نوآبادیاتی عہد کے استعماری خطابات

    January 5, 2020 4:29 pm PST
taleemizavia single page

اکمل سومرو

آخری مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کا کمپنی کی فوجی عدالت میں ٹرائل مکمل ہونے پر انھیں بہ طور سزا جلا وطن کر دیا گیا اور برطانوی پارلیمنٹ نے بذریعہ ایکٹ 1858ء میں ہندستان پر براہ راست اپنی حکومت قائم کر لی۔ ہندستان پر بالادستی حاصل کرنے کے بعد ، انگریزوں نے مقامی سطح پر حمایت حاصل کرنے کی پالیسی اپنائی اس کے لیے یہاں کے طاقت ور مقامی حکمرانوں کی معاونت حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا۔ برطانیہ نے نوآبادیاتی مقاصد کی تکمیل کے لیے مقامی ریاستوں کے حکمرانوں کو اپنا ماتحت بنایا اس کے لیے ایسٹ انڈیا کمپنی کا تشکیل کردہ ریذیڈنٹ سسٹم کا استعمال کیا گیا اور اس سسٹم کے تحت حکمران طبقات کی تائیدگی حاصل کرنے کے لیے خطابات تقسیم کیے گئے۔

یہ خطابات تقسیم کرنے کی تین بنیادی وجوہات تھیں: اول، ہندستان کے حکمران طبقات میں یہ خطابات تقسیم کرنا نئے آقائوں (برطانوی سرکار) کے نزدیک تزویراتی مقاصد حاصل کرنے کے لیے ناگزیر تھا۔ دوم، برطانوی سرکار نے مغل سلطنت کے جائز جانشین کی حیثیت سے مقامی قبولیت حاصل کرنے کی غرض سے خطابات کا آغاز کیا۔ سوم، خطابات کے ذریعے ممتاز ہندستانیوں، بالخصوس ریاستوں کے حکمرانوں کو خطابات دینے سے برطانوی راج کو تحفظ بخشنے والا وفادار طبقہ تیار ہوسکے گا۔ ان خطابات کے ذریعے برطانوی سرکار نے ہندستان میں مقامی سطح پر سیاسی اتحادی پیدا کیے۔

جنگ آزادی کے فوری بعد، برطانوی سرکار نے مغل سلطنت کے اعزازات کو نوآبادیاتی ضروریات کے مطابق تبدیل کر دیا گیا۔ ہندستان میں آرڈرز آف شیولری یعنی تمغہ بہادری مشہور ہوا، جسے اکثر نائٹ ہڈ کہا جاتا تھا۔ نائٹ ہُڈ کا خطاب دراصل قرون وسطیٰ کے انگلینڈ میں رائج تھا، یہ اس بات کی علامت تھی کہ اشرافیہ طبقے کا ایک نوجوان مکمل طور پر جنگجو بننے کے لیے تیار ہے۔ نوآبادیاتی عہد میں برطانوی سرکار نے خطابات کو معاشرتی سر بلندی اور طاقت ور افراد کو ساتھ ملانے کے لیے بہ طور ہتھیار استعمال کیا۔ وائسرائے لارڈ کیننگ نے 1861ء میں آرڈر آف سٹار آف انڈین متعارف کرایا جو ممتاز ہندستانیوں کو برطانوی سرکار کی خدمات کے عوض دیا جاتا تھا۔

ملکہ وکٹوریا نے جب 1878ء میں ایمپریس آف انڈیا (ملکہ ہندستان) کا لقب اختیار کیا تو اس نے دو مزید خطابات تشکیل دیے جس میں آرڈر آف دی انڈین ایمپائر اور آرڈر آف دی کرائون آف انڈیا شامل تھے۔ ہندستانی ریاستوں کے حکمرانوں کے لیے دو الگ سے خطابات مقرر کیے گئے تھے، ریاستی حکمرانوں کیلئے ملکہ وکٹوریا کی خدمات کے عوض 1896ء میں رائل وکٹورین آرڈر اور 1917ء میں آرڈر آف دی برٹش ایمپائر تشکیل دیا گیا تھا۔ خطابات کے علاوہ ہندستانیوں کو برطانیہ کے پیریج (ہم خیال)،بیرونیٹس (موروثی سردار یا چھوٹا نواب) اور پریوی کونسل (مجلس مشاورت حکمران) کا رکن مقرر کیا جاتا، اس درجہ بندی میں ہندستان کے حکمران طبقات کو شامل نہیں کیا جاتا تھا۔

خطابات کی سرکاری سطح پر درجہ بندی کی گئی تھی جس میں اسٹار آف انڈیا کا سب سے اونچا مقام اور برٹش ایمپائر کو نچلے درجے پر رکھا گیا تھا۔ مزید یہ کہ کرائون آف انڈیا کے علاوہ ہر خطاب کی تین یا اس سے زیادہ زمرہ بندیاں کی گئی تھیں۔ برطانوی سرکار کے دربار کی رسمی تقریبات میں ہندستانیوں کی فوقیت کا تعین خطاب کے نام اور زمرے کے لحاظ سے کیا جاتا تھا۔ تاہم ، حکمرانوں کا معاملہ ایسا نہیں تھا ، کیونکہ ان کی فوقیت پہلے ہی دوسرے معیارات کے مطابق طے تھیں، ریاستی حکمران کی اہمیت توپ خانے کی سلامی سے طے ہوتی تھی اور یہ سلامی ہر حکمران کے منصب، طاقت اور عوامی اثر و رسوخ کی بنیاد پر ہوتی۔

اکیس توپوں کی سلامی حاصل کرنے والے ریاستی حکمران کو آرڈر آف دی اسٹار آف انڈیا اور آرڈر آف دی انڈین ایمپائر کے خطاب سے نوازا جاتا تھا۔ تیرہ توپوں کی سلامی کے حکمران کو کمانڈر آف انڈین ایمپائر، نو توپوں کی سلامی والے حکمران کو زیادہ سے زیادہ نائٹ کمانڈر کا خطاب دیا جاتا تھا۔ ایسا حکمران جسے توپوں کی سلامی نہیں دی جاتی تھی وہ صرف کمپانیئن ہُڈ کا خطاب پاتا جو نچلے درجے کا اعزاز ہے۔

برطانوی سرکار نے مقامی حکمرانوں کو خطابات سے نوازنے کے لیے ایک منظم نظام وضع کر رکھا تھا جس کے تحت حکمران کو خطاب سے نوازا جاتا، اس کا آغاز ایجنسی سے ہوتا تھا۔ ہر سال فروری اور اگست یا سمتبر کے مہینوں میں ایجنسی کے ریذیڈنٹ حکمرانوں، عام ہندستانیوں اور برطانوی افراد کی ایک فہرست مرتب کرتا، جو ریذیڈنٹ کے خیال میں اعزاز کے مستحق ہوتے تھے۔

یہ ریذیڈنٹ، مقامی حکمران یا عام ہندستانیوں کی انگریزوں کے لیے وفاداری اور نوآبادیاتی مفادات کی تکمیل میں انگریزوں کے ساتھ معاونت کو پیش نظر رکھ کر سفارشات مرتب کرتا اور خطاب سے نوازنے کی وجوہات پر مبنی الگ سے تحریری نوٹ پولٹیکل ڈیپارٹمنٹ کو ارسال کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں پولیٹیکل ڈیپارٹمنٹ کے توسط سے یہ فہرست وائسرائے، سیکرٹری آف سٹیٹ (برطانیہ کی کابینہ کا ایک وزیر اس عہدے پر مقرر کیا جاتا) اور برطانوی بادشاہ یا ملکہ تک پہنچتی اور حتمی منظوری کے بعد برطانوی ملکہ یا بادشاہ کی سالگرہ کے موقع پر یہ اعزازات عطاء کیے جاتے۔

ہندستان میں شاہی ریاستوں کو 140 بڑے علاقوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جن کے حکمران پرنس کہلاتے تھے، اگرچے عمومی طور پر اس کا اطلاق ہندستان کی 700 شاہی رہاستوں پر ہوتا ہے۔ انگریز راج کے دوران ریاستوں کے حکمران اپنی عزت اور شان و شوکت کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے یہ خطاب وصول کرتے تھے، مقامی حکمرانوں کے روایتی فرائض میں اپنے کنبے اور ریاست کی عزت کی حفاظت کرنا، بہادری سے لڑنا اور لڑائیوں یا توہین کا بدلہ لینا شامل ہوتا۔ ایک لحاظ سے یہ خطاب محض حکمران کو ہی نہیں بلکہ اس کے پورے کنبے اور ریاست کو دیا جاتا تھا جس پر وہ حکمرانی کرتا تھا۔

لہذا ان حکمرانوں میں یہ تصور رائج ہوا کہ نائٹ ہُڈ کا خطاب حاصل کرنے کے بعد ایک مقامی حکمران نے اپنی سلطنت کے دائرے کی عزت کو برقرار رکھنے کا اپنا فرض ادا کیا۔ اگر مقامی حکمران انگریز سرکار کو مطلوب کوئی غیر معمولی کام کرتا تو وہ بھی خطاب کے لیے اہل تصور کیا جاتا تھا، ہندستان کی مغربی شاہی ریاستوں کی ایجنسی میں 15 ایسی ریاستوں کی مثالیں موجود ہیں جن کے حکمرانوں نے غیر معمولی کام کیے اور انھیں نائٹ ہُڈ سے نوازا گیا، ان کی تفصیل آگے آئے گی۔

مقامی حکمرانوں کے پاس برطانوی راج میں یہ خطابات حاصل کرنے کی دوسری وجوہات بھی ہوسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر انگریز سرکار خطاب دینے سے پہلے مقامی حکمران کی مکمل جانچ پڑتال کرتی اور جب حکمران کو نائٹ ہُڈ کا خطاب عطاء کر دیا جاتا تو یہ دراصل برطانوی مہر کے مترادف تھا کہ مقامی حکمران پر اپنا طرز حکومت تبدیل کرنے کے لیے برطانیہ مداخلت نہیں کرے گا اور خطاب حاصل کرنے کے بعد مقامی ریاست کے امور سلطنت میں مستقبل میں برطانوی مداخلت محدود ہوجاتی تھی۔ اسی طرح نائٹ ہُڈ دراصل یہ وعدہ سمجھا جاتا تھا کہ اگر بعد میں ریاستی حکمران کو انگریزوں کی ضرورت ہوئی تو وہ ان کی مدد کریں گے۔  

شاہی ریاستوں کے حکمرانوں کو انگریزی خطابات کی تقسیم کا تاریخی جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ خطابات کے وقت ایک اور عنصر نے بھی مرکزی کردار ادا کیا، اس عنصر کا سرکاری خط و کتابت میں جان بوجھ کر ذکر نہیں کیا گیا تاکہ دستاویزات کا حصہ نہ بن سکے۔ انگریز راج میں بالخصوص 1925ء تا 1947ء تک ہندستانی ریاستوں کے تمام حکمرانوں، ان کی بیگمات، ماؤں کو خطاب دینے کی ایک فہرست ہے جس میں مجموعی طور پر 142 اعزازات ہیں جنھیں مختلف 45 فہرستوں کے ذریعے سے اعزاز دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ ایسے حکمران موجود تھے جنہوں نے انگریزوں کے لیے مفید خدمات انجام دیں اور اس کے عوض انھیں نائٹ ہُڈ دیا گیا اور ایک وقت میں خطاب دینے کی رفتار بھی بڑھ گئی۔

برطانوی سرکار سیاسی وجوہات، سیاسی بے چینی، ہلچل اور حالات کے تناظر میں بھی خطاب دینے کا فیصلہ کرتی،، ہندستان کے سیاسی منظر نامے پر 1927 میں آئینی اصلاحات پر آل برٹش سائمن کمیشن کی تقرری پر برہمی میں اضافہ ہوا اور لارڈ ارون نے ہندستانی سیاست دانوں کی اس برہمی کو قابو میں لانے کیلئے دو سال تک کوششیں جاری رکھیں اور بالآخر لندن میں پہلی گول میز کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ برطانوی سرکار نے سیاسی بے چینی کے اس دور میں ریاستی حکمرانوں کو اپنا اتحادی بنانے کی پالیسی کو تیز کیا، یہی وجہ ہے کہ برطانوی استعمار نے سن 1928 سے 1930 کے سیاسی بحران کے دوران شاہی حکمرانوں کو ماضی کی نسبت زیادہ خطابات دیے۔

یہی وجہ ہے کہ جب وائسرائے اور سکریٹری آف اسٹیٹ نے محسوس کیا کہ انہیں شاہی حلیفوں کی ضرورت ہے تو انہوں نے ریاستی حکمرانوں کو خطاب دینے کے لئے زیادہ سے زیادہ ریذیڈنٹس کی سفارشات کو منظور کیا۔  دراصل برطانوی سرکار کو اطمینان تھا کہ خطابات شاہی حکمرانوں کو مضبوطی سے برطانوی راج کا طرفدار بنائیں گے۔ یہ خطاب محض ان ریاستوں کے حکمرانوں کی حمایت حاصل کرنے کیلئے نہیں تھے جنھوں نے اصل میں اعزازات حاصل کیے تھے بلکہ ایسے حکمرانوں سے باہمی تعاون حاصل کرنے کا وعدہ لینا تھا جنھیں تاحال کوئی اعزاز نہیں ملا تھا۔

سانحہ جلیانوالہ کے بعد پنجاب میں انگریز راج کے خلاف مزاحمت کی ایک نئی تحریک اُبھری جس پر پنجاب میں مارشل لاء نافذ کر دیا گیا، اسلامیہ کالج لاہور، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، دیال سنگھ کالج، پنجاب یونیورسٹی کے طلباء نے احتجاجی مظاہرے شروع کیے تو طلباء کی برطرفیاں اور گرفتاریاں ہوئیں۔ برطانوی سرکار نے لاہور میں مزاحمتی تحریک کو روکنے کے لیے بااثر افراد کی مدد حاصل کی۔ مارشل لاء کی سرکاری دستاویزات میں شیخ علامہ محمد اقبال کا نام مسلمانوں کی فہرست میں درج ہے جنھوں نے مزاحمتی تحریک کو روکنے کے لیے انگریزوں کی مدد کی، علامہ اقبال کو بعد ازاں نائٹ ہڈ (سر) کا خطاب دیا گیا۔ انگریز راج کے خلاف سالٹ مارچ سے گاندھی-ارون معاہدہ تک، اور سول نافرمانی کی تحریک سے برطانویوں کو بڑے پیمانے پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

اس دوران برطانوی راج نے شاہی ریاستوں کے حکمرانوں کی وفاداری کو خریدنے کے لیے 18 خطابات تقسیم کیے۔ چونکہ برطانوی سرکار برٹش انڈیا میں فیڈریشن کے تصور کے لیے ہندستانی ریاستوں کی حمایت حاصل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا تھی جس کی منظوری لندن گول میز کانفرنس میں برطانوی اور ہندستانی رہنماؤں نے دی تھی۔ اس لیے برطانوی سرکار خطابات کو یکسر ختم کر کے ریاستی حکمرانوں کی نئی مخالفت کا خطرہ مول لینے کی سکت نہیں رکھتا تھا۔

نومبر 1934ء میں وفاقی آئین کے مسودے کی تکمیل سے برطانوی سرکار پر یہ لازم ہوگیا کہ وہ ریاستوں کی فیڈریشن کی مخالفت پر قابو پائے، بصورت دیگر آئین (بعد میں یہ آئین حکومت ہند ایکٹ 1935 کے طور پر نافذ کیا گیا) کبھی بھی نافذ نہیں ہو پاتا۔ اسی بناء پر 1935ء تا 1936ء کی آئندہ خطابات کی چار فہرستوں میں برطانوی راج کی حمایت خریدنے کیلئے 23 ریاستوں کو خطاب سے نوازا گیا۔

لیکن جلد ہی یہ واضح ہوگیا کہ ریاستی حکمران وفاقی طرز کی حکومت کی شرائط وسیع تر تبدیلیوں کے بغیر قبول نہیں کریں گے اور بظاہر برطانوی سرکار نے فراخدلی سے حکمرانوں میں خطاب تقسیم کرنا بند کر دیے۔ ریاستی حکمران وفاق کی تجاویز کو مسترد کرتے رہے اور ستمبر 1939 میں دوسری عالمی جنگ شروع ہونے کے بعد وائسرائے لارڈ لنلیتھگو نے وفاق سے ریاستوں کے الحاق یقینی بنانے کے لئے اپنی کوششیں ترک کر دیں۔

جنگ کے بعد برطانوی نوآبادیاتی حکمت عملی میں تبدیلی لائی گئی اور مقامی ہندستانیوں کی بھرتیوں میں معاونت کیلئے انھی شاہی ریاستوں سے مدد لی گئی اور دوسری عالمی جنگ کے ان پانچ سالوں کے دوران برطانوی سرکار کی معاونت کی تعریف میں 28 اعزازات دیے گئے۔ جن ریاستوں میں برطانوی سرکار نے اعزازات تقسیم کیے ان میں جودھ پور، جموں اینڈ کشمیر، گوالیار، سوات، بہاولپور، قلات، رام پور، تنجور، پٹیالہ، پٹنہ، میسور قابل ذکر ہیں۔

مابعد نوآبادیاتی عہد میں، پاکستان کے نوجوانوں کو ایسے خانوادوں کی شناخت ہونی چاہیے جو اس خطے میں برطانوی عہد کو تقویت دینے کے لیے بہ طور سہولت کار کردار ادا کرتے رہے۔ میں نے گزشتہ دو کالموں میں ایسے دیگر طبقات کی نشاندہی کی تھی جو دراصل انگریزوں کے وفادار تھے۔ تاریخی حقائق کو حال کے ساتھ جوڑ کر سمجھنے کی شعوری کوشش ہی دراصل ہمیں جدید عہد کے استعمار سے چھٹکارا دلانے کی حکمت عملی کی طرف لے کر جاسکتی ہے۔


akmal-dawn

اکمل سومرو سیاسیات میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ تاریخ اور ادب پڑھنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔وہ لاہور کے مقامی ٹی وی چینل کے ساتھ وابستہ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *