بیل آئوٹ پیکج سے انکار، پختونخوا کی تین یونیورسٹیز دیوالیہ ہوگئیں

    August 11, 2019 12:46 pm PST
taleemizavia single page

پشاور: خیبر پختونخوا کی تین سرکاری یونیورسٹیاں دیوالیہ ہوگئیں، ان یونیورسٹیوں کے پاس اپنے اساتذہ و ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے بھی فنڈز موجود نہیں ہیں.

ان یونیورسٹیوں میں پشاور یونیورسٹی، خیبر پختونخوا ایگری کلچر یونیورسٹی اور گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان شامل ہیں جن کے پاس فنڈز دستیاب نہیں ہیں.

ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے ان یونیورسٹیوں کے مالی بحران کو ختم کرنے کے لیے بیل آئوٹ پیکج دینے سے بھی انکار کر دیا ہے.

یہ بھی پڑھیں: ایڈورڈز کالج پشاور پر حکومتی قبضے کا منصوبہ

ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ ماہ ان یونیورسٹیوں نے تنخواہوں‌ کی ادائیگیوں کے لیے مقامی بینکوں سے لون حاصل کیا تھا جبکہ یونیورسٹیوں کے پاس اس لون کی رقم کو واپس کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں.

یونیورسٹیوں کی جانب سے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور ایچ ای سی کو مالی معاونت کی درخواست کو بھی مسترد کر دیا گیا ہے.

وائس چانسلر ایگری کلچر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر جہان بخت کہتے ہیں کہ بینک سے لون لینے کے باوجود اساتذہ و ملازمین کو صرف پچاس فیصد تنخواہوں کی ادائیگی ممکن ہوسکی ہے. یونیورسٹی اساتذہ و ملازمین نے ایچ ای سی سے مزید لون لینے کا مطالبہ کیا ہے.

ڈاکٹر جہان بخت کہتے ہیں کہ گزشتہ ادوار میں غیر ضروری بھرتیوں کے باعث یونیورسٹی میں مالی بحران پیدا ہوا ہے.

وائس چانسلر کے مطابق یونیورسٹی میں 500 ملازمین سر پلس ہیں. غیر ضروری الائونس، مختلف مد میں معاوضوں کی ادائیگی نے یونیورسٹی کو دیوالیہ کر دیا ہے.

وائس چانسلر کا کہنا ہے کہ رواں سال متعدد پروفیسرز ریٹائرڈ ہو رہے ہیں اور اوسطا ایک پروفیسر کو ایک کروڑ روپے تک فوری ادائیگی کرنا ہے.

یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کہتے ہیں کہ حکومت نے فنڈز کی فراہمی کا بندوبست نہ کیا تو یونیورسٹیاں بند ہوجائیں گی.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *