وائس چانسلر تقرری میں بے ضابطگیوں کا انکشاف، گورنر نے سمری روک دی

  • 366 Views
  • جنوری 10, 2017 12:05 بجے PST

pag1-image

صفدر رضوی

جامعہ کراچی میں وائس چانسلر کی تقرری کیلئے سرچ کمیٹی کی متنازع رپورٹ اور سمری کے باعث وائس چانسلر کی تقرری روک دی گئی ہے۔ گورنر سندھ نے بطور چانسلر نئے وائس چانسلر کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے انکار کیا ہے۔

وائس چانسلر کی تقرری کے لیے سرچ کمیٹی کی رپورٹ میں ایک ممبر کے ایوارڈ کیے گئے نمبروں کو شامل نہ کرنے کا انکشاف ہوا تھا جس پر وزیر اعلیٰ ہاؤس سے بھی جواب طلب کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وائس چانسلر کی تقرری کا نوٹیفکیشن اس سمری کی بنیاد پر سوموار نو جنوری کو جاری کیا جانا تھا۔

جامعہ کراچی کے لیے پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل خان جبکہ سندھ یونیورسٹی جامشورو کے لیے میرٹ میں دوسرے نمبر پر آنے والے اُمیدوار پروفیسر فتح برفت کے نام کی منظوری دی گئی تھی۔

وائس چانسلر کی تقرری کے لیے جن ناموں کو فائنل کیا گیا اس میں سرچ کمیٹی کے اہم ممبر سابق چیف سیکرٹری سندھ فضل الرحمن کی جانب سے دیے جانے والے نمبروں اور آراء کو شامل نہیں کیا گیا اور ان نمبروں کو خفیہ طور پر نکال دیا گیا تھا چنانچہ جس اُمیدوار کے نمبرز زیادہ تھے وہ سمری میں دوسرے نمبر پر جبکہ دوسرے نمبر والے اُمیدوار کو پہلے نمبر پر کر دیا گیا۔

قائم مقام سیکرٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز نوید شیخ نے یہ سمری وزیر اعلیٰ سندھ کو پیش کر کے اس کی منظوری لے لی اور وزیر اعلیٰ سندھ کو سمری میں فضل الرحمن کے نمبرز نہ شامل کرنے سے متعلق آگاہ بھی نہیں کیا۔

سرچ کمیٹی کی سفارشات اور وائس چانسلر تقرری کی سمری میں بے ضابطگی کا انکشاف ہونے کے بعد گورنر سندھ نے سیکرٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز سے تفصیلی جواب جمع کرانے کی ہدایات کی ہیں۔ اس سمری میں سندھ یونیورسٹی جامشورو میں میرٹ پر پہلے نمبر پر موجود اُمیدوار کی جگہ دوسرے نمبر پر موجود اُمیدوار جبکہ جامعہ کراچی میں وائس چانسلر کی تقرری میں بھی من پسند اُمیدوار کی تعیناتی کے لیے نمبر تبدیل کیے گئے۔

واضح رہے کہ جامعہ کراچی میں گیارہ میہنوں سے مستقل وائس چانسلر موجود نہیں ہے اور قائم مقام وائس چانسلر کے عہدے پر ڈاکٹر محمد قیصر تعینات ہیں جن کی مدت ملازمت دس فروری دو ہزار سولہ کو پوری ہو چکی ہے۔


تبصرہ کیجیے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.