طالبعلم نہیں اُستاد بھی فیل ہوتا ہے

    October 7, 2018 5:13 pm PST
taleemizavia single page

زبیدہ رؤف

مشہور ماہر تعلیم اگناسیو ایسٹراڈا کا کہناہے:’’اگر ایک بچہ اس طرح نہیں سیکھ پاتا جس طرح ہم سکھاتے ہیں تو پھر ہمیں اسے اس طرح سکھانا چاہئے جس طرح کہ وہ سیکھ پائے‘‘۔

استاد بچے کو بنانے اور بگا ڑنے میں وہ کردار ادا کرتا ہے جو شاید والدین بھی نہیں کرسکتے۔ بہت سے نامور لوگ اپنے استادوں کی وجہ سے نامور ہوئے اور بہت سے مجرم اور ناکام لوگ بھی استادوں کی بے جا سختی کے باعث سکولوں سے بھاگے اور سڑکوں پر آوارگی کے بعد ان کا انجام یا تو کسی ورک شاپ میں مکینک بن کر ہوا یا پھر جیل جا کر۔ اگر ہمارے سوشل ورک کے سٹوڈنٹس جیلوں میں جا کر قیدیوں کا انٹرویو کریں تو ان میں سے اکثریت نے بچپن میں استادوں کی مار پیٹ کی وجہ سے سکول چھوڑا ہوگا۔ سکول چھوڑنے کے بعد معاشرے سے بچے پر نالائق ہونے کا پکا لیبل لگ کر اسے آوارگی کا سرٹیفیکیٹ مل جاتا ہے۔ والدین بھی ایسے بچے کی عزت نہیں کرتے۔ کوئی بھی یہ نہیں سوچتا کہ ہوسکتاہے بچہ بے قصور ہو اوراستادکی سختی اس کے سکول چھوڑنے کا باعث بنی ہو۔

استاد کی آنکھ حیران کن حد تک باریک بین اور مرد م شناس ہوتی ہے۔ اکثر استاد والدین کو ان کے بچے کے مسائل سے آگاہ کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ والدین کی فطری محبت بچے کی کمزوریوں کو نظر انداز کرجاتی ہے اور وہ اس امید پر رہتے ہیں کہ بڑا ہوگا تو ٹھیک ہوجائے گا لیکن استاد اور ڈاکٹر کا واسطہ چونکہ بہت سارے لوگوں سے پڑتا ہے اس لئے وہ صحیح موازنہ کر لیتے ہیں کہ200 بچوں میں سے یہ چار بچے اضافی طور پر تیز ہیں یا نمایاں طور پر سست ہیں۔ والدین کی محبت بے پایاں ضرور ہوتی ہے لیکن مشاہدے کا میدان اتنا وسیع نہیں ہوتا۔

استاد ایک جادوگر

استاد کا کردار جادو کی وہ چھڑی ہے جو کسی کی ساری زندگی پر اثر انداز ہوکر اسے بدل سکتی ہے۔ بند ذہن کو کھولنا، اداس روح کو خوشی اور مایوس بچوں کو امید سے آشنا کرنا استاد کا کام ہے۔ نار تھ امریکہ کے بہت بڑے ڈپارٹمنٹل سٹور کے ششماہی رسالے ’دی کنکشنز‘ نے استاد کے موضوع پر لوگوں سے اپنی یادیں لکھنے کو کہا۔ دو بہت سادہ اور موثر واقعات جون، 2018 کے شمارے میں شائع ہوئے ہیں انھیں پڑھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ استاد بچوں کی زندگیوں پر کتنا زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔

ڈبہ بند طرز تعلیم

بد قسمتی سے تعلیم کو نصاب کے ڈبے میں بند کردیا گیا ہے۔ تعلیم کی روح کو پانے کے لیے نصاب سے باہر نکلنا اور بچوں کو نکالنا بہت ضروری ہے۔ ایک اچھا استاد بچوں کو نصابی کتب کے علاوہ مطالعے سے آشنا کرواتا ہے اور پوری دنیا کی سیر کرواتا ہے۔ مروجہ طرز تعلیم میں استاد اور طالبعلم کے تعلق میں فاصلوں کو لازمی سمجھا جاتا ہے تاکہ احترام اور ادب برقرار رہ سکے۔ طے یہ کرنا ہے کہ کتنا فاصلہ ہونا چاہیے؟ فاصلہ نہ صرف ایک دوسرے کی بات سمجھنے اور سمجھانے میں رکاوٹ بنتا ہے بلکہ ایک ایسے تکلف اور تکلیف کو جنم دیتا ہے جو آسان چیزوں کو مشکل بنا دیتا ہے۔

خاص کر ذہنی مریض بچے جن کے مسائل نے ان کے ارد گرد ہچکچاہٹ اور خوف کی مضبوط دیواریں کھڑی کی ہوتی ہیں۔ بچوں کے دماغ بڑھو تری کے جس عمل سے گزر رہے ہوتے ہیں، انہیں اپنے ارد گرد کے متعلق بہت زیادہ تجسس ہوتا ہے۔ معاشرے ، اخلاق ، رسم و رواج، دنیا ، فطرت اور سب سے بڑھ کر اپنا وجود اور اس کی قدر و قیمت کے متعلق ان کا جاننا بہت ضروری ہوتا ہے اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب استاد دوستانہ گفتگو میں نصابی علم کے ساتھ ساتھ بہت ساری اخلاقی اور سماجی تربیت بھی کرسکتا ہے۔

استاد شاگرد اور شاگرد استاد

ایک حدیث مبارکہ میں علم کو مومن کی کھوئی ہوئی میراث کہا گیا ہے۔ اس حدیث کا اصل مقصد علم کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے، علم صرف استاد کی میراث نہیں ہوتا اور نہ صرف کتاب میں بند ہوتا ہے۔ علم روشنی کی طرح ہر طرف پھیلا ہوتا ہے ، اگر اسے سیکھنے کے دروازے بند نہ کرلئے جائیں یا خود سے ہی فیصلہ نہ کر دیا جائے کہ یہ جگہ اور یہ شخص تو اس قابل ہی نہیں کہ کچھ سکھاسکے تو سیکھنے کے لا متناہی رستے کھل سکتے ہیں۔ سیکھنے کے عمل کا کو ئی بھی ذریعہ ہوسکتا ہے اور کسی طرح بھی سیکھا جا سکتا ہے جیسے کہ مشہور موسیقار فل کولنز کہتے ہیں:’’ سیکھنے میں آپ سکھاتے ہیں اور سکھانے میں آپ سیکھتے ہیں۔‘‘ اس کی بہترین مثال جونی ہیرن کی یہ سچی کہانی ہے۔

انگلش میں ’پلیز‘ اور ’تھینک یو‘ کو میجک ور ڈز کہا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے اساتذہ کو اس لسٹ میں ’بہت اچھا‘،’شاباش‘ اور’ کوئی بات نہیں‘ کو بھی شامل کر لینا چاہیے۔ یہ اساتذہ اور والدین کے لیے بہت ضروری ہے کیونکہ بظاہر یہ معمولی الفاظ بچوں کے لئے ایک طاقتور ٹانک کا کام کرتے ہیں۔ بالکل ایسے جیسے زنگ آلود تالے کو تیل لگانے سے وہ بڑے آرام سے کھلنے ملنے لگتا ہے یا جام ہوئے پرزوں کو گریس لگانے سے ان میں روانی آ جاتی ہے۔ کامیاب استاد وہ ہے جو پچھلی رو میں بیٹھنے والے بچوں کو اگلی رو میں بٹھاسکے ورنہ ان بچوں کی ساری زندگی معاشرے میں پیچھے رہ کر گزر جائے گی۔

بچے کی غلطی، ہوم ورک میں بہ وجوہ تاخیر کے نتیجے میں استاد کا رد عمل ’کوئی بات نہیں‘ زیادہ تر مثبت نتائج لائے گا۔ اگر کوئی بہت ہی کاہل بچہ اس رویے سے ناجائز فائدہ اٹھائے گا تو بہت سارے، ڈرے ہوئے ، کم اعتماد بچوں میں بہت مثبت تبدیلی آئے گی۔ رٹا ایک عارضی،محدود اور ناکارہ طرز تعلیم ہے جبکہ اسی چیز کو خواہ وہ قرارداد پاکستان ہو یا حدود اربع بلوچستان ہو دوستانہ ماحول میں اسے اپنے لفظوں میں بیان کرنا اور ساری کلاس کو اس میں دلچسپ طریقے سے اس طرح شامل کرنا کہ بچے اس نصابی پڑھائی کے لیے اپنے الفاظ استعمال کرسکیں اور صرف کتاب میں لکھے ہوئے لفظ لائن بہ لائن یاد کرنے کی فکر سے آزاد ہوجائیں۔

یہ ایسی ہی آزادی ہے جیسے کسی کے سر سے منوں ٹنوں وزنی بوجھ اتار لیا جائے۔ پاکستانی معاشرے میں والدین کو بھی ایسے استاد کو ترجیح دینی چاہیے جو نمبروں کی دوڑ سے زیادہ معیاری تعلیم دے رہا ہو۔ اگر استاد والدین اور بچے کو جانچ سکتا ہے تو والدین کیوں استاد کو نہیں جانچ سکتے۔

فیل استاد

فیل صرف طالب علم ہی نہیں بلکہ استاد بھی ہوتے ہیں،ایک بارہویں کلاس کے لڑکے سے پوچھا گیا کہ کیا استاد بھی فیل ہوسکتے ہیں ؟ اس نے ایک سیکنڈ سوچے بغیر کہا:’’ہاں! وہ استاد جو بچوں کا احساس نہیں کرتے‘‘۔ ’’استاد کیسا ہونا چاہیے؟‘‘اس کے جواب میں تھرڈ ائیر کی طالبہ نے کہا کہ مجھے اتنا پتا ہے کہ میں ٹیچر بنوں گی اور اس دن استعفی دے

دوں گی جب کوئی ایک سٹوڈنٹ بھی غیر مطمئن میری کلاس سے باہر نکلا‘‘۔ کچھ اساتذہ کے مخصوص تکیہ کلام ہوتے ہیں مثلاً ’ڈل کلاس‘،’سست بچے‘،’ Passive people‘۔

حقیقت یہ ہے کہpassive class نہیں ہوتی، استاد ہوتاہے۔active استاد کی کلاس کبھی Passive نہیں ہوتی۔ انگریزی کا محاورہ ہے کہ جیسے کہ آپ وہ ہیں جو آپ کھاتے ہیں(you are what you eat) یعنی کلاس استاد کی کارکردگی کا آئینہ ہوتی ہے۔

کلاس کا ماحول

اچھا استاد کبھی بھی بچوں پر بوجھ نہیں ڈالتا۔ انھیں خوفزدہ یا پریشان نہیں کرتا۔ سائنس نے یہ ثابت کیا ہے کہ پریشانی میں دماغ بند ہوجاتا ہے۔ اچھا استاد کبھی اپنے طالب علم پر ’نالائق‘ کا لیبل نہیں لگنے دیتا۔ ایک دفعہ ’نالائق‘ کا دھبہ لگ جانے سے طالب علم اپنا جذبہ اور محنت کی تحریک کھودیتا ہے۔ بچوں کو جب ’نالائق‘ اور ’سست‘ کہہ دیا جاتا ہے تو وہ ذہنی طور پر یہ یقین کرلیتے ہیںکہ وہ دوسرے بچوں کی طرح سیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہ احساس انھیں صرف پڑھائی ہی میں پیچھے نہیں رکھتا بلکہ زندگی میں ہرجگہ وہ اپنے کمتر ہونے کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں۔

بند دروازہ = کھلا دروازہ

اندر جانے کے لئے دروازے کا کھلا ہونا ضروری ہے۔ اگر دروازہ بند ہے تو آپ صرف ٹکریں مارسکتے ہیں اندر نہیں جا سکتے۔ خواہ آ پ کے پاس کتنا ہی بڑا عہدہ اور پیسہ کیوں نہ ہو۔ استاد کلاس میں آتے ہی اپنی رعب دار آواز میں کہتا ہے ’ہوم ورک کی کاپیاں میز پر لے آؤ‘ یا ’کل کا سبق سناؤ‘ یا ’میں تم لوگوں کے ہفتہ وار ٹیسٹ کے رزلٹ لایا ہوں۔‘ یہ سب کہتے ہوئے استاد کی آواز دوستانہ تو قطعاً نہیں ہوتی بلکہ ہر فقرے کے آخر میں ایسی وارننگ ہوتی ہے کہ اگر نہیں تو پھر سزا کے لیے تیار رہو۔ خوف سیکھنے کے راستے بند کر دیتا ہے۔

ساؤ تھ کیلیفورنیا یونیورسٹی میں نیورو سائنس ، فلسفہ اور نفسیات کے پروفیسر کی تحقیق کے مطابق’’دماغ کے سیکھنے کا عمل بلاواسطہ ہمارے جذبات سے جڑا ہوتا ہے‘‘۔ گویا ہما ری ساری علمیت یاد داشت کی مرہون منت ہے۔ اگر ہم اپنی سٹور کی ہوئی معلومات کو ضرورت پڑنے پر واپس نہیں لاسکتے تو سارا سیکھنا بے کار ہے۔ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ ایک بور اور نہ دلچسپی لینے والا طالب علم سکھائی گئی معلومات کو اپنی یاد داشت سے اس طرح واپس نہیں لاسکتا جیسے ایک دلچسپی لینے والا طالبعلم۔

استاد کی پہلی انٹری ہی بچوں کے دماغ کو بند کردیتی ہے۔ بالخصوص کمزور دل و دماغ کے یا ’لرننگ ڈس ایبل‘ بچے کے دماغ کے سیکھنے کے سارے راستے بند ہوجاتے ہیں۔ اب استاد خواہ پی ایچ ڈی ہو وہ دماغ کو نہیںکھول سکتا کیونکہ خوف سیکھنے کے ماحول کا بڑا قاتل ہے اور خوف میں رکھنا ایک روایتی استاد کی عادت بن چکی ہوتی ہے(جو صرف جہالت ہے) اس کے بر عکس کلاس میں آتے ہی اگر استاد مسکرا کر یہ کہہ دے کہ ’کیسے ہیں آپ لوگ؟‘ یا یہ کہ ’آج ہم کچھ نیا سیکھیں گے‘۔ اور اگر استاد بہت پسندیدہ اور روایت شکن بننا چاہتا ہے تو وہ تھوڑا سا آگے قدم اٹھاسکتا ہے مثلاًکسی کے پاس کوئی اہم بات ہے بتانے والی تو وہ ہمیں بتائے۔کسی نے کل کچھ نیا پڑھا؟

اکثر سٹوڈنٹس ابتدا کرنے میں گھبراتے ہیں لیکن اگر استاد خود سے ابتدا کردے تو پھر ماحول ایک دم بہت دوستانہ ہوجاتا ہے اور طالبعلموں کو بولنے کی جرات ہوجاتی ہے ( مثلاً ’ہوں میرا کل کا دن بہت اچھا گزرا، مجھے میرا پرانا دوست مل گیا اور ہم نے خوب باتیں کیں‘ یا ’مجھے کل کسی نے ایک کتاب تحفے میں دی جو میں پڑھنے کے بعد آپ کو بتاؤں گا کہ اس میں کیا لکھا ہے‘ یا ’کل میں ایک دعوت میں ہوٹل گیا/ گئی وہاں میں نے ایک نئی ڈش کھائی جو بہت انوکھی تھی، میں نے وہاں ایک بیرے سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ ہمارے ہوٹل کی بہت خاص ڈش ہے ہما رے باورچی اٹلی سے سیکھ کر آئے ہیں‘۔ یہ پانچ یا دس منٹ کی گفتگو بچوں کے دماغ کو کھول دے گی اور وہ استاد کا پڑھایا ہوا جذب کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ دوستانہ ماحول میں پڑھانے کے استاد کو خاطر خواہ مثبت نتائج نظرآئیں گے۔

مثبت سوچ والا استاد= با اعتماد بچے

ہما رے ہاں بچوں کو ذہنی تناؤ میں رکھنا تعلیم کا ضروری حصہ سمجھا جاتا ہے، اور اکثر استاد منفی فقروں کا استعمال اپنی عادت بنا لیتے ہیں جو خود استاد اور بچے دونوں کے لئے سخت نقصان دہ ہے۔ مصر میں منعقد ہونے والے تلاوت قرآن مجید کے مقابلے میں پوری دنیا سے بچے اپنے والدین یا استاد کے ساتھ شرکت کرتے ہیں اس ڈاکو مینٹری https://www.youtube.com/watch?v=mjbahxKVj9A میں بچوں کے تاثرات کو بہت اچھی طرح فلم بند کیاگیاکہ کس طرح وہ مقابلے کے لئے محنت کرتے ہیں اور کتنی ذہنی ٹینشن لیتے ہیں کہ ان سے کوئی غلطی نہ ہو جائے۔

’میری کلاس میں بچے بہت نالائق اور سست ہیں‘

یہ ایک عام فقرہ ہے جو اکثر استاد بچوں کے متعلق کہتے ہیں، لیکن یہ سراسر غلط جواز ہے۔ ایک طرفہ ٹریفک اب بند ہوجانی چاہئے۔ کب تک صرف استاد کو ہی سنا جائے گا اور طالب علم کو بولنے کا حق نہیں دیا جائے گا! یہ فیصلہ کون کرے گا کہ طالب علم نالائق ہے یا استاد کو پڑھانا نہیں آتا۔ امریکا میں ماہرین تعلیم نے اس موضوع پر بہت تحقیق کی ہے بہت سے بچوں کو نالائق اور پڑھنے کے جذبے سے خالی قراردے دیا گیا اور ایک سے زیادہ استادوں نے کہا کہ ہم ان سے مغز ماری کرکے تھک چکے ہیں۔ انہی بچوں کو مختلف طریقے سے پڑھایا گیا تو انہوں نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔

انسانی فطرت ہے کہ انسان’ عادت کا عادی‘ رہنے میں سہولت محسوس کرتا ہے لیکن بڑی کامیابیاں صرف انہی لوگوں کو ملتی ہیں جو’ کمفرٹ زون‘ سے باہر نکلتے ہیں۔ اکثر استاد یہ سوچ کر زیادہ کوشش یا تجربات نہیں کرتے کہ تنخواہ تو وہی ہے اور سہولتیں بھی وہی ہیں تو کلاس میں کچھ لائق اور نالائق کا تناسب توہوتا ہی ہے لیکن یہ تناسب کی بات نہیں انصاف، حق اور مساوی حقوق کی بات ہے۔ اپنے کمائے ہوئے رزق کو حلال کرنے کی کوشش اور ہزاروں کی تعداد میں معصوم بچوں کو معاشرے کا عضو ناکارہ بننے سے بچانے کی ضرورت ہے۔