تین ملین ڈالرز کا منصوبہ، 200 پاکستانی طلباء ہنگری روانہ

  • August 17, 2018 4:55 pm PST
taleemizavia single page

اسلام آباد: پاکستانی طلباءاعلی تعلیم کے لیے ہنگری یا کسی بھی ملک جائیں وہ پاکستان کے سفیر ہیں اور پاکستان کی مثبت تصویر پیش کرنے کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر عائد ہوتی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر طارق بنوری نے ان خیالات کا اظہار 200پاکستانی طلباءکو بائلیٹرل ہائر ایجوکیشن اینڈ سائنٹفک ایکسچینج پروگرام کے تحت سٹائیپینڈم ہنگریکم اسکالرشپ سے متعلق روانگی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن، ڈاکٹر طارق بنوری نے طلباءکو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہنگری نہ صرف ثقافت، تاریخ اور تخلیقی اعتبار سے ہی اہمیت کی حامل جگہ نہیں ہے بلکہ یہ ملک سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت میں بھی اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔ انھوں نے طلباءپر زور دیا کہ وہ اس بہترین موقع کا بھرپور استعمال کرےں اور پاکستان میں علم اور اپنا تجربہ واپس لے کر آئیں ۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن کمیشن، پروفیسر ڈاکٹر ارشد علی ، ہنگری کے سفارت خانہ کے کونسلر ، سیندور میہالکو ، ہنگری کے سفارت خانہ کے ڈپٹی ہےڈ آف مشن مشن ، طیوادار تکاس اور ایڈوائزر ایچ آر ڈی، ہائر ایجوکیشن کمیشن، وسیم ایس ہاشمی بھی اس موقع پر موجود تھے ۔

اس اسکالرشپ اسکیم کے بیک گراؤنڈ پر روشنی ڈالتے ہوئے سیندور میہالکونے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد پاکستان کی ترقی میں ہنگری کا حصہ ڈالنا ہے۔ مزید براں انھوں نے پاکستانی طلباءسے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی تعلیم کے دوران ساتھی طلباءسے تعلقات استوار کریں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان شخصی روابط میں بہتری لائی جا سکے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ہنگری کی حکوت اس اسکالرشپ پروگرام پر سالانہ تین ملین ڈالر خرچ کررہی ہے جو کہ آئندہ سالوں میں مزید بڑھے گا۔ انھوں نے بتایا کہ دیے جانے والے وظائف میں 125بی ایس کے، 50ایم ایس کے جبکہ 25پی ایچ ڈی پروگرام کے طلباءکو وظائف دیے جارہے ہیں ۔


Leave a Reply

Your email address will not be published.