ہندستان میں کالونیل عہد کا تعلیمی تجزیہ

    May 16, 2019 5:31 pm PST
taleemizavia single page

اکمل سومرو

جنگ پلاسی کے بعد انگریزوں نے میر جعفر سے پیسے وصول کر کے بنگال میں سراج الدولہ کو شکست دے کر اسے تخت نشین کیا تھا گویا ہندستان میں کالونیل عہد کی یہ براہ راست ابتداء تھی جس کے بعد آئندہ سو سال تک ہندستان خانہ جنگی کا شکار رہا، ہندستان کو تسخیر کرنے کا سفر انگریزوں کی جانب سے پنجاب میں دس سالہ بچے کے ساتھ 29 مارچ 1849ء کو بذریعہ معائدہ پنجاب پر قبضے سے مکمل ہوا۔ اس سے قبل کشمیر پہلے ہی 70 لاکھ روپے کے عوض انگریزوں نے فروخت کر دیا تھا۔

انگریز راج کا جھنڈا پورے ہندستان میں 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد لہرایا گیا یوں ہندستان انگریز کی عمل داری میں چلا گیا۔ ہندستان میں مسلم دور حکومت کا خاتمہ اُسی وقت ہوگیا تھا جب بنگال، کلکتہ میں انگریزوں نے اپنی دیوانی عدالتیں قائم کر لی تھیں۔ 1857ء سے پہلے تک ہندستان کے سماج بالخصوص تعلیمی صورتحال کا جائزہ لے کر یہ ادراک کیا جاسکتا ہے کہ اس خطے کی حالت کیا تھی۔ 1857ء کے بعد اقتدار پر قبضہ انگریزوں کا تھا چنانچہ اس دور کے بعد جتنی بھی مردم شماری کے اعداد و شمار جمع ہوئے وہ انگریز حکومت کی کارکردگی کے ذیل میں ہی تصور کیے جائیں گے۔

ہندستان کا تعلیمی ڈھانچہ ہمیشہ سے ہی زیر بحث رہا ہے، تقسیم ہند کے بعد بھی نامکمل شواہد و تحقیق کی بناء پر چند افراد انگریزوں کی تعلیم دوستی سے متعلق عمدہ کارکردگی کی چغالی کرتے نظر آتے ہیں۔ پاکستانی ادیب کے فرزند اور بیوروکریسی کے نمائندے کالم نگار نے گزشتہ روز 15 مئی کو اپنے ایک کالم میں لکھا کہ پنجاب میں شرح خواندگی صرف تین اشاریہ تین فیصد تھی انتہائی طنزیہ انداز میں یہ تحریر کیا گیا. بیوروکریٹ کالم نگار نے یہ اعداد وشمار 1911 کی مردم شماری کی رپورٹ سے حاصل کیے ہیں یعنی پورے ہندستان پر انگریزوں کے قبضے کے 54 سال بعد کے ڈیٹا کو بطور حوالہ پیش کیا گیا۔ اس وقت یہ ہندستان کی تیسری نسل تھی جو انگریز راج میں جوان ہوئی لیکن اس کے باوجود شرح خواندگی میں اضافہ نہ ہونا بہت سارے سوالات پیدا کرتا ہے۔

صاحب دانش نے اپنے کالم کی دُم یوں ختم کی کہ انگریز سے پہلے یہ خطہ جاہل تھا اور ہماری ترقی کا بیج انگریزوں نے بویا تھا. اس تاریخ کو کھنگالنے کے لیے اب ہم صرف پنجاب میں شرح خواندگی کے اعداد و شمار کا جائزہ لیتے ہیں جب ہندستان پر انگریز کا قبضہ نہیں ہوا تھا. اس کے لیے ڈاکٹر جی ڈبلیو لائٹنر کی کتاب ہسٹری آف انڈیجنئس ایجوکیشن ان پنجاب کے مطالعہ سے حقائق واضح ہوجاتے ہیں۔ 1855ء کی مردم شماری کے مطابق پنجاب کی آبادی ایک کروڑ 27 لاکھ 17 ہزار 821 نفوس تھی۔ 1854ء کی ایڈمنسٹریشن رپورٹ کے پیراگراف نمبر 188 میں بتایا گیا کہ اُس وقت پنجاب کے 26 ہزار 210 دیہات میں اوسطاً 450 افراد تھے، 2124 چھوٹے قصبات میں ہزار تا پانچ ہزار لوگ تھے، 76 دیہاتوں میں پانچ ہزار تا دس ہزار لوگ، 31 شہروں میں دس ہزار تا پچاس ہزار لوگ تھے۔

چار درجہ اول شہروں کی آبادی یوں تھی: لاہور 94،453، ملتان 55،999، پشاور 53،294 لوگ تھے۔ ڈاکٹر لائٹنر کی یہ رپورٹ 1882ء میں ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر کی سربراہی میں بننے والے تعلیمی کمیشن کی رپورٹ کا حصہ بنی۔ ہنٹر رپورٹ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں 1855ء کی مردم شماری کے مطابق طلباء کی تعداد 3 لاکھ 15 ہزار سے زائد تھی، جس پر ڈاکٹر لائٹنر نے اپنی کتاب میں لکھا کہ 1882ء میں یہ تعداد کم ہوکر ایک لاکھ 57 ہزار 950 ہوگئی یعنی انگریز راج کے 28 سال بعد طلباء کی تعداد نصف رہ گئی۔ لائٹنر آگے چل کر لکھتا ہے کہ انگریز راج میں ہونے والی ان مردم شماریوں میں دیسی سکولوں کو شامل نہیں کیا گیا بلکہ نجی مکانات، دیہی چوپالوں اور کھلی فضا میں بھی لا تعداد سکول تھے، ڈاکٹر لائٹنر کے مطابق انگریزسرکار نے جان بوجھ کر ان اداروں کی تفصیلات جمع نہیں کی۔

دیسی سکولوں کی زمرہ بندی میں مکتب (فارسی سکول)، پاٹ شالا، گورمکھی سکول، مہاجنی سکول(کمرشل یا تجارتی کیمونٹی کیلئے)، مدارس وغیرہ شامل ہیں۔ مردم شماری میں ان میں زیر تعلیم طلباء کو شامل ہی نہیں کیا جاتا تھا بلکہ جو طالب علم فارغ التحصیل ہوئے ان کے اعداد و شمار بھی سرکار کے پاس دستیاب نہیں تھے۔

1911ء کی مردم شماری رپورٹ کے مطابق 6281955 افراد 170322 سکولوں میں زیر تعلیم تھے اس تعداد میں اضافہ ہونے کے برعکس 1930ء میں ہندستان کے 730000 دیہاتوں کے لیے صرف 162015 پرائمری سکولز تھے۔اب بیوروکریٹ کالم نگار نے 1911ء کی پیش کردہ شماریات بذات خود انگریز راج کے مُنہ پر طمانچہ ہے کہ اقتدار حاصل کرنے کے 54 سال بعد بھی شرح خواندگی میں اضافہ نہیں ہوسکا۔ کیا اس کی وجہ زبردستی انگریزی مسلط کرنا نہیں تھا؟ 1911ء کی اس رپورٹ کے صفحہ نمبر 307 کے پیراگراف نمبر 386 پر لکھا ہے کہ برطانوی حکومت میں لڑکوں میں شرح خواندگی میں دو اشاریہ آٹھ فیصد کمی ہوئی ہے۔ کیا یہ کمی مسلمان دور حکومت میں ہورہی تھی؟ بیوروکریٹ کالم نگار نے 1901ء کے بعد تعلیمی اداروں میں ہونے والی کمی پر آنکھیں بند کر لیں حالانکہ ہنٹر کمیشن اور ڈاکٹر لائٹنر کی رپورٹ میں 1882ء میں ہی نشاندہی کر دی گئی تھی کہ حکومت کی پالیسیوں کے باعث شرح خواندگی کم ہورہی ہے۔

1911ء کی رپورٹ کے مطابق ہر دس ہزار افراد میں سے 49 لڑکے اور 7 لڑکیاں انگریزی جانتی تھیں، ہندووں میں ہر دس ہزار میں سے تین لڑکیاں جبکہ سکھوں اور مسلمانوں میں صرف ایک لڑکی انگریزی زبان لکھنا پڑھنا جانتی تھی۔ یعنی انگریزی زبان کی ترویج کے لیے 1813ء سے شروع ہونے والی کوششوں کے باوجود ناخواندگی تشویش ناک ہے۔ ہم اُوپر تذکرہ کر چکے ہیں کہ کشمیر کو انگریزوں نے 62 سال پہلے فروخت کیا تھا 1911ء میں یہاں پر صرف 65 ہزار افراد پڑھنا لکھنا جانتے تھے اور رپورٹ میں اسے ہندستان میں تعلیمی پسماندگی میں سرفہرست لکھا گیا ہے۔ کیا یہ نتائج انگریز سرکار کی پالیسی کا نتیجہ نہیں تھے؟

انگریز سرکار نے شرح خواندگی کی کیا تعریف کی تھی؟ جسے لکھنا اور پڑھنا آتا ہے۔ یہاں لکھنے اور پڑھنے سے مراد انگریزی زبان میں لکھنا پڑھنا ہے یا پھر ورنیکولر زبانیں بھی قابل قبول تھیں؟ اب اس کی کھوج بیوروکریٹ کالم نگار خود لگائیں۔ تاریخ بتلانے کے لیے صرف اتنا عرض کر دوں کہ 1813ء کے بعد سے ہندستان میں انگریزی زبان میں تعلیم کو فروغ دینے کا معاملہ تیز ہوچکا تھا جس کی بنیاد 1792ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازم چارلس گرانٹ نے آبزرویشن آن دی سٹیٹ آف دی سوسائیٹی کے عنوان سے مقالہ لکھ کر رکھی۔

پھر آگے چل کر مشنری مبلغ الیگزینڈر ڈف نے اپنی کتاب میں انگریزی زبان کی حمایت میں دلائل پیش کیے جس کا حتمی فیصلہ ٹی بی میکالے کے 1835ء کے ایجوکیشن منٹس میں ہوگیا حالانکہ ایجوکیشن کمیٹی کے پچاس فیصد اراکین نے انگریزی زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کی مخالفت کی تھی اور سیکرٹری حکومت ہند ایچ ٹی پرنسپ نے انگریزی پالیسی کے خلاف اختلافی مراسلہ بھی لکھا تھا۔ لارڈ بینٹنک نے جب اس منٹس کی منظوری دی تو اس کے بعد انگریزی کتابوں کی اشاعت میں کئی گنا اضافہ ہوگیا۔ 1835ء میں شائع ہونے والی انگریزی کتب کی تعداد 31649 تھی جبکہ سنسکرت زبان میں 16، عربی 36 اور فارسی زبان میں صرف 1454 کتابیں شائع کی گئیں۔

1882ء کی رپورٹ کے مطابق انگریزی تعلیمی اداروں میں فی طالب علم پر لاگت دیسی سکول کی نسبت پندرہ گنا زیادہ تھی۔ ہنٹر کمیشن کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ انگریزی زبان کو ذریعہ تعلیم نافذ کرنے کے بعد شرح خواندگی میں کمی آئی اور جب 1844ء میں ہندستانیوں کو سول سروس کے امتحانات میں شرکت کی اجازت دی گئی، سرکاری کاروبار و عدالتی زبان میں انگریزی زبان کو اختیار کیا گیا۔ انگریزی زبان کو زبردستی مسلط کرنے کے بعد فارسی و عربی اور سنسکرت زبان کے جاننے والوں کو ناکارہ کر دیا گیا اور انگریزی اداروں کے تعلیم یافتہ افراد کو ہی نوکریاں دی جانے لگیں تو اس سے دیسی نظام تعلیم برباد ہو کر رہ گیا۔

ششی تھرور نے اپنی کتاب این ایرا آف ڈارک نیس میں معروف فلسفی ول ڈیورنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے منصوبہ بندی کے تحت دیسی سکولوں کو تباہ کیا جس کی ابتداء بنگال سے ہوئی تھی۔ مسٹر ایڈم کی 1835ء کی رپورٹ کے مطابق بنگال میں دیسی سکولوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی اس رپورٹ کا حوالہ ڈاکٹر لائٹنر نے اپنی کتاب میں بھی درج کیا ہے۔ ان دیسی سکولوں کا مستقبل کس نے مخدوش کیا تھا؟

اپنی کتاب انڈین مسلمان میں ویلیم ہنٹر نے لکھا ہے کہ جب بنگال پر قبضہ ہوا تو اس وقت ایک چوتھائی آمدن تعلیم پر خرچ کی جاتی تھی، برطانیہ نے سب سے پہلے نظام تعلیم اپنے کنٹرول میں لیا اور 1820ء تک سکولوں کو اپنے کنٹرول میں لینے کے بعد مسلمانوں کی نگرانی میں چلنے والے سکولوں کو بند کر دیا گیا۔ ہنٹر آگے چل کر لکھتا ہے کہ 1871ء تک تو بنگال میں سرکاری ملازمتوں کی تقسیم اور ان پر تقرریاں برطانوی بادشاہ کی طرف سے ہوتی تھیں۔ جی ڈبلیو لائٹنر کے مطابق انگریز سرکار نے جان بوجھ کر مقامی تعلیمی اداروں کے اعداد و شمار کو مردم شماری میں شامل نہیں کرایا تھا جس کا مقصد ہندستانیوں کو بطور پسماندہ پیش کرنا تھا۔

1896ء میں انڈین سپریئر سروس کی طرز پر انڈین ایجوکیشن سروس کا اجراء کیا گیا تھا اس سروس کے تحت صرف یورپین افراد کو ہی ہندستان کے شعبہ تعلیم میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات کیاجاتا تھا کیونکہ انگریز ہندستانیوں پر اپنی برتری کو قائم رکھنا چاہتے تھے، رولٹ ایکٹ کے نفاذ کے بعد 1920ء میں کانگرس نے انڈین ایجوکیشن سروس کے خاتمے کا مطالبہ کر دیا تھا اور سیاسی دبائو کے تحت 1924ء میں اس سروس کا خاتمہ کرنا پڑا۔ یورپین برتری کے اس تصور پر ڈاکٹر ناصر عباس نے اپنی کتاب اُردو مابعد نوآبادیات کے تناظر میں تفصیل سے بات کی ہے۔ ڈاکٹر ناصر عباس نے لکھا ہے کہ یورپ کو ہندستان میں کبیری بیانیہ کے بطور پر پیش کرنے کے ساتھ ساتھ شناخت کا جو ثقافتی تصور اُبھارا گیا یہ بھی استعماری پالیسیوں کے تناظر میں تھا۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے تو اپنی کتاب لینگوئج، جینڈر اور پاور میں انگریزی زبان کے اثرات پر تفصیلاً بحث کی ہے۔

نیو کالونیل عہد میں کالونیل پس منظر کے تحت سول بیوروکریسی کے ڈھانچے سے تیار ہونے والےپاکستانی بیوروکریٹس کی انگریزی انا کی تسکین کے لیے یہ مان لیتے ہیں کہ مسلمان حکمران کے ادوار میں یہ خطہ جاہل تھا لیکن اس کا کیا جواب ہے کہ ہندستان میں 1757ء کے بعد سے حکومتوں کو کنٹرول کرنے والے انگریز سرکار نے 47ء میں جب ہندستان چھوڑا تو شرح خواندگی صرف 16 فیصد تھی اور خواتین میں یہ شرح صرف 8 فیصد کیوں تھی؟

ویسے تو معزز بیوروکریٹ کالم نگار کو اپنے کالم میں بحث کرنے کا صیحح طریقہ بھی پورا بتانا چاہیے تھا کہ جب کسی دور کا جائزہ لیا جاتا ہے تو پھر سماج کی مجموعی حالت پیش کی جاتی ہے۔ دراصل انگریزوں نے تعلیمی اداروں کے ذریعے پورے ہندستان میں درجن بھر یونیورسٹیز کی بنیاد پر وہ طبقہ پیدا کیا جو انگریز کا وفادار بنا اور اس طبقے کی نمائندگی بیوروکریسی کے پاس تھی جس کا تصور میکالے نے اپنے منٹس میں پیش کیا تھا۔

صرف یہی نہیں بلکہ انگریز راج سے پہلے یہاں کی معاشی حالت کیا تھی اسے بھی تو بحث میں شامل کرنا چاہیے۔ ہندستان میں پانچ سو سال پہلے بنائی جانے والی عمارتیں انجینئرنگ کا شاہکار ہیں، جدید سائنسی دور میں بھی ان پر تحقیق کی جاتی ہے اب یہ شاہکار جاہل کیسے بنا سکتے ہیں؟ اور کیا یہ عمارتیں بنانے کے لیے حکمرانوں نے آئی ایم ایف سے قرضے لیے تھے؟ اسی طرح کیا کالونیل عہد میں شرح خواندگی کی تعریف یہ ہے کہ انگریزی لکھنا، پڑھنا آتی ہو؟ یا وہ صرف انگریزی ادارے میں زیر تعلیم ہو؟ بحث کرنے میں ڈنڈی مار کر انگریز کے حق میں قلم آزمائی کرنا بھی میر جعفری کے زمرے میں آتا ہے، فرق بس اتنا ہے کہ میر جعفر کو تخت ملا تھا اور آج کل کے بیوروکریٹ کو وفاداری کے عوض امریکہ و یورپ کے ویزے، بچوں کی تعلیم اور مفت دورے ملتے ہیں۔ ابھی بہت کچھ عرض کیا جاسکتا ہے۔


akmal-dawn

اکمل سومرو سیاسیات میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ تاریخ اور ادب پڑھنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔وہ لاہور کے مقامی ٹی وی چینل کے ساتھ وابستہ ہیں۔