سالانہ دس لاکھ پاکستانی غیر متعدی بیماریوں کے باعث مرتے ہیں؛ ڈبلیو ایچ او

    December 15, 2016 12:25 pm PST
taleemizavia single page

کراچی

غیر متعدی بیماریوں میں ذیابیطس، دل اور شریانوں کے امراض، سانس کے امراض اور عام ذہنی امراض شامل ہیں۔
غیر متعدی بیماریاں قابل علاج ہیں تاہم صحت کی عالمی تنظیم کے جائزے کے مطابق ان کے باعث پاکستان میں ہر سال 1.33 ملین افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق 80 ملین پاکستانی اس وقت مختلف غیر متعدی بیماریوں (نان کمیونیکیبل ڈیزیز) یعنی این سی ڈی کا شکار ہیں اور 2025 تک مزید 8 ملین افراد کے ان میں مبتلا ہونے کا خطرہ موجود ہے۔

ورزش کی کمی، غیر صحت بخش غذا اور غلط عادات مثلاً تمباکو نوشی طرز زندگی میں شامل ایسے اہم عوامل ہیں جو پاکستانی معاشرے میں ان غیر متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث ہیں۔

آغا خان یونیورسٹی کراچی مین پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن پروگرام کے ذریعے ایک سال پر محیط انٹرن شپ پروگرام کرایا جاتا ہے جس کے ذریعے ایسے ماہرین تیار کیے جاتے ہیں جو ان بیماریوں کا علاج کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

جس کے بعد انہیں میڈیسن کے کسی مخصوس شعبے میں ریذیڈنسی اور فیلو شپ کے ذریعے سات سال کی تعلیم اور عملی مشقیں کرائی جاتی ہیں۔

آغا خان یونیورسٹی کے تحت اس سال پی جی ایم ای کی 21 ویں تقریب تقسیم اسناد منعقد کی گئی جس میں 186 اسپیشلسٹ ڈاکٹرز نے این سی ڈیز کے علاج سے متعلق تعلیم و تربیت کی تکمیل کے بعد اپنی اسناد وصول کیں۔ اس میں دل کے آپریشن، ذیابیطس، اینڈوکرائنولوجی اور میٹا بولزم، پھیپھڑوں کے امراض، میڈیکل اونکولوجی اور نفسیاتی امراض شامل ہیں۔

پی جی ایم ای کے قائم مقام ایسوسی ایٹ ڈین اور اے کے یو کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر منیر امان اللہ کہتے ہیں کہ بیشتر پاکستانی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور سانس کے امراض کے باعث پریشان ہیں۔ یہ کسی چھپی ہوئی این سی ڈی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ پی جی ایم ای کے تحت حاصل کردہ مہارت ڈاکٹرز کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اہم اور معمولی علامات میں فوراً فرق کر سکیں؛ خراب صحت کی بنیادی وجہ تک پہنچ سکیں اور ضمنی اثرات اور پیچیدگیوں سے محفوظ رہنے کے لیے علاج کے طریقے کا تعین کر سکیں۔

معالجاتی مہارت کے علاوہ پی جی ایم ای گریجویٹس کو اپنے خاص شعبے میں علاج کے جدید ترین اور متنوع طریقوں کے متعلق مکمل علم ہوتا ہے؛ وہ مریضوں سے ہمدردانہ انداز میں بات کرنے کا گر جانتے ہیں اور ایسے تحقیق کار کی حیثیت رکھتے ہیں جو ثبوتوں کی بنیاد پر علاج کا عزم کیے ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر امان اللہ نے اپنی گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے کہا، “پی جی ایم ای پروگرام میں دی جانے والی طبی علم، مشق پر مبنی تعلیم اور دیگر مہارتوں کے باعث یہ گریجویٹس سب سے زیادہ توجہ کے طالب مریضوں کی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔”

