ابراہیم جویو: علم و حکمت کا عظیم سندھی مفکر

  • 78 Views
  • نومبر 12, 2017 12:36 بجے PST

pag1-image

اختر حفیظ

کمرا پرانی کتابوں کی خوشبو سے مہک رہا تھا، دیواروں پر آویزاں عظیم مُفکر و فلسفی کارل مارکس، اینگلز اور لینن کی تصاویر عوام کے لیے کی گئی جدوجہد یاد دلارہی تھیں، بستر کا ایک حصہ کتابوں سے لدا ہوا تھا، سائیڈ ٹیبل پر بکھرے سفید کاغذ، اخبارات اور کئی رسائل کمرے کی زینت بنے ہوئے تھے، ادب، فسلفہ، تاریخ، شاعری اور مذاہب کے شعبے پر لکھی گئی کتابیں ترتیب سے بُک شیلف میں نظر آرہی تھیں، نظر کی عینک جو کہ وہ اپنی عمر کے آخری ایام میں پڑھنے اور لکھنے کے لیے پہنا کرتے تھے وہ بھی اُسی کمرے کا حصہ تھی، یہ کمرا سندھ کے عظیم دانشور، ادیب اور ماہرِ تعلیم محمد ابراہیم جویو کا تھا جو ہم سے 9 نومبر کی صبح 102 برس کی عمر میں بچھڑ گئے۔

محمد ابراہیم جویو سندھ کے ایک عظیم مُفکر تھے جنہوں نے سندھ میں ترقی پسندی، روشن خیالی اور سیکولرزم کی بنیادیں ڈالنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اُن کی ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ سندھ کے لوگوں کو انتہاپسندی سے بچانے کے لیے اُن اقدار کو پروان چڑھایا جائے جن سے سندھ کی نوجوان نسل بہتر انداز سے سندھی سماج میں کام کرسکے۔

محمد ابراہیم جویو کا جنم 1915 میں آباد گاؤں میں ہوا، وہ جی ایم سید کو اپنا استاد مانتے تھے۔ ہندوستان کی تقسیم سے قبل سائیں جی ایم سید نے ہی اُنہیں اسکول میں داخلہ دلوایا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ سندھ کے لوگوں کو شعوری طور پر بیدار کرنا ہے تو اِس کا ایک ہی راستہ ہے کہ سندھ کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ بنایا جائے۔ یہاں سے ہی آنے والے وقتوں میں ایک ایسا سلسلہ شروع ہونے والا تھا، جو سندھ میں ایک نئے باب کی ابتدا تھی۔

انہوں نے تقسیمِ ہند نہ صرف اپنی آنکھوں سے دیکھا بلکہ اُس وقت کی مسلم لیگ اور کانگریس کی سیاست پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے۔ وہ مسلم لیگ اور کانگریس کی سیاست کے بڑے نقاد تھے۔ 1946ء کے آس پاس انہوں نے اپنی نوجوانی میں “سیو سندھ، سیو دی کانٹینینٹ“ جیسی اہم کتاب تحریر کی۔ یہ کتاب اِن کی وجہءِ شہرت بھی بنی، جس میں انہوں نے مسلم لیگ اور کانگریس کی کمیونلزم والی سیاست کو رد کیا ہے۔ اپنی اِسی کتاب میں ایک جگہ وہ لکھتے ہیں کہ:

"کانگریس اور لیگ کے عالم فاضل سیاسی ڈاکٹر صاحبان نے اپنے اپنے مریضوں کی تشخیص کیے بغیر ہی انہیں بتا دیا کہ 'تم بیمار ہو کیا تم ٹھیک ہونا چاہتے ہو؟'

یہ تھی تشخیص اور یہ تھا نسخہ۔

بیماری کس نوعیت کی تھی، یہ کبھی بتایا نہیں گیا، تشخیص کیسے کی گئی یہ بھی کبھی نہیں بتایا گیا اور نہ ہی شفا کے لیے کوئی نسخہ تیار کیا گیا۔

ان پڑھ ووٹروں کے آگے دو زہریلی دوائیاں پیش کر دی گئیں - پاکستان یا ہندوستان- انہیں ان میں سے کسی ایک دوا کو ہی چننا تھا۔

دوا منتخب کر لی گئی، لیکن صرف لفظوں پر انحصار کرتے ہوئے ہی دوا کا انتخاب کیا گیا۔ کسی کو نہیں پتہ تھا کہ جو الفاظ انہیں کہے گئے تھے، جو کہ بہت خوبصورت تھے، وہ ان کے سراب میں دراصل سیاسی و معاشی غلامی کو چن بیٹھے ہیں۔"

ہندو قوم پرستی کی حالت اور بھی کمزور ہے۔ اُن لوگوں کے لیے کہا جا رہا ہے کہ یہ آگے چل کر ایک قوم بنیں گے مگر یہ معاملہ قطعی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہندو صدیوں سے 4 طبقات میں بٹے ہوئے ہیں اِس لیے دائمی طرح عدم مساوات کا شکار رہیں گے۔ اعلیٰ ذات والے نچلی ذات کو اچھوت سمجھتے ہیں لہٰذا اُن کے لیے قوم پرستی کا ذکر کسی خام خیالی کے سوائے کچھ بھی نہیں ہے۔

سندھ میں اُن کی ایک پہچان تعلیم دان کی بھی تھی کیونکہ وہ اِس شعبے سے عرصہءِ دراز تک وابستہ رہے مگر وہ جس بھی ادارے میں رہے اُسے بہتر کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ خواہ وہ سندھی ادبی بورڈ ہو یا سندھ ایجوکیشن ٹرسٹ و دیگر ادارے ہوں۔ محمد ابراہیم اُن لوگوں میں سے تھے جوکہ اداروں کے معمار تصور کیے جاتے ہیں۔ اِسی طرح وہ مختلف اداروں کو بناتے و سنوارتے خود ایک ادارہ بن گئے۔ جن کے علم و شعور سے کئی لوگوں نے اپنی علمی پیاس بجھائی ہے۔

سندھ کے سیاستدان و دانشور رسول بخش پلیجو سے لے کر جامی چانڈیو اور نوجوان ترقی پسند ادیب بخشل تھلہو تک اُن کے اَن گنت شاگرد رہے ہیں جوکہ آج بھی اِس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ وہ محمد ابراہیم جویو کے دستِ شفقت تلے رہے۔

اُنہیں غیر ملکی ادب سندھی زبان میں تراجم کرنا بہت پسند تھا۔ اُنہوں نے اپنی نوجوانی میں مختلف کتابوں کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیا، جنہوں نے آگے چل کر سندھ کو سیاسی و سماجی ادراک سے نوازا۔ ’فسلفے جو ابتدائی کورس‘، ’جھنگلی جیوت جا نشان‘، ’فرینچ انقلاب‘، ’علم تدریس مظلومن لائی‘ اور دیگر تراجم سندھی زبان میں شاہکار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُن کا ماننا تھا کہ غیر ملکی زبانوں کے شاہکار ہی سندھ میں تبدیلی کا سبب بن سکتے ہیں۔

مجھے وہ دن یاد ہے جب وہ ہسپتال میں داخل تھے اور ہوش میں آتے ہی انہوں نے اپنی طبیعت کو در گذر کرتے ہوئے کتابوں کا ذکر کرنا شروع کردیا تھا کہ کون سی دیگر اہم کتابوں کو سندھی میں ترجمہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اُن کے پاس اگر کوئی بات تھی تو وہ کتابوں اور علم و حکمت کی بات تھی۔ اُن کے قلم کی سیاہی نہ صرف سندھ کے دُکھوں کو لکھا کرتی تھی بلکہ اُن کا حل بھی تجویز کرتی تھی۔

شیخ ایاز جن دنوں میں اپنی شاعری کو کسی سمت میں لانے کی تگ و دو میں لگے ہوئے تھے، اُن دنوں میں محمد ابراہیم جویو نے ہی اُن کی شاعری میں اصلاحات کرنا شروع کیں۔ اُن کی کتابوں کے پیش لفظ بھی زیادہ سے زیادہ محمد ابراہیم جویو کے ہی لکھے ہوئے ہیں۔ آج اگر شیخ ایاز کی شاعری کی بازگشت ہمیں سندھی ادب میں ہر جانب سنائی دیتی ہے تو اِس کا کچھ سہرا سائیں ابراہیم جویو کو بھی جاتا ہے۔ اِسی لیے شیخ ایاز نے لکھا کہ ’مجھ پر اگر کسی کو تنقید کرنے کا حق ہے تو وہ صرف محمد ابراہیم جویو ہی ہے۔'

اُن کے نزدیک ہمیں کسی قبیلے یا ذات پر نہیں بلکہ بطور ایک انسان خود پر فخر کرنا چاہیے کیونکہ فرد خاندان بناتے ہیں اور اِس کے بعد کا مرحلہ قوم بننے کا ہے، اِس کے بیچ میں قبائیلیت یا ذات پات کی کوئی گنجائش نہیں رہتی ہے۔ ایم این رائے کو پسند کرنے والے اور اُن کی تحریروں سے متاثر محمد ابراہیم جویو اپنے کام اور مقصد کی وجہ سے نہ صرف سندھ بدر ہوئے بلکہ اُنہیں کئی بار ملازمت سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔ ’سیو سندھ سیو دی کانٹیننٹ‘ لکھنے پر اُنہیں سندھ مدرسۃ الاسلام کی ملازمت سے برطرف کیا گیا تھا۔ جہاں پر وہ استاد تھے، مگر اِسی تعلیمی ادارے نے اُن کے صد سالہ جشن پر اپنی غلطی پر معافی مانگی۔

جن دنوں میں وہ سندھی ادبی بورڈ سے سہ ماہی ’مہران‘ میں بطور ایڈیٹر فرائض انجام دے رہے تھے، اُن دنوں مہران رسالے کو ایک ترقی پسند و روشن خیال طبقے کا رسالا تصور کیا جاتا تھا۔ اُن کے لیے ایک اہم بات یہ بھی تھی کہ وہ سندھ میں اُسی خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا چاہتے تھے، جیسے وہ برسوں سے دیکھتے آ رہے تھے کہ سندھ ایک خودمختیار اور خوشحال خطے کے طور پر دنیا میں ایک اپنی پہچان بنائے۔ آج اگر سندھ میں بوڑھوں سے لے کر نوجوانوں تک ہمیں اُن کے چاہنے والے نظر آتے ہیں تو اِس کی وجہ اُن کا علم آور شخصیت ہونا تھا، وہ کردار کے صاحب اور گفتار کے غازی تھے۔

وہ لوگوں کو مادی چیزوں کی حاصلات سے زیادہ ذہنی آبیاری کرنے کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ آج بھی اُن کی حیثیت سندھ کے نوجوانوں میں کسی آئیڈیل سے کم نہیں ہے۔ جہاں انہوں نے ادارے بنائے اور اُن کی ترقی و ترویج میں اہم کردار ادا کیا وہاں انہوں نے سندھ میں لوگوں کی بھی کئی حوالوں سے تربیت کی ہے۔ جس کی بدولت سندھ میں آج بھی ترقی پسند فکر کی جڑین مضبوط نظر آتی ہیں۔ اپنی زندگی میں خود کو ہر وقت کام میں مشغول رکھنے والے ابراہیم جویو ایک صدی کی ایک ایسی داستان رہے جنہوں نے کٹھن حالات میں بھی اپنے نظریاتی اساس کو خیرباد نہیں کہا بلکہ اُس پر ڈٹے رہے اور آخر تک ان کا دفاع بھی کرتے رہے۔

کارل مارکس کے انتقال پر اُس کے قریبی دوست اینگلز نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج دنیا ایک بہت بڑے دماغ سے محروم ہوگئی ہے۔ اِسی طرح سندھ بھی آج ایک ایسے دماغ سے محروم ہوگیا ہے جس نے سندھ کے حوالے سے جو بھی خواب دیکھے اُنہیں عمل میں لانے کے لیے ہمشہ کوشاں رہا۔


akhtar hafeez
اختر حفیظ سندھی زبان کے افسانہ نگار اور صحافی ہیں، اور ایک سندھی روزنامے میں کام کر ریے ہیں۔ بشکریہ ڈان نیوز

تبصرہ کیجیے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.