جامعہ سرگودھا کا ماتم

    September 18, 2017 9:05 pm PST
taleemizavia single page

صاحبزادہ ذاکر رحمن

اگرچہ خادم اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف سختی سے گڈ گورننس کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں تاہم اس کے باوجود افسر شاہی کے کچھ مہرے بعض اوقات ان کی آنکھوں میں بھی دھول جھونکنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور بعدازاں انہیں اعلیٰ عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے جس سے کئی انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں اور بسا اوقات ارباب اختیار کو بھی سبکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حال ہی میں اعلیٰ