لاہور میں وائس چانسلرز کی “امن کانفرنس” کی کہانی

  • April 23, 2017 5:19 pm PST
taleemizavia single page

عاطف پرویز

آپ امن اور رواداری کی بات کر رہے ہیں دیکھیں یہاں تو جامعات میں اساتذہ کی ترقیوں کا طریقہ کار ہی غلط ہے اب جو استاد اچھے طالبعلم تیار کررہا ہے اُس کی ترقی کے لیے تحقیقی مقالوں کی شرط لگانا تو ان اساتذہ پر بوجھ اور سمجھ سے بالاتر ہے۔

یہ جملے اُس خاتون اُستاد کے ہیں جو لاہور میں موجود پاکستان کی سب سے بڑی خواتین یونیورسٹی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھتی ہیں جو امن و رواداری پر کانفرنس میں شرکت کے لیے آئی۔ ملک میں دہشت گردی اور شدت پسندی کی لہر میں تیزی کے بعد پہلی مرتبہ حکومتی سطح پر یونیورسٹیز کا اکٹھ ہوا جہاں پر رئیس الجامعات نے مکالمہ کیا۔ دل کی تسلی کے لیے حکومت نے اساتذہ اور چند ایک طلباء کو بھی مدعو کیا تھا تاکہ ان کی بھی حاضری لگ جائے۔

کانفرنس کا مقصد تو جامعات میں امن اور راوداری کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے راہیں تلاش کرنا تھا مگر شاید کانفرنس میں شریک ریئس الجامعہ اور اساتذہ نے موقع کی غنیمت جان کر اس پلیٹ فارم پر اپنے مسائل بھی اُٹھا دیے۔

وہ خاتون اُستاد ایسی جذباتی ہوئی کہ امن پر منعقدہ مباحثہ میں لگے ہاتھوں تحقیقی مقالہ جات شائع کرانے کا درست فارمولہ بھی بتا دیا۔ اگرچہ شرکاء امن پر فلسفیانہ گفتگو سننا چاہتے تھے مگر اس خاتون نے مقالہ شائع کرانے کی اندر کی کہانی بھی یوں بیان کر دی کہ اگر کسی دوسری جامعہ میں تحقیقی مقالہ شائع کرانا ہو تو وہ جامعہ یہ بھی شرط لگا دیتی ہے کہ ہمارا تحقیقی مقالہ آپ اپنے مجلے میں شائع کر دیں تو حساب برابر ہوجائے گا۔

گو یہ فارمولہ اور معیار تھا اساتذہ کی ترقی کے لیے شائع ہونے والے مقالہ جات کا۔

لو جی اب امن کے قیام کی ایک نئی داستان بھی سن لیجئے۔ ملک کی بڑی سرکاری جامعہ کے مشیر امور طلباء نے کانفرنس میں سیدھا حملہ کر دیا کہ دراصل تو امن کے دُشمن ہی وائس چانسلرز ہیں۔ یہ سنگ دل، ظالم، طلباء کے سامنے اساتذہ کی تذلیل کرنا تو اپنا پسندیدہ مشغلہ ہے لیکن کتنی دلچسپ بات ہے کہ ہم یہاں پر امن و رواداری کا درس دینے کے لیے سب جمع ہوئے ہیں۔

کانفرنس کی انتظامیہ نے تو شرکاء پر بڑا ظلم کیا، اتنے طویل سیشنز نے تو وائس چانسلرز تک نیند طاری کر دی اب بھلا نیند سے بہترامن کی دوا کیا ہوسکتی ہے۔ وہ وائس چانسلرز جن کی عادت ہی اپنے پروفیسرز، طلباء کو سارا دن اپنی دانشوری سے محظوظ کرنا ہے بھلا ان میں اتنا حوصلہ کہاں کہ وہ کسی اور کی دانش وری کو اپنی گود میں لیں۔

گویا کانفرنس کا پہلا پورا دن بھر پور گزرا، لاہور سے باہر کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو جم خانہ میں اس سے پہلے عشائیہ کرنے کا شوق بھی پورا ہوچکا تھا۔ اور وہ لاہور میں اپنی افسری کو قائم رکھنے کے لیے سٹاف کو بھی ساتھ لائے چنانچہ امن و رواداری کا درس انہیں بھی دیا گیا۔

کانفرنس کے ورکنگ گروپ آن سول سوسائٹی ایںڈ میڈیا کا میں بھی حصہ تھا اگرچہ تاخیر سے اس گروپ میں شامل کیا گیا وہ بھی جب منتظمین سے میں نے کسی گروپ میں شامل ہونے کا اصرار کیا۔

یہ گروپ بھی دلچسپی سے خالی نہیں تھا، ایک خاتون ممبر کو جیسے ہی معلوم ہوا کہ میرا تعلق برقی میڈیا سے تو اُنہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ دیکھا سیدھا جُملہ کسا کہ جناب یہ میڈیا ہی امن کا دُشمن ہے اور یہ بریکنگ نیوز کے نام پر پوری قوم پر سارا دن ذہنی عذاب مسلط کیے رکھتا ہے۔ اب بھلا میڈیا کے ہوتے ہوئے ہم اساتذہ کیسے امن لا سکتے ہیں؟

لیکن مباحثہ کا اگلا لمحہ تو کھلا تضاد تھا جب خاتون ٹیچر نے کہا کہ آپ تو تعلیمی نامہ نگارہیں ذرا ہماری یونیورسٹی کے یہ خاص مسائل ہی کیمرے کی آنکھ سے دکھا دیں۔ اب میں نے اس فرمائش پر ہلکی سی مسکراہٹ دے کر سر ہلانا ہی مناسب سمجھا۔

کانفرنس میں وائس چانسلرز کی سربراہی میں گروپس تشکیل دیے گئے تھے جب ان گروپس نے اپنی اپنی (مضحکہ خیز) تجاویز دیں تو مجھے بخوبی اندازہ ہوا کہ ہماری یونیورسٹیز کیوں علمی بانجھ پن کا شکار ہیں۔

بہاولپور کی یونیورسٹی کی وائس چانسلر نے دعویٰ کیا جناب حکومت اگر امن کو معاشرے کے لیے ناگزیر سمجھتی ہے اور بھی چاہتی ہے کہ جامعات امن کا مثالی نمونہ ہوں تو براہ مہربانی اساتذہ کو سکالر شپس دیں، ان کی بروقت ترقیاں کریں تاکہ انہیں ذہنی سکون مل سکے۔ دراصل امن پر منعقدہ کانفرنس میں شریک ان وائس چانسلرز اور چند اساتذہ نے یہ سمجھ لیا کہ انہیں جمع کرنے کا غرض صرف یہ ہے کہ اساتذہ کے مسائل کو اُٹھائیں باقی طالبعلم سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔

اس پوری کانفرنس کا صرف ایک تجویز شاید امن کے خواب کو پورا کرنے کی نیت سے دی گئی تھی کہ سماجی علوم، شہری حقوق، طلباء سوسائٹیز، اور امن پر مبنی مواد کو نصاب میں داخل کیا جائے اور ساتھ میں ذرا یونیورسٹیوں کی مساجد کو بھی ریگولیٹ کر لیا جائے تو کمال ہوجائے گا۔ کہ یہاں پر نماز جمعہ کے خطبات میں موضوع کا چناؤ یونیورسٹی انتظامیہ کا صوابدیدی اختیار ہو نہ کہ مسجد کے امام کا دائرہ اختیار۔

کانفرنس میں تو یہ شدت سے محسوس ہوا کہ جیسے وائس چانسلرز خوفزدہ ہیں، اُن کی گفتگو اور تجاویز میں نہ تو ملک کے سیاسی نظام کے باعث پیدا ہونے والی شدت پسندی اور دہشت گردی کی مذمت کی گئی اور نہ ہی ان وائس چانسلرز نے دہشت گردی پر یونیورسٹیز کی جانب سے متبادل بیانیہ پیش کرنے کا حوصلہ کیا۔ یا تو انہیں متبادل بیانیہ سے کوئی غرض نہیں تھا یا پھر انہیں اندازہ نہیں کہ ملک میں امن کے بغیر یونیورسٹیز میں امن کا کلچر ممکن نہیں ہے۔

پنجاب کے چھبیس سرکاری یونیورسٹیز میں امن کی صورتحال تو یہ ہے کہ پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اس کانفرنس کو امن کی خاطر لاکھوں روپے ادا کر کے آواری ہوٹل میں منعقد کرایا کیونکہ لاہور کی کسی بھی سرکاری یونیورسٹی کے پاس اتنی جگہ ہی نہیں تھی کہ وہاں پر کانفرنس کرا دی جاتی۔ شاید وائس چانسلرز بھی مائنڈ کر جاتے اگر یہ کانفرنس فائیو سٹار ہوٹل میں نہ ہوتی۔ امن پر کون سمجھوتہ کرتا ہے بھلا؟

امن اور رواداری تو ہر پاکستانی کی خواہش ہے اب یہ خواہش نہ جانے کب پوری اس پر تو فی الحال اللہ سے دُعا کی جاسکتی ہے لیکن وائس چانسلرز کو کانفرنس میں آنے کے لیے الاؤنسز اور سرکاری مراعات ضرور مل گئی ہیں جس وہ خود تو کم از کم پُرامن ہی واپس اپنی اپنی یونیورسٹیوں میں پہنچے ہوں گے۔


Atif Pervaiz

عاطف پرویز تعلیمی نامہ نگار ہیں اور وہ دُنیا گروپ سے وابستہ ہیں۔ وہ بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی لاہور سے ایم فل کی ڈگری رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.