کتابوں کی اشاعت: چین پہلے، امریکہ دوسرے اور برطانیہ کا تیسرا نمبر

    April 23, 2017 1:45 pm PST
taleemizavia single page

تعلیمی زاویہ رپورٹ

اس سال آج 23 اپریل کو کتاب اینڈ کاپی رائٹ کا عالمی دن ” بلڈنگ پیس ان مائنڈ آف مین اینڈ ویمن” کے عنوان کے تحت منایا جارہا ہے۔ یہ دن منانے کا مقصد کتابوں سے لگاؤ کو فروغ دینا ہے تاکہ عالمی سطح پر کتاب کے ذریعے سے امن کے کلچر کو پروان چڑھایا جاسکے۔

اسی کے ساتھ اس دن کو منانے کا مقصد کتاب کی تحریر کے حقوق کی بھی حفاظت کرنا ہے۔ تاہم اب عالمی سطح پر پبلشرز کو یہ مسئلہ درپیش ہے کہ وہ تحریر و تخلیقات کی کیسے حفاظت کریں۔

پائریسی یعنی تحریری مواد کی چوری اب عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ پائریسی کے اس جُرم میں پانچ اولین ممالک میں چین، امریکہ، ایران، روس اور بھارت شامل ہیں جبکہ پاکستان کا نمبر پندرہواں ہے۔

پاکستان میں ادبی کتب کی زیادہ پائریسی ہوتی ہے جبکہ دیگر ممالک میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پر مبنی کتابوں کی زیادہ پائریسی ہوتی ہے۔ انٹرنیشنل پبلشرز ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق کتابوں کی اشاعت میں چین پہلے نمبر پر ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق امریکہ دوسرے، برطانیہ تیسرے نمبر، فرانس چوتھے اور جرمنی کتابوں کی اشاعت پانچوویں نمبر پر ہے۔

آئی پی اے کی رپورٹ کے مطابق چین کا پہلے نمبر پر ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ چین کی آبادی بہت بڑی ہے اور چین میں زیادہ کتب چینی زبان میں ہی شائع کی جاتی ہیں۔

آبادی کے تناسب سے کتابوں کی اشاعت کا موازنہ کیا جائے تو امریکہ اور برطانیہ اولین ممالک میں شامل ہیں۔ بک کلچر کو فروغ دینے کا بنیادی تعلق شرح خواندگی سے ہے۔

پاکستان میں بک کلچر کی ترویج کے لیے اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں لٹریچر فیسٹیول کا آغاز آٹھ سال پہلے کیا گیا جس سے کتاب پڑھنے کا کلچر پروان چڑھ رہا ہے۔

پاکستان میں کتاب کلچر کو فروغ دینے کے لیے ملک بھر کی سرکاری و نجی جامعات، سرکاری کالجز اور بڑے بڑے سکولوں میں کتاب میلے منعقد ہونے چاہیے اور باقاعدگی سے ان میلوں کی سرپرستی حکومت کرے۔

اس کے ساتھ درسگاہوں میں منعقد ہونے والے کتاب میلوں میں رعائیتی قیمت پر کتب فروخت کرنے کو یقینی بنایا جائے جبکہ وفاقی حکومت کتابوں کی اشاعت کرنے والے بڑے بڑے پبلشرز کو بک پیپرز پر سبسڈی فراہم کرے تاکہ سستی کتابوں کی اشاعت ہوسکے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *