نوحہ کناں ہوں۔ شہر کے مال روڈ پر پاک ٹی ہاؤس ہوا کرتا تھا جہاں ادیبوں کی محافل ہوتی تھیں آج اسی پاک ٹی ہاؤس میں بگڑے ہوئے نوجوانوں کا بسیرا ہے۔ خطے کی قدیم درسگاہ پنجاب یونیورسٹی اور گورنمنٹ کالج (یونیورسٹی) کے اساتذہ اور طلباء تو محض ڈگریوں کے کاغذ وصول کر رہے ہیں اور متعدد اساتذہ اپنے منصب سے انصاف نہیں کر رہے۔ دونوں جامعات میں فلسفہ پڑھایا جاتا ہے، لیکن فلسفہ پڑھانے والے روزی روٹی کر رہے ہیں اور پڑھنے والے ڈگری ملنے کے انتظار میں۔

یہ بھی پڑھیں؛ بریڈ لا ہال انقلابی تحریکوں سے نیشنل کالج لاہور تک

اس سے زیادہ کچھ ہے بھی تو بس اتنا ہے کہ ایمائل کانٹ پڑھ لو، افلاطون پڑھ لو، کارل مارکس پڑھ لو یا اپنی پسند کے کسی بھی فلسفی کے مرتب کردہ علوم کی جُگالی کر لو بس فلسفہ پورا ہوگیا۔

یونیورسٹی میں پروفیسر ہونے کا مطلب پروفیسر ہوجانا ہے یعنی علوم پر مہارت نہیں بلکہ کُرسی پر قائم رہنے کا جذبہ، گاڑی بھی میسر ہے، عہدہ بھی ہے، شہرت بھی ہے، فنڈز بھی ہیں اور دفتر سیاست کا مرکز بھی۔ ہمارے پروفیسرز بھی کمال کا طبقہ ہے ناں، اپنے طالبعلموں کو پڑھاتے نہیں ہیں بلکہ انہیں یاد کیا ہوا سبق سناتے ہیں اور طالبعلم یہ سمجھتا ہے کہ اُستاد پڑھا رہا ہے۔

لاہور میں تو نئے علوم کی تخلیق ہوا کرتی تھی، یہاں تو نئے افسانے لکھے جاتے تھے، اس شہر میں تو بانو قدسیہ رہتی تھی، یہاں تو نوبل لاریٹ ڈاکٹر عبد السلام ہوا کرتے تھے، یہاں تو شاعر مشرق علامہ اقبال تھے، یہاں تو پطرس بخاری جیسے پرنسپل تھے، اس شہر سے تو پانچ نوبل لاریٹ پیدا ہوئے۔ لیکن شہر کی کتنی بد قسمتی اب یہاں نون ہے یا جنون ہے باقی علم و تہذیب خارج ہوتی چلی جارہی ہے۔ اب اس شہر کے پاس بس قصے کہانیاں، حکایتیں اور روایتیں باقی ہیں۔

ضرور پڑھیں؛ لاہور کی ادبی شناخت گُم ہونے کا خطرہ

اس شہر پر سیاستدانوں، حکمرانوں کے ڈاکے اور لوٹ مار کی بے شمار داستانیں ہیں لیکن یہ وہی شہر لاہور ہے جہاں پر دیال سنگھ جیسے نوجوان تھے جنہوں نے اپنا گھر، دولت سب کچھ علم و تعلیم کیلئے وقف کر دیا، دیال سنگھ کالج بنا دیا، دیال سنگھ لائبریری بنا دی۔ یہاں تو سر گنگا رام جیسا انجینئر بھی تھا جو دولت مند تھا لیکن عوامی فلاح کے لیے گنگا رام ہسپتال بنا دیا اپنا ذاتی گھر ہیلے کالج کو دے دیا۔ آج لاہور میں کتنے گنگا رام اور کتنے دیال سنگھ ہیں؟

جب سے لاہور پاکستان کا ہوا تو لاہور کہیں ڈوب رہا ہے، کہیں ٹوٹ رہا ہے، کہیں زخمی ہے، کہیں گرد آلود ہے، کہیں اُکھڑا اُکھڑا ہے تو کہیں لنگڑا لنگڑا کر چل رہا ہے۔ دُنیا بھر کے قدیم شہر آج ہزاروں سال بعد بھی اپنی اصل حالت میں زندہ ہیں، 1930ء کا لندن اور 2018ء کا لندن ویسے ہی ہے لیکن 1947ء کا لاہور اور 2018ء کا لاہور، لاہور نہیں ہے۔ یہاں تو سب کچھ بدل رہا ہے بس نام بدلنا باقی ہے۔

علم و تہذیب کے اس مرکز میں پاکستان بننے کے بعد سرکار نے صرف ایک یونیورسٹی بنائی، وہ بھی ارفع کریم ٹاور میں پانچ سالوں سے بارہ کمروں پر مشتمل ہے۔ لیکن شہر بے مثال میں درجنوں سڑکیں ضرور بنی ہیں، نئے پُل ضرور تعمیر ہوئے ہیں۔ لاہور میں الحمرا ہالز بنائے گئے، پنجابی انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج آرٹ اینڈ کلچر تعمیر ہوا لیکن یہ دونوں ادارے بھی اس شہر کی تہذیبی و ثقافتی پہچان کو برقرار رکھنے کے لیے ناکافی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں؛ لاہور کے پانچ نوبل لاریٹ

اب لاہور کو کیسے بچایا جائے؟ صرف یہی سوال ہی ہماری یونیورسٹیز اور کالجوں کے طلباء کے ذہنوں میں داخل ہو جائے تو شاید کچھ پیش رفت ممکن ہوسکے۔ اندرون لاہور تو والڈ سٹی اتھارٹی کے حوالے ہے جو فنڈز عالمی اداروں سے ورثہ کے تحفظ کے نام پر ملتے ہیں آج تک اس کا آڈٹ ہی نہیں ہوسکا۔ بُرج ختم، بالکونیاں ختم، قدیم عمارتوں کی جگہ پلازے لے رہے ہیں، شہر بے مثال شہر بے ہنگم میں بدل چکا ہے۔

ایک بڑے سکیل پر مہم چلانے کی ضرورت ہے، لاہور بچاؤ تحریک والوں کے ساتھ چلنا ہوگا، اس شہر کی تاریخی شناخت قائم رکھنے کے لیے اساتذہ کو قلم کی آواز اُٹھانا ہوگی، اس شہر کے تعلیمی اداروں کے طلباء کو صرف ڈگری نہیں بلکہ اپنی شناخت کے لیے یکجا ہونا ہوگا۔ یہ لاہور حکمرانوں کا نہیں ہے، یہ لاہور پوری ایک تاریخ ہے اور زندہ قومیں اپنی تاریخ کی حفاظت کرتی ہیں۔


akmal-dawn

اکمل سومرو سیاسیات میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ تاریخ اور ادب پڑھنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔وہ لاہور کے مقامی ٹی وی چینل کے ساتھ وابستہ ہیں۔