بیانیے کا جنم کیسے ہوتا ہے؟

    March 4, 2017 7:57 pm PST
taleemizavia single page

طیبہ نقیب

دریافت کی شروعات، فسادات میں نئی راہیں، نئےالفاظ و خیالات و خوابات کی دنیائیں، سچائی و دانائی کے روابط، مہمات پہ جانے اور جنگجو بننے کی تراکیب و ترتیب، شدیدو پیچیدہ جذ باتی حالت سے بچاؤ، زندگی کے ہر موڑ پہ نئے لمحوں کےجڑاؤ سے بیانیہ جنم لیتا ہے۔

رنگوں کے استعمال اور امتزاج کا فن، تصنیف و تالیف، تواریخ و روداد، پرواز فکرو تصور خِیال آرائی، اظہار خیال و تبصرہ و مشاہدہ، واقعات و حالات کا سوچ سےٹکراؤ، ثُبُوت و دَليل و وَضاحَت پيش کَرنے اور پیشین گوئی کرنے سے بیا نیہ وجود میں آتا ہے۔

بیانیہ حقیقی یا خیالی منسلک واقعات،، تحریری یا کہے الفاظ کی ترتیب کی اطلاع ہے جو تقریر سے تحریر میں بدلی بیانیہ موضوعی اور رسمی اقسام میں سے ایک بڑی تعداد میں منظم کیا جا سکتا ہے جو غیر افسانوی (جس میں صحافت، سَوانح نِگار ی و سيرَت نِگاری، شاعری، نَثر نِگاری اور تاریخ نویسی وغیرہ شامل ہے)، افسانوی (حَکايَت و رَوايت، وہمی باتیں، دیو مالائی داستانیں اور تاریخی کہانیاں) اورحقیقی تخیلات(ادب میں نثر، شاعری، ناول، نغمے و گانے، ٹیلی ویژن اداکاری و کارکردگی ) پہ مشتمل ہے۔

حضرت انسان کی ہر تخلیق فن و تفریح ‘جس میں مو سیقی، سینما، خطاب، ادب، طنزومزاح ، فلم اور صحافت، ٹی وی ، وڈیو، آڈیو، کھیل شامل ہیں ‘اور عام کارکردگی ‘جس میں نقاشی، سنگ تراشی، نقشہ کشی، تصویرکشی اور تجریدی آرٹ شامل ہے’میں اس بیانیہ نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس دنیا کے آغاز سے ہی بیانیے نے بھی جنم لیا مثلاشیطان کے بہلانے سے آدمؑ نے ممنوع پھل کھالیا اورجنت سے نکالے گئے اب کون سا پھل کھانے سے نکالے گئے واضح نہیں عیسائیت کے مطابق سیب کھایا جسے جان ملٹن نے اپنی نظم “پیراڈائز لوسٹ” میں لکھا ہے۔

یہ پڑھیں؛ معنی کی سیاست اور ادب

پھرایک وقت تھا جب کوئی زبان نہ تھی اور لوگ اشاروں سے ہمکلام ہوا کرتے تھے۔ پھر چرند پرند کے راگ سننے کے بعدانہوں نے آوازوں پر توجہ دی اورکچھ لفظ بنائے ، اشیاء کو نام دیے اور راہ و سمت کے تعین کے پیمانے مقرر کیے۔

جب قوت تخیلہ بڑھی تو اسی قوت تخیلہ کی بدولت انسان کی نظر خالق کو ڈھونڈنے اور اظہارمحبت کے لئے جا نکلی اور “گڈریا اور موسیؑ ” جیسے بیانیے نے جنم لیا جسکا خاکہ مولانا رومی نے اپنی تصنیف “حکایات رومی” میں اتارا۔یہ وہ مثبت بیانیہ ہے جس کا جنم خیالات اور بغور مشاہدے سے ہوا کیونکہ ہم یزدان کے بارے میں الہام، وجدان یا قیاس سے معلوم کرتے ہیں۔

کچھ مثبت بیانیے ہمارے پاس “خدائی “ہیں مثلا”قرآن پاک” (تورات، زبور، انجیل اور صحیفے وغیرہ ان میں ترمیم ہوئی مگر قرآن میں سب صحیح بتلا دیا گیا ہے یہ اپنے وقت میں مثبت بیانیے تھے)اور اسی سے متعلقہ تفاسیل جو انبیاء کے ادوار میں ہی لکھی گئی ۔علاوہ ازیں، احادیث و سنت بھی ہیں جن پر ہم مکمل یقین رکھتے ہیں کیونکہ دین کی تکمیل ہو چکی ہے اور اب شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

جانیئے؛ بیانیہ ذہن کو کیسے کنٹرول کرتا ہے؟

اسی طرح حضرت عیسیٰؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت ابراھیٰؑم، حضرت محمدﷺاور دوسرے کئی انبیاء کے کمالات کا تذکرہ بھی ہے، یہ وہ بیانیے ہیں جن میں ترمیم نہیں کی جا سکتی البتہ مزید غوروفکر کی دعوت دیتے ہیں۔

دوسری طرف منفی و تردیدی من گھڑت کہانیوں کا سلسلہ بھی موجود ہے جو حالا ت و واقعات سے جنم لیتا ہے جیسے جنرل ضیاء الحق کے جہاز کی تباہی کے سلسلے میں بہت سے بیانیے ہیں مگر آموں کی ٹوکری میں بم رکھ کر اسے لقمہ اجل بنایا گیا سب سے زیادہ مشہور ہو گیا اسے بعد میں ایک لکھاری محمد حنیف نے اپنےناول “اے کیس آف اکسپلوڈنگ مینگوذ” میں توصیف کیا۔

جون اپڈائیک کے مطابق “بیانیہ ایک بند کمرے کی طرح ہے جس کی دیواروں پر بہت سے غلط دروازے بنے ہوتے ہیں اور ہمارے پاس نکلنے کے لیے بہت سے انتخاب ہوتے ہیں مگر جب لکھاری ہمیں ایک منتخب کھلے دروازے کی طرف لے کر جاتا ہے تو وہی ہمیں اصل معلوم ہوتا ہے ” چنگیز خان، ہلاکو خان، شیر شاہ سوری، محمود غزنوی ، بہادر شاہ ظفر، طارق بن زیاد، موسیٰ بن نصیر، اورنگ زیب عالمگیر،جہانگیر، اکبر کے متعلق بھی مختلف بیانیے ہیں مثلا؛

محمود غزنوی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اپنی سلطنت کو مضبوط تر بنانے کے لئےاس نے ڈاکے ڈالے اور قنوج، کالنجرکے علاقےلوٹے تو وہاں کے بتوں کو توڑ ڈالا۔ اس لحاظ سے اسے اشاعت اسلام سے بھی منسوب کیا جاتا ہے یہی بات ایک تاریخ نویس “محمد قاسم فرشتہ”نے اپنی تحریر “ہندوستان کی مکمل تاریخ(جلد اول، دوئم)۔

تاریخ فرشتہ”میں نویس کی ہے۔ اب محمودغزنوی کے لیے یہ فتح اور خوشی تھی مگر وہاں کے لوگوں کے لیےمحمودغزنوی ڈاکو تھا مائیں اپنے بچوں کو یہ کہ کے ڈرایا کرتی تھیں کہ” غزنی آجائے گا” اسےبھی کئی منشی محرر حضرات نے اپنی دستاویزات میں رقم کیاہے۔

یہ بھی پڑھیں؛ کالونیل ازم اور یورپ کی مرکزیت کا نظریہ

اسکے برعکس پروفیسر رومیلا تھاپڑ( پروفیسر آف جواھر لال نہرو یونیورسٹی) نے اس تاریخی بیانیےپر مکمل ریسرچ کی ہےاور 1997ء میں بمبئی میں اپنے ایک لیکچر میں بتایا کہ ترک و فارسی سرگزشت کے مطابق محمود غزنوی نے مندر کی بے ادبی کی اور بتوں کو توڑا اور یہ ہندؤں کے لیے بہت بڑا زخم یا صدمہ تھا ، فارسی مزمن کے مطابق وہاں ایک میگنیٹ سے بنائے گئے کمرے میں بت معلق تھا اور ایک دیوار ہتنے سے بت گر گیا یہ ایک متضاد بیانیہ بھی موجود ہے۔

عربی ذرائع کے مطابق حضرت محمدﷺنے لات، عزیٰ اور منٰی کی عبادت سے ہٹا کر لوگوں کو اسلام کی طرف مائل کیا تھا اور سومنات کے مندر میں تیسرے بڑے خدا منٰی کی پوجا تھی اسلام کو بچانے کے لئے محمودغزنوی نے یہ مندر توڑا جبکہ سنسکرت سرگزشت کے مطابق بارہویں اور تیرہویں سینچری میں مسلمان تاجرآئے اورقانونی معاہدہ سے کچھ زمین حاصل کی اور مسجد تعمیر کی وہ زمین سومنات سے لی گئی تھی اور اسے “تھرمستان” کا نام دیا گیا تھا۔

جین ذرائع چودہویں سینچری کے مطابق کمار اپال نے اسے دوبارہ تعمیر کیا کیونکہ مقامی منسٹرنے اس پر کوئی توجہ نہیں دی تھی اور سمندر کے پانی کی نمی کی وجہ سے یہ خستہ حال ہوچکا تھا اس میں محمودغزنوی کا کوئی تذکرہ نہیں اسی زمن میں مباحثہ”ہاؤس آف کامن”بھی مشہور ہے کہ نوآبادیاتی دورانیے میں ،وائسرائے کمانڈر کو افغانستان میں جنگ کے دوران غزنہ سے محمود کےلوٹے گئے لکڑی کے دروازے واپس لانے کے لیے کہا گیا بعد میں پتہ چلا کہ وہ دروازے مصر کے تھے نہ کہ انڈیا کے۔

یہ پڑھیں؛ مروجہ نظام تعلیم: دو انتہائیں

وائسرائے کے اس حرکت کو بےوقوفانہ عمل قرار دیا گیا اور اس پر بہت پیسا بھی خرچ ہوا تھا مگر ہندو صدمہ ذرا کم ہو گیا اس طرح کے کئی اوربیانیے بھی موجود ہیں۔

البرٹ آئن سٹائن نے کہا کہ”اگر آپ اپنے بچوں کو ذہین بنانا چاہتے ہیں تو انہیں کہانیاں سنائیں ۔ اگر انہیں زیادہ ذہین بنانا چاہتے ہیں تو انہیں مزید کہانیاں سناؤ” چوہدری نقیب احمد قمر اور سلیم کوثر (دونوں قصور کے گورنمنٹ سکول میں ٹیچر ہیں ) نےاس نقطہ نظر پر مکمل ریسرچ کی ہے انہوں نے بچوں کو کچھ نصابی و غیر نصابی باتیں کہانیوں کی صورت میں بتائیں اور کچھ ٹیکسٹ پڑھایااور چند دنوں کے بعد ان کا ایک امتحان لیا۔

جس سے ثابت ہوا کہ ان کہانیوں سے لیے گئے سوالات کو بچوں نے 95 فیصد حل کیا جبکہ ٹیکسٹ کے سوالات کو بچوں نے 15 فیصد بمشکل کیا اب یہ اساتذہ کئی دوسرے اساتذہ کو اس سلسلے میں قائل کر رہے ہیں تا کہ بچوں کو بھر پور علم بیانیے کی مدد سے دیا جائے اس سلسلے میں بہت سے نئے بیانیے تخلیق ہوئے ہیں۔

اظہار خیال، تبصرہ، مشاہدہ ،تجسس اور کھوج سے ادب کی تخلیق ہوتی ہےجس میں شاعری، ناول، ڈرامے، داستانیں، افسانےاور سفر نامے شامل ہیں جن سے نوجوانوں کی اصلاح ہوتی ہے۔اسی طرح بچوں کو اخلاقی پستی سے بچانے، اداب و اطوار سکھانے،بہتر شوق دلانے اور اعلیٰ تربیت دینے کے لئے بیانیے جنم لیتے ہیں مثلا؛

جیسے مستنصر حسین تارڑ کا سفر نامہ “اندلس میں اجنبی”،بانو قدسیہ کے ڈرامے “چھوٹا شہر بڑے لوگ” وغیرہ ادب میں اپنی مثال آپ ہیں اسی طرح بولتے کارٹونز (اینیمیٹڈ) کی فلمیں مثلا”ٹنکر بیل”،”پایریٹ فری”، “بگ ہیرو”، پریوں، جنوں، بونوں کی کہانیاں، کوہقاف کی سیر ان میں مزید سوچنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہےعلامہ اقبالؒ کے بیانیے”لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری”،”پہاڑ اور گلہری” اصلاح کے لئے سامنے آئے۔بگ بینگ جیسی تھیوریزبھی اسی ضمن میں پیش پیش ہیں۔

دنیا میں عدالتی سسٹم سے پہلے انصاف مہیا کرنے کیلئے زنجیر ہوا کرتی تھی،گھڑیوں کے وجود میں آنے سے پہلے لوگ چھاؤں ، دھوپ، ہوا اور آسمانی رنگت سے وقت کا اندازہ لگاتے تھے، تصاویر و رنگ ہرشخص کے لئے مختلف درجے رکھتے ہیں، بلوغت کے مختلف مدارج کو بیان کرنے والے نظریات ، علم کی اصل نوعیت اور حدود کو بیان کرنے والے نظریات ، کھیل کے طرز عمل کو بیان کرنے والے ہمارے نظریات اپنے آباؤاجداد سے الگ ہیں اور توہم پرستی سے پیدا ہونے والے نتائج ہمارے لیے فارغ وقت بیتانے والے بیانیے ہیں مگر کسی زمانے میں ہی بڑی اٹل حقیقتیں تھیں یوں بھی بیانیے رقم کیے جاتے ہیں۔

یہ پڑھیں؛ سر سید کا تعلیمی فلسفہ اور برطانوی سامراج

گفتگو کرنے، بات چیت کرنے، مکالہ کرنے ،کسی موضوع پر تقریراً یا تحریراً بحث کرنےاور اظہار خیال کرنے سے بیانیے بنتے ہیں پھر پیش سازی و پیداوارمیں نئی تخلیق شدہ شے یا چیزسے تبدیلیاں زیر بحث آتی ہیں، کچھ اپنائی یا پسند جاتی ہیں، کچھ مسترد یا ناپسند کی جاتی ہیں اسطرح نئے بیانیے اور نظریے وجود میں آتے ہیں۔مثلا دو انسان جب زندگی کی متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں تو انکے رویے اور انداز بدل جاتے ہیں اسکے علاوہ مذہب، ثقافت، سیاست، معشیت، معاشرت پہ سوچ بچار کی کیفیت ابھرتی ہے اور ہم اپنے سوچ و بچار کی بناء پر کئی کھنڈر راستوں سے ہری وادیوں کی طرف نکل جاتے ہیں اور نئے بیانیے توصیف ہوتے ہیں۔

یہی بات “سٹارٹ ہال” نےبھی اپنی کتاب “نالج، پاوراینڈ ڈسکورس” میں کی ہے۔اس ضمن بہت سے تنقیدی جائزے ابھرے ہیں مثلا سکندر حیات کی “اے کرزمیٹک لیڈر”، جاوید احمد کی “لفظوں کی کہانی لفظوں کی زبانی” دونوں تصانیف اور سیموئل جانسن کا پیپر “پریفیس ٹو شیکسپئر” وغیرہ۔

قطعی طے شدہ نقطہ یہ ہے کہ انسان بیانیے سننے اور سنانے والی سپیشیزہے۔جو من گھڑت کہانیوں سے آغاز کرتے ہیں پھر آہستہ آہستہ فن کا نام لئے انتہا اور اختتام پر پہنچتے ہیں۔ ہم داستانوں کے دور میں رہ رہے ہیں۔ ہم، روایات سنتے، بولتےاور بحث کرتےہیں مختصرا، داستانوں میں جھکڑے ہوئے ہیں۔اسطرح: نہ جانتے ہوئے بھی ہم چیزوں کے لئے بیانیے بناتے ہیں مثلا؛

پودوں اور جانوروں کے لئے نام خود سے بنائےاور بعد میں “بائی نومیئل نومن کلیچر(سسٹم آف نیمنگ)”کارل لینیس نے متعارف کروایا جس کے مطابق پودوں اور جانوروں کے سائنسی نام ہیں مثلا اب مینڈک کے لئے “رانا ٹیگرینا”، پیاز کے لئے “الیم سیپا”لفظ دنیا بھر میں استعمال ہوتا ہےمگر ایسا کوئی بیانیہ نہیں جو دنیا بھر میں سبھی کے لئے شَناسا اور مَعرُوف ہوتو یوں بیانیے مختلف ہیں مگر ہمارے اذہان میں ایک عمل تقطیرجنم دیا جاتا ہےتاکہ بیانیہ کو پرکھا جا سکےاور دائرہ یقین میں جگہ دی جا سکے مگر بسااوقات طاقت کے ذریے بھی بیانیہ غالب آجا تا ہے۔

سو، ہم کہ سکتے ہیں کہ بیانیے ہمیں آزادی مہیا کرنے کے لئے، نئے بیانیے ترتیب دینے کے لیے اور مسائل کے حل کے لیے ہر واقع پر جنم لیتے ہیں۔


tayyaba

طیبہ چوہدری بی ایس آنرز انگریزی پنجاب یونیورسٹی لاہور کی طالبہ ہیں اور وہ گریجویشن کے امتحان میں گولڈ میڈلسٹ ہیں۔

  1. یہ شعور ،کہ ہر بات حتمی ہونے کی بجاۓ محض ایک بیانہ ہے، ہماری سوچ کی بگڑی عادات کو سنوارنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس تحریر کے پیچھے یہی شعور کارفرما ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *