کامسیٹس کی ڈبل ڈگری کی فراڈ کہانی اُستاد کی زبانی

    December 3, 2016 5:06 pm PST
taleemizavia single page

یاسر صدیقی

کامسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لاہور کیمپس میں، فال دو ہزار دس میں بھرپور تشہیری مہم کے ساتھ ایک نئے پروگرام کا آغاز کیا گیا۔ اس پروگرام میں داخلہ لینے والے طلبہ سے وعدہ کیا گیا کہ انہیں چار سالہ پروگرام کی تکمیل پر ایک کی بجائے دو دو ڈگریاں ایوارڈ کی جائیں گی۔

یعنی ایک تیر سے دو شکار، طلباء کو ایک لوکل ڈگری اور دوسری لنکاسٹر یونیورسٹی برطانیہ کی فارن ڈگری پیش کی جائے گی۔

کامسیٹس نے پراسپیکٹس اور اخباری اشتہارات کے ذریعے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس پروگرام کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان، پاکستان انجنیئرنگ کونسل اور برطانوی ریگولیٹرز کی منظوری حاصل ہے۔ لنکاسٹر یونیورسٹی، یوکے کی ویب سائیٹ پر بھی یہ معلومات شائع کی گئیں جہاں مسلسل یہ دعویٰ کیا جاتا رہا کہ پاکستان میں اس کی جاری کی جانے والی ڈگریاں ایچ ای سی سے منظور شدہ ہیں۔

لوکل کرنسی میں اس پروگرام کی فیس سنگل ڈگری پروگرام سے تقریباً دو گنا رکھی گئی اور لنکاسٹر فیس کی مد میں دو ہزار برٹش پاؤنڈ فی طالبعلم الگ سے وصول کئے گئے گویا ایک تیر سے دو شکار بھی کوئی اتنا آسان نہیں تھا۔

چنانچہ چار لاکھ روپے والی ڈگری کی قیمت یکا یک تیرہ لاکھ پر پہنچا دی گئی۔ یہ پروگرام ساڑھے چار سال جاری رہا اور اس میں تین ہزار سے زائد طلبہ نے داخلہ لیا۔

ڈیوئل ڈگری پروگرام کے آغاز میں تین مختلف شعبوں میں ڈگریاں آفر کی گئیں، جن میں ٹیلی کام انجنیئرنگ، کمپیوٹر سائنس اور بی بی اے شامل ہیں۔ جب کامسیٹس اور لنکاسٹر یونیورسٹی کو معلوم ہوا کہ یہ تو بہت منافع بخش اور پُرکشش کاروبار ہے جس میں گاہگ خود ہی شوق سے چلے آتے ہیں تو پھر رفتہ رفتہ اس پروگرام میں چار مزید ڈگریوں کا اضافہ کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں؛ بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی لاہور کیمپس بند کرنے کا فیصلہ

یعنی کیمیکل انجنیئرنگ، کمپیوٹر انجنیئرنگ، الیکٹرونکس انجنیئرنگ اور سافٹ ویئر انجنیئرنگ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پروگرام میں ایسی ڈگریاں بھی آفر کی گئیں کہ جن کا خود لنکاسٹر یونیورسٹی، برطانیہ میں سرے سے کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ لنکاسٹر یونیورسٹی کا اس پروگرام میں عمل دخل محض امتحانی سوال نامے اور فائنل پیپر کے نتائج کی جانچ پڑتال تک محدود تھا۔ برطانیہ سے کبھی کوئی فیکلٹی ممبر پاکستان میں طلباء کوپڑھانے پاکستان نہ آیا اور نہ ہی کبھی کوئی آن لائن کلاسز کا بندوبست کیا گیا۔ بلکہ یوں کہا جاسکتا ہے کہ کامسیٹس کی ٹیچنگ فیکلٹی کا بھی لنکاسٹر یونیورسٹی سے کوئی مستقل عملی رابطہ نہیں تھا۔

جون دو ہزار چودہ میں ڈیوئل ڈگری پروگرام کا پہلا بیچ پاس آؤٹ ہونے پر یہ تکلیف دہ انکشاف ہوا کہ ادارے نے کسی ریگولیٹر سے پیشگی اجازت نہیں لی تھی اور یہ کہ ایچ ای سی اور پی ای سی کو اس پروگرام پر شدید تحفظات رہے تھے۔ چند ماہ کامسیٹس انتظامیہ کی جانب سے لیت و لعل سے کام لے کر وقت گزارا گیا لیکن بالآخر طلباء میں یہ خبر پھیل گئی کہ انتظامیہ حسبِ وعدہ ڈگریاں جاری کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔

شدید پریشانی کے عالم میں طلبہ نے یونیورسٹی کیمپس میں احتجاج کا آغاز کردیا۔ میں اُن دنوں کامیسٹس لاہور کیمپس میں بطور اُستاد تعینات تھا اور میں نے ان متاثرہ طلباء کی حمایت کا اعلان کر دیا، پھر کیا ہوا جن طلباء کے ساتھ دھوکہ ہوا وہ منظم ہوتے چلے گئے جب کامسیٹس انتظامیہ پر دباؤ بڑھا تو مجھے نوکری سے جبری طور پر فارغ کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں؛ جامعات کو اُنیس ہزار پی ایچ ڈی اساتذہ درکار

میں نے پہلے اپنی غیرقانونی برطرفی کے خلاف عدالت عالیہ سے رجوع کیا اور اپنے حق میں فیصلہ حاصل کیا۔ ملازمت پر بحالی سے میں نے ازخود انکار کیا اور وجہ یہ بیان کی کہ وہ فراڈیوں کے ساتھ مزید کام کرنے کے خواہشمند نہیں ہیں۔

بعد ازاں میں نے ڈی ڈی پی طلبہ کو بھی عدالت سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔ فروری دو ہزار پندرہ میں پہلے ڈی ڈی پی گریجویٹ محسن الیاس نے رٹ پٹیشن داخل کی۔ اس کے پیچھے پیچھے درجنوں مزید طلبہ عدالت میں پٹیشنرز بنتے گئے۔ ایچ ای سی اور پی ای سی کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے جوابات سے واضح ہوگیا کہ ڈیوئل ڈگری پروگرام کو کبھی بھی منظوری نہ دی گئی تھی۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے قوانین کے مطابق اضافی مضامین اور کریڈٹ آورز پڑھائے بغیر دوسری ڈگری جاری کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ ملتے جلتے مضامین میں بھی کم از کم تیس فیصد اضافی مضامین پڑھانے کی لازمی شرط عائد کی گئی ہے جبکہ کامسیٹس کے ڈیوئل ڈگری پروگرام میں سنگل ڈگری پروگرام کے مضامین پڑھا کر محض اضافی فیس چارج کرکے دوسری ڈگری جاری کی جا رہی تھی جو کہ ایچ ای سی کے لئے کسی صورت قابلِ قبول نہ تھی۔

پاکستان انجنیئرنگ کونسل کو اس بات پر بھی اعتراض تھا کہ لنکاسٹر یونیورسٹی کی جو ڈگری پاکستان میں جاری کی جا رہی تھی وہ تین سالہ ہے جبکہ پاکستانی ڈگری چار سالہ پروفیشنل ڈگری ہے لہذا دونوں کو ایک برابر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب لنکاسٹر یونیورسٹی نے یہ اعتراف بھی کیا کہ پاکستان میں جاری کی جانے والی اس کی ڈگری برطانوی ریگولیٹرز سے منظور شدہ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں؛ راؤل لیمز کا جنگی ٹینک کے خلاف ویپن آف ماس انسٹرکشن

چھ اپریل دو ہزار سولہ کو لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے کیس کا فیصلہ سنایا جو کہ طلبہ کی اکثریت کی خواہشات اور امنگوں کی ترجمانی نہ کرسکا چنانچہ ایک جانب ایچ ای سی اور دوسری جانب چند طلبہ اور گریجویٹس نے انٹرا کورٹ اپیل دائر کردی۔

اپیل کی پہلی ہی سماعت پر لنکاسٹر ڈگری اور جوائنٹ ٹرانسکرپٹ کے اجراء پر حکمِ امتناعی جاری کردیا گیا۔ فی الوقت، عزت ماب چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی سربراہی میں ڈویژن بنچ اس اپیل کی سماعت کر رہا ہے۔ عدالت کی جانب سے پوچھے جانے پر ایک ہزار آٹھ سو سے زائد طلبہ نے ڈیوئل ڈگری کی جگہ صرف لوکل سنگل ڈگری حاصل کرنے اور فیس کا ریفنڈ طلب کرنے کی استدعا کردی ہے۔ میں نے ریکٹر کامسیٹس ڈاکٹر ایس ایم جنید زیدی کو اربوں روپے کے اس فراڈ کا اصل ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی درخواست دائر کردی ہے۔

عدالت نے اس کیس کی سماعت مکمل کر لی ہے اور فیصلہ محفوظ کیا جا چکا ہے جو پندرہ دسمبر کو سنائے جانے کا امکان ہے۔ کامسیٹس کے طلباء کے ساتھ فراڈ کی کہانی کا ابھی یہ پہلا حصہ ہے جس میں عدالت کی مداخلت کے بعد متاثرہ طلباء کو ریلیف دیا جارہا ہے لیکن اس فراڈ کی آڑ میں کس نے کتنا فائدہ لیا اس کی چھان بین کی ذمہ داری اب حکومت اور حکومتی اداروں پر عائد ہوتی ہے کیونکہ ڈگریوں کی فراڈ کا یہ کیس شاید پاکستان کی تاریخ میں ڈبل شاہ کیس سے بھی زیادہ بڑا ہے۔


yasir-siddiqui

یاسر صدیقی ایٹمی انجینئر ہیں وہ اٹامک انرجی کمیشن میں نو سال خدمات دے چکے ہیں، کامسیٹس میں سات سال بطور اُستاد تعینات رہے اور متاثرہ طلباء کے لیے عدالت میں کیس لڑا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *