راؤل لیمز کا جنگی ٹینک کے خلاف ویپن آف ماس انسٹرکشن

  • 318 Views
  • نومبر 27, 2016 2:44 بجے PST

pag1-image
میرے مقاصد انتہائی خطرناک ہے، میں لوگوں پر مزاحیہ انداز میں حملہ کرتا ہوں: راؤل لیمز

ظافرہ خالد

اکیسویں صدی جس میں ٹیکنالوجی کو حددرجہ اہمیت حاصل ہے وہاں اس کے منفی اور مثبت اثرات کی پرواہ کیے بغیر ابن آدم اس شعبہ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہا ہے۔

درحقیقت ٹیکنالوجی بذات خود کوئی بُری چیز نہیں ہے مگر اس کی اچھائی اور برائی اس کے استعمال پر منحصرہے۔

اگر ہم اس کے مثبت اثرات کا سرسری جائزہ لیں تو اس سے بڑھ کر کچھ نہیں اور اگر اس کے منفی اثرات پر نظر دوڑائیں تو اس سے خطرناک کوئی چیز نہیں۔

علاوہ ازیں اسلحہ اور ہتھیار کا وجود بھی اسی ٹیکنالوجی کا مرہون منت ہے لیکن ان سب سے بڑھ کر یہ ٹیکنالوجی عقلِ انسانی کی پیداوار ہے۔

کس قدر دلچسپ بات ہے کہ خالق بشر نے بنا کسی مذہبی، معاشرتی، قومی، ملکی اور علاقائی تفریق کے، اپنی تخلیق کو بھی شرفِ خالق سے نواز دیا۔

مگرحیف صد حیف کہ وہ بشر جس نے اپنی عقلی اور دماغی صلاحیتوں کی بنا پر اس دنیا کو ٹیکنالوجی کے نام پر بہت سے جدید ہتھیاروں سے متعارف کرایا آج خود انہی ہتھیاروں کی زد میں ہے۔

weapons-of-instruction-png2

یہ ہتھیار جو بظاہر تو اس نوعِ انسانی کی حفاظت کے لیے ایجاد کیے گئے ہیں مگر حقیقت میں یہ انہی کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ بن سکتے ہیں۔

آج مغربی دنیا جس نے انہی ہتھیاروں کو استعمال میں لاتے ہوئے پوری دنیا کو اپنے شکنجے میں لیا ہوا ہے۔

جنوبی امریکہ میں موجود ارجنٹینا کے راؤل لیمزآف نامی ایک نوجوان آرٹسٹ نے کار کو ٹینک نما ہتھیار کی شکل میں ڈھال دیا۔ اس کی خاص خوبی یہ تھی کہ یہ ٹینک اپنے اوپر 900 کتابوں کوجگہ دینے کی صلاحیت رکھتے ہوئے بذات خود ایک لائبریری کی مانند تھا۔

weapons-of-instruction-png3

اس ٹینک کو خاص طور پر کتابوں کیلئے بنانے کا مقصد لوگوں میں علمی دلچسپی اور آگہی پیدا کرنا تھا۔

راؤل جو کہ بظاہر لوگوں کی نظر میں ایک سر پھرا اور عجیب و غریب انسان تھا۔ وہ در حقیقت بہت سی تخلیقی صلاحیتوں کا مالک تھا۔

اور یہی وجہ تھی کہ اس کے سر پھرے اور انوکھے پن نےایک کار کو علمی ہتھیار کی شکل دے کر اس عالمِ بشر کو لا علمی کی قید سے آزاد کرانے میں قابلِ ذکر کردار ادا کیا۔

weapons-of-instruction-png5

راؤل کا تیار کردہ یہ ٹینک تباہی کے لیے نہیں ہے بلک راؤل اس ٹینک پر لوگوں میں مفت کتابیں بانٹتا ہے اور اُس کا مقصد صرف علم دوستی پیدا کرنا ہے۔

راؤل نے روایتی ہتھیار اور جنگی ٹینک کے مقابلے پر ویپن آف ماس انسٹرکشن بنا کر جنگی ہھتیار بنانے والی اسلحہ ساز کمپنیوں کو بھی پیغام دیا ہے۔

weapons-of-instruction-png6

کیونکہ ہمیں اپنے ذاتی، قومی، اور مذہبی دائروں سے نکل کر حضرتِ انسان کی ترقی کے لیے راہِ عمل میں قدم رکھنا ہے اور اس راہِ عمل میں قدم جمانے سے قبل ہمیں اٌن نظریات کو سامنے لانا ہے جو ایک منفرد سوچ پرمبنی ہوں اور وہ سوچ علم و اۤگہی سے جنم لیتی ہے اور علم و اۤگہی کتابوں کا خاصہ ہے۔

راؤل کے اردوں کی پختگی کا یہ عالم تھا کہ اس نے نہ صرف اس دچسپ اور دلکش ایجاد کو جنم دیا بلکہ خود اس ٹینک کے ذریعے لوگوں کو اپنے ایک خاص ڈرامائ اور مزاحیہ انداز سے متاثر کرتے ہوے کتابوں کو مفت لوگوں میں بانٹنا شروع کر دیا۔

weapons-of-instruction-png7

بعد ازیں راؤل کےاس اندازِ انقلاب کو خوب سراہا گیا۔ اس نوجوان کا مقصد بلخصوص بچوں اور نوجوان طبقے کو کسی ایک شعبہء زندگی سے متعلق آگاہ کرنا نہیں تھا بلکہ اس نے انہں مختلف شعبہء زندگی مثلاؔ سیاست، ثقافت، ادب اور سائنس کی طرف راغب کیا تاکہ لوگ مختلف زاویوں سے نہ صرف اپنی زندگی کا بغور جائزہ لے سکیں بلکہ بوقتِ ضرورت بدل بھی سکیں۔

weapons-of-instruction-png8

جیسا کہ بقول راؤل

“My missions are very dangerous; I attack people in a very fun way.”


zafrah1
ظافرہ خالد پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ ہیں،وہ کتابوں کے مطالعہ سے شغف رکھتی ہیں۔

تبصرہ کیجیے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.


error: Content is protected !!