ہائر ایجوکیشن کمیشن کی یونیورسٹیز کے 19 سائنسی جریدوں پر پاپندی

    July 21, 2017 1:56 pm PST
taleemizavia single page

اسلام آباد

ہائرایجوکیشن کمیشن پاکستان نے مختلف یونیورسٹیوں سے شائع ہونے والے 19 سائنس ریسرچ جرنلز منسوخ کر دیے ہیں۔ ایچ ای سی کے ضوابط اور معیار پر پورا نہ اُترنے کے باعث ان سائنسی جریدوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

ایچ ای سی کے کوالٹی ایشورنس سیل نے ان سائنسی جریدوں کو ناقص معیار کی بنیاد پر منسوخ کیا ہے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن سے دسیتاب ریکارڈ کے مطابق انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے دو جریدے جن میں پاکستان جرنل آف ہائیڈروکاربن ریسرچ اور پاکستان جرنل آف انجینئرنگ، ٹیکنالوجی ایںڈ سائنس کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

ایگری کلچر سائنسز کے چار جریدے جن میں جرنل آف ایگریکلچر ریسرچ، انٹرنیشنل جرنل آف ایگریکلچر اینڈ اپلائیڈ سائنسز، پاکستان جرنل آف اینٹومولوج، پاکستان جرنل آف فزیو پتھالوجی کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔

نیچرل سائنسز کے پانچ جریدوں کو جن میں پاکستان جرنل آف سٹیٹسٹکس، جرنل آف سٹیٹسٹکس، پاکستان جغرافیکل ریویو، پاکستان جرنل آف سٹیٹسٹکس اینڈ آپریشن ریسرچ، پاکستان جرنل آف بائیوٹیکنالوجی اور جرنل آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو ایچ ای سی نے منسوخ کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں؛ ایچ ای سی کی ایکس، وائے اور زیڈ کیٹیگری کے جرنلز پر پاپندی

اسی طرح ہیلتھ سے متعلق ملک بھر کی مختلف یونیورسٹیز سے شائع ہونے والے انتہائی کم معیار کے گیارہ ریسرچ جرنلز کو بھی منسوخ کیا گیا ہے جس میں پاکستان جرنل آف پتھالوجی، میڈیکل فورم منتلھی، جرنل آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیز، پاکستان اورل اینڈ ڈینٹل جرنل، جرنل آف یونیورسٹی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج، گومل جرنل آف میڈیکل سائنسز، پاکستان جرنل آف نیورولوجیکل سرجری، انٹرنیشنل جرنل آف ری ہیبلیٹیشن سائنسز، جرنل آف فاطمہ جناح میڈیکل کالج لاہور، انفیکشیئس ڈیزیز جرنل آف پاکستان اور پاکستان جرنل آف فارماکولوجی کو ایچ ای سی نے منسوخ کر دیا ہے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مطابق ان سائنسی جریدوں میں جعلی تحقیقی مقالہ جات شائع کیے جاتے ہیں جن کا بین الاقوامی سطح پر اور ملکی سطح پر کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ایچ ای سی نے یونیورسٹیز کے اساتذہ اور ریسرچ سکالرز کو مذکورہ جرنلز میں اپنے تحقیقی مقالوں کو بھیجنے اور اشاعت سے بھی روک دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *