برصغیر میں برٹش حکومت کے پیداکردہ چھ بڑے قحط

  • 2613 Views
  • دسمبر 29, 2016 9:00 بجے PST

pag1-image
برصغیر میں 1934ء میں آنے والے قحط میں تیس لاکھ افراد ہلاک ہوئے جبکہ زندہ رہنے کے لئے گھاس اور انسانی گوشت کا سہارالینا پڑا۔

نمرہ طاہر

برطانیہ کے وزیر اعظم سر ونسٹن چرچل نے کہا تھا کہ مجھے ہندوستانیوں سے نفرت ہے وہ حیوانی خصلت مذہب کے ساتھ حیوانی خصلت کے لوگ ہیں۔ بنگال کا قحط ان پر خرگوشوں کی نسل آگے بڑھانے کی غلطی کی وجہ سے پڑا برطانوی استعماریت کے دور میں برطانیہ کے پاس بھارت کےحق میں اقتصادی لائحہ عمل بہت ہی بے رحم نظر آتا ہے جس میں مقامی شہریوں کے لئے ہمدردی کی کوئی گنجائش موجود نہیں تھی۔

برطانوی راج کے تحت، بھارت کو ان گنت قحط کا سامنا کرنا پڑا لیکن ان میں سے سب سے زیادہ متاثرکن اور تباہ کن سن سترہ سو ستر میں آنے والا قحط بنگال تھا جس کے بعد شدید قسم کے قحط آئے۔ ان میں اٹھارہ سو تیہتر، اٹھارہ سو چھیاسٹھ،اٹھارہ سو تیراسی،اٹھارہ سو بانوے، اٹھارہ سو ستانوے اور پھر آخر میں اُنیس سو تنتالیس میں ہندوستان میں آنے والا قحط نہ بھولنے والے ہیں۔

ماضی میں برطانوی راج کے دور سے پہلے، جب ملک کو قحط کا سامنا کرنا پڑتا تھا تو دیسی حکمران بڑی آفات سے نمٹنے کے لئے مفیداور بلا توقف احتیاطی تدابیر کے ساتھ تیار رہتے تھے۔

برطانوی حکومت کی آمد کے بعد، زیادہ تر قحط مون سون کی بارشوں میں تاخیر کا سبب تھے جس کی بڑی وجہ برطانوی راج کا اپنے مالی فوائد کے لئے ملک کے قدرتی وسائل کااستحصال تھا۔اس کے باوجود وہ ان افعال کے سبب ہونے والی تباہی او ر کہر کو تسلیم نہیں کرتے۔اگر کچھ ہے تو صرف یہ کہ وہ قحط کی وجہ سے بڑھنے والے ٹیکسوں کی زحمت پر کڑہتے ہیں ۔

feminee

سن سترہ سو ستر میں آنے والا سب سے پہلا قحط بہت خوفناک اور سفاکانہ تھا۔ اتنے بڑے قحط آنے کی پہلی علامات سترہ سو اُنسٹھ میں ظاہر ہوئی اور یہ قحط تیہتر تک چلا جس سے تقریبا دس لاکھ ہندوستانی اموات کا شکار ہوئے۔

جن کی تعداد دوسری عالمی جنگ کے دوران قید یہودیوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تھی ۔ اس قحط نے بنگال کی ایک تہائی آبادی کا صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ جان فسک ، اپنی کتاب "دا ان سین ورلڈ" میں لکھتے ہیں کہ ، بنگال میں سترہ سو ستر آنے والا قحط چودہویں صدی میں یورپ کو دہشت زدہ کر دینے والے سیاہ طاعون سے کہیں زیادہ مہلک تھا۔

مغلیہ دور میں، کسانوں کو ان کی نقد فصل کے دس سے پندرہ فیصد خراج عقیدت کے طور پر پیش کر نا ہوتے تھے۔جو کہ حکمرانوں کے لئے ایک آرام دہ اور پرسکون خزانے کو اورکسانوں کے لئے مستقبل میں کاشت کے دوران موسم کی تبدیلی سے حفاظت کے ایک وسیع جال کو یقینی بناتا تھا۔

femine2

سترہ سو پینسٹھ میں الٰہ آباد کے معاہدے پر دستخط کئے گئے جس کے مطابق ایسٹ انڈیا کمپنی نے مغل بادشاہ شاہ عالم دوئم سے خراج تحسین پیش جمع کرنے کا کام سنبھال لیا۔

بغاوت کو دبانے کے مقصد سے ٹیکس کو خراج تحسین کا نام دے کرپندرہ فیصد سے بڑھا کر پچاس فیصد کر دیا گیا کسان اس تبدیلی سے بےخبر تھے وہ یہ ہی سمجھ کر خراج تحسین پیش کرتے رہے کہ یہ سب پیسہ حکمرانوں کو مل رہا ہے۔

فصلوں کی جزوی ناکامی بھارتی کسان کی زندگی میں ایک باقاعدہ معمول بن چکا تھا. اس لیے خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد رہ جانے والا اضافی سرمایہ ان کے ذریعہ معاش کے لئے خاصا اہم تھا. لیکن بڑھتی ہوئی ٹیکسیشن کے ساتھ، اس اضافی سرمایےمیں تیزی سے کمی واقع ہوئی۔

سترہ سو اڑسٹھ میں فصلوں کی جزوی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو مغلیہ حکمرانوں کی طرف سے بچھایا گیا حفاظتی جال موجود نہیں تھا۔

femine3

سترہ سو اُنہتر کی بارشیں مایوس کن ہونے کے ساتھ ساتھ بدترین خشک سالی کی پہلی علامات بھی تھیں ۔ نبیادی طور پر قحط مغربی بنگال اور بہار کی جدید ریاستوں میں واقع ہوا بلکہ اڑیسہ، جھارکھنڈ اور بنگلا دیش کو بھی قحط کا سامنا کرنا پڑا جس میں بنگال سب سے زیادہ متاثر ہوا۔

بدترین متاثرہ علاقوں میں بنگال کے علاوہ بربم اور مرشدآباد تھے. ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے رزق تلاش کرنے کی امید میں صرف بعد میں بھوک سے مرنے کے لئے دوسرے علاقوں میں ہجرت کر گئے۔ ہجرت نہ کرنے والے لوگوں کو بھی ہلاکت کا سامنا کرنا پڑا۔

اس سے قبل، جب بھی قحط کا امکان ابھر کر سامنے آیا، بھارتی حکمران جمع شدہ ٹیکسوں کو آبپاشی کے اقدامات کے لئے استعمال کرتے تھے تا کہ متاثرہ کسانوں کو ہر ممکن حد تک زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔قحط کے متعلق تمام انتباہ کو ، نوآبادیاتی حکمرانوں کی طرف سے سراسر نظر انداز کیا جاتا رہا۔

اس کے بعد اموات سترہ سو اکہتر میں شروع ہو گئیں اسی سال کمپنی نے بدلے کی غرض سے ساٹھ فیصد تک زمینی ٹیکس میں اضافہ کر دیا۔ کم سے کم کسانوں کے نتیجے میں کم فصلیں اور کم فصلوں کے نتیجے میں کم آمدنی۔ لہذا جو کسان ابھی تک قحط کا سامنا کر گیا اس کو برطانوی وزارت خزانہ کی صحت کو یقینی بنانے کے لئے پہلے سے بھی زیادہ ٹیکس ادا کرنا تھے۔

مغل حکمرانوں سے قیادت سنبھالنے کے بعد برطانوی راج نے نقد فصلوں کی کاشت کے بڑے پیمانے پر احکامات جاری کئے تھے ۔ جن کو بعد میں برآمد کرنے کا ارادہ کیا گیا تھا۔

اس طرح کسانوں کو بڑھتی ہوئی دھان اور سبزیوں کی بجائےاب انڈگو، پوست اور اس جیسی دیگر اشیاء کی کاشت کاری کے لئے مجبور کیا گیا جو کے ان کے لئے مارکیٹ میں اعلی قیمت برقرار رکھ سکے نہ کہ بستی میں کھانے کی بھوک مٹانے کا باعث بن سکے۔

femine

قحط کی صورت میں خوردنی فصلوں کا کوئی متبادل موجود نہیں تھا۔ متاثر ہ آبادی کی معاونت کے لئےکوئی اقدامات فراہم نہ کئے گئے بلکہ، جیسا کہ پہلے بیان، کیا جا چکا ہے ٹیکسیشن کی آمدنی میں قیمت میں کمی کو پورا کرنے کے لئے اضافہ کر دیا گیا ۔ اس سے زیادہ ستم ظریفی کیا ہو سکتی تھی کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے سترہ سو اڑسٹھ کے مقابلے میں سترہ سو اکہتر میں زیادہ منافع حاصل کیا۔

اگرچہ بنگال میں خوراک کی کمی کی شکار عوام ابھی تک اس بات سے بے خبر تھی کہ یہ قحط ا نگریزوں کی طرف سے منافع کے حصول کی وجہ سے قائم ہوا۔

تا ہم ہر قحط کے دوران ہونے والا قتل عام اپنے آپ میں مہلک تھا ، لیکن سترہ سو اکہتر کے بعد اُنیس سو چونتیس میں آنے والا قحط مہلک ترین تھا ، جس میں تیس لاکھ افراد ہلاک ہوئے اور دوسروں کو زندہ رہنے کے لئے گھاس اور انسانی گوشت کا سہارالینا پڑا۔

ونسٹن چرچل جس نے یورپ کو ہٹلر سے بچا لیا قحط بنگال، جو کہ ایک تہائی آبادی نگل گیا، کے بارے میں پریشان کن حد تک کٹھور خیالات کا مالک تھا اس نے طبی امداد اور خوراک کی فراہمی کا رخ یورپ کے فوجیوں کی طرف موڑ دیا جن کے پاس پہلے سے ہی اچھی امداد موجود تھی ۔

چرچل نے کہا، "قحط کی صورتِ حال سے بھارت دو چار ہع یا نہیں ، بھارتیوں کو خرگوش کی نسل کی طرح پالا جائےگا"۔ دہلی حکومت نے خوفناک تباہی کی ایک تصویر اسے ٹیلی گرام کے زریعے بھیجی. جس کے جواب میں اس نے کہا"اگر ایسا ہے تو گاندھی ابھی تک کیوں کر زندہ ہے؟"۔

یہ بات بڑے افسوس کا مقام رکھتی ہے کہ مغرب نے دولت مشرق میں قبرو ں کی تعمیر کے زریعے حاصل کی ہے ۔ آج ان قبروں میں دفن لوگوں کی یاد میں آنسو بہائیں اورمل کران لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا حلف لیں جن کی آواز یں دنیا کے سامنے گھٹی ہوئی ہیں ،جن کو سننے کے لئے انکار کیا جا رہا ہے۔

آزاد ہونا ایک عظیم اعزاز ہے لیکن ایک عظیم سپر ہیرو کا کہنا ہے کہ، "عظیم آزادی کے ساتھ عظیم ذمہ داری مشروط ہے"۔


2 thoughts on “برصغیر میں برٹش حکومت کے پیداکردہ چھ بڑے قحط”

  1. یہ بد بخت سرمایہ پرستی اور سرمایہ داری نظام اور نسلی تعصب کا عذاب ہے جو ہماری بے شعوری کی وجہ سے آج بھی قایم ہے

  2. Alas! There is no mention of these six fatal starvations in our pakistan studies. Charchal speaks about Gandhi why he has not starved to death, showing his rsentment against Gandhi but that diBolical is silent about Jinna. Not taking any measures to prevent starvation shows that british govt treated indiains as animals

تبصرہ کیجیے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.


error: Content is protected !!