تقریب تقسیم اسناد کے دوران گریجویٹ انٹرن ڈاکٹر رشنا ویراج نے اس کڑے وقت کا ذکر کیا جب انھیں آن کال ہونے کے دوران ایک ہی وقت میں 40 کے قریب مریضوں کو دیکھنا تھا۔ حالانکہ یہ وقت مشکل تھا لیکن رشنا کے مطابق ایک انٹرن ایک ہی دن میں متعدد مریض دیکھتا ہے جس سے ان کی مہارت میں اضافہ ہوتا ہے۔

کارڈیولوجی سرجری سیکشن کے چیف ریذیڈنٹ ڈاکٹر فضل خان نے اپنی تقریر کے دوران بتایا کہ پی جی ایم ای پروگرام کے تحت موجود شعبوں کے وسیع انتخاب کی بدولت ریذیڈینٹس کو مختلف امراض کا شکار مریضوں کے علاج کا موقع ملتا ہے۔ ڈاکٹر فضل نے اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا، “مجھے اب بھی وہ رات یاد ہے جب میں آن-کال تھا اور ایک ایسے ہنگامی کیس کو دیکھنا پڑا جس میں حادثے کا شکار مریض کی مدد کے لیے جنرل سرجری، انیستھیسیا اور آرتھوپیڈکس ٹیموں کو مل کر مریض کی جان بچانے کے اقدامات کرنے تھے۔

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال )اے کے یو( میں پیڈیاٹرکس، نیفرولوجی، کارڈیولوجی، کریٹیکل کیئر اور پلمونوجی کے ماہرین کی بڑی اور ماہر ٹیمیں موجود ہیں جو دن رات مریضوں کی تیز تر بحالی کے لیے مصروف عمل ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ اخلاقیات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اے کے یو ایچ کے لیے مریض کی فلاح سب سے مقدم ہے۔”

ڈاکٹر فضل نے اپنی تقریر کے اختتام پر کہا، “ریذیڈنسی کے دوران گزاری ان تمام بے نیند راتوں کے بعد اب ہم بحیثیت کنسلٹنٹ، انسٹرکٹرز اور فیلو ڈاکٹرز، مریضوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں لانے کے خواہاں ہیں اور اس کے لیے بھرپور انداز میں تیار ہیں۔

فارغ التحصیل ہونے والے طلبا سے خطاب کرتے ہوئے اے کے یو کی ایم بی بی ایس کلاس 1992 کے طالب علم اور تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر سلیم اسلام نے بھی خطاب کیا۔ وہ اس وقت یونیورسٹی آف فلوریڈا کے کالج آف میڈیسن مِں ڈویژن چیف، پیڈیاٹرک سرجری، اور پروگرام ڈائریکٹر پیڈیاٹرک سرجری فیلو شپ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ایم بی بی ایس کی سند حاصل کرکے دراصل ہم طب کی دنیا میں داخلے کا ٹکٹ حاصل کرتے ہیں۔ پی جی ایم ای اس دنیا میں ضروری مہارت حاصل کرنے کے لیے قطعی طور پر لازم ہے۔

تقریب کے دوران بہترین تحقیق کاروں، انٹرنز اور ریذیڈنٹس کو 10 اعزازات دیئے گئے۔ اے کے یو کے پی جی ایم ای پروگرام کے تحت 33 شعبہ جات میں ریذیڈنسی اور 27 سب-اسپیشیلٹیز میں فیلو شپ میں سے انتخاب کیا جا سکتا ہے۔

اے کے یو پی جی ایم ای پروگرام کے 60 فیصد سے زائد گریجویٹس پاکستان میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ اے کے یو ایچ میں کام کرنے والے 25 فیصد سے زائد اساتذہ اس کے اپنے پی جی ایم ای پروگرام سے فارغ التحصیل ہیں۔ 1985 میں آغاز سے لے کر اب تک 2883 اسپیشلسٹس کو سرٹیفیکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *