طلباء یونین پر پاپندی کے سیاسی نتائج

    October 27, 2019 10:25 am PST
taleemizavia single page

حسنین جمیل فریدی

طلباء سیاسی طاقت میں انتہائی اہم ستون تصور کیے جاتے ہیں، انقلابی تحریکوں اور حکومت مخالف تحریکوں میں طلباء نے ہمیشہ کلیدی کردار نبھایا ہے. تیسری دُنیا کی سیاسی اشرافیہ بالخصوص پاکستان میں ان طلباء کی سیاسی طاقت کا خوف پایا جاتا ہے. یہی وجہ ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں سے طلباء سیاست پر ریاست نے پاپندی عائد کر رکھی ہے.

تعلیمی اداروں میں طلباء سیاست کے دروازے بند کرنے سے چند خاندانوں طاقت ور سیاسی خانوادے بن گئے ہیں اور ملک میں نئی قیادت کی تشکیل میں رکاوٹ پیدا کر دی گئی ہے. پاکستان میں نوجوان کی تعداد 64 فیصد تک بتائی جاتی ہے، ان نوجوانوں کو تعلیمی اداروں کے توسط سے سیاست سے باہر کرنا دراصل دستور پاکستان کی شق 16 اور شق 17 کی خلاف ورزی ہے.

برٹولٹ بریچ جہالت کی درجہ بندی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ “سب سے بڑا جاہل سیاسی جاہل ہوتا ہے، وہ نا بولتا ہے، نا سنتا ہے نا ہی سیاسی معاملات میں مداخلت کرتا ہے۔اسے دال ، مچھلی ، آٹے ، کرائے ، جوتوں اور ادویات حتی کہ زندگی کی بھی قیمت کا اندازہ نہیں ہوتا جن سب کا تعین سیاست دان کرتے ہیں۔

اگر سیاسی جاہل اپنی رائے نہیں رکھے گا ، سیاست میں حصہ نہیں لے گا تو وہ کرپٹ حکمرانوں کو مضبوط کرے گا۔ وہ کم عقل سینہ تان کر کہتا ہے کہ اسے سیاست سے نفرت ہے لیکن وہ نہیں جانتا کہ اسکی سیاسی جہالت طوائف کو جنم دیگی، بچوں کو بھوکا مارے گی، چور ، ڈاکو اور کرپٹ سیاستدان پیدا کرے گی”.

اگر کوئی فرد غیر سیاسی ہے تو وہ سماج میں جاہل تصور کیا جاتا ہے. سیاسی خواندگی اور تعلیمی خواندگی میں ایک واضع فرق پایا جاتاہے۔ بسا اوقات تعلیم یافتہ لوگ ملک کی سیاست میں عدم دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں، جس کے باعث سماج میں سیاسی کلچر میں ایسے افراد کا غلبہ بڑھنے کا امکان رہتا ہے جو سیاست و سیاسی افکار کو کنٹرول کرنے کا فن جانتے ہیں.

پاکستان کی سرمایہ دارانہ معیشت نے جاگیردای نظام سے جنم لیا ہے اور ان طبقات نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت طلباء کی سیاست میں شمولیت پر قدغن لگوائی تاکہ سماج کے بالاتر طبقات کے مقابلے پر نچلے طبقات سے تعلق رکھنے والے طلباء کو سیاسی طاقت نہ مل سکے.

حالیہ آئی ایم ایف کے قرضے کے بعد پاکستان سرمایہ دارانہ استبداد کے نیچے دبایا جا چکا ہے۔ ان قرضوں کے باعث تعلیم اور صحت پر زیادہ منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں. تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم لاکھوں طلباء و طالبات سیاسی پاپندیوں‌ کے باعث ٹھوس بنیادوں پر اس نظام ظلم کے خلاف آواز اُٹھانے سے قاصر ہیں.

طلباء کیلئے مفت تعلیم تو درکنا اسے مزید مہنگا کر دیا گیا ہے، تمام سکالرشپس بند کر دی گئی ہیں، سرکاری اداروں میں نئے داخل ہونے والے طلباء کی تعداد میں خاطر خواہ کمی کر دی گئی ہے، طلباء کیلئے تعلیمی ادارے نہیں جبکہ دور دراز سے حصولِ علم کیلئے آنے والوں کے رہنے کو ہاسٹل نہیں ہیں، ان کی آمدورفت کیلئے سہولیات نہیں ہیں، پرانی تعمیرات بوسیدہ حال ہیں، طلباء کے کھیلنے کیلئے میدان نہیں جبکہ زمینوں پر ہاوءسنگ سوسائیٹیاں بنائی جارہی ہیں۔

ایسے اثناء میں طلباء کو خاموش کرنے کیلئے ان پر مختلف قسم کی پابندیاں لگا دی گئیں ہیں، ریاست اور ادارے طلباء کی مثبت آوازوں کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں، حتیٰ کہ جب طلباء اپنے بنیادی حقوق کا نعرہ لگائیں تو انھیں انتشار پسند قرار دے دیا جاتا ہے، دہشت گردی کے مقدمات بنا دیے جاتے ہیں، درس گاہ سے خارج کر دیا جاتا ہے.

اس کی مثال قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں احتجاج کرنے والے طلباء پر ایف آئی آر کے اندراج کی صورت ملتی ہے. اسی طرح حیدر آباد میں طلباء یونین کی بحالی کیلئے نکلنے والے طلباء کو غائب کیا گیا۔جامعہ پنجاب میں طلباء پر دہشتگردی کے مقدمات چلائے گئے۔اور ڈسپلنری کمیٹیوں کے سامنے پیش پونے والے بے شمار طلباء کو یونیورسٹیوں سے نکالا گیا۔

سیاسی و معاشی مظالم پر شاعر ساحر لُدھیانوی نے کہا: “ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے”.

بڑھتے ہوئے طلباء کے اس استحصال نے انھیں سیاسی نظام کے خلاف لڑنے کی ایک نئی قوت بخشی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ حالات کےپیش نظرچند تعلیمی اداروں میں طلباء نے اس جمود کو توڑا اور اس فرسودہ نظام اور خود ہر ہونے والےحکومتی اور انتظامی مظالم کیخلاف دما دم مست قلندر کا نعرہ بلند کر دیا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی لاہور میں انتہاء پسندانہ تنظیم اور انتظامیہ کے ظلم نے چار دہایئوں بعد طلباء میں بغاوت پیدا کردی ہے۔ وہ جامعہ جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ کبھی اس اتنہاٗ پسند تنظیم کے چنگل سے آزاد نہیں ہوسکتی، وہاں ہزاروں طلباء کے اتحاد نے انہیں تاریخی شکست دی۔

قائداعظم یونیورسٹی میں طلباء اپنے ہاسٹل کی خاطر میدان عمل میں آچکے۔ بحریہ یونیورسٹی ، جامشورو میڈیکل کالج اور بلوچستان یونیورسٹی میں جنسی حراسانی کیخلاف طلباء وطالبات شانہ بشانہ کھڑے ہو ئے۔ حیدر آباد میں طلباء نے یونین سازی کی بحالی کیلئے ایک بہت بڑا مارچ کیا۔ خیبر سے کشمیر تک طلباء کی انفرادی زبان نے ایک اجتماعی زبان کی شکل اختیار کر لی ہے۔ جو یقینا ایک بہت بڑی اور حقیقی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔

سیاست کوئی فتنہ نہیں بلکہ عبادت ہے چند فتنا سازوں نے اس عبادت کو نجاست بنایا۔ اگر سیاست اتنا ہی برا کھیل ہے تو سیاسی لیڈران اپنے بچوں کو اس کھیل میں کیوں اتارتے ہیں؟

وہ والدین جو طلباء سیاست کی مخالفت کرتے ہیں انہیں سمجھنا ہوگا کہ ان کے بچوں کیلئے یہ سیاست ایک بہتر مستقبل کی ضامن ہے۔ طلباء کی اپنے حقوق کی اس جنگ میں والدین کا کردار بہت اہم ہے۔ انہیں اس تحریک میں طلباء کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ بچوں کی فیسوں کی ادائیگی سے لیکر انکی نوکری تک کی تمام تر پریشانیاں براہ راست والدین سے جڑی ہیں۔ اگر وہ اس تحریک میں اپنے بچوں کا ساتھ دے دیں تو وہ نا صرف انکے بچوں بلکہ ان کیلئے بھی تسکین کا ضامن ہوگا۔

ملک کی تمام طلباء تنظیموں کو طلباء یونین کی بحالی کیلئے ایک ملک گیر تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔ یہ تحریک ملک کے موجودہ نظام کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے جس کے اثرات ملک میں چلنے والی تمام تحریکوں پر پڑیں گے۔ لینن نے کہا تھا کہ “جب حکومت عوام کا اعتماد کھو دے تو ہاتھوں سے ووٹ ڈالنے کی بجائے سڑکوں پر نکل کر اپنے پاوءں سے ووٹ ڈالنا بہترین حکمت عملی ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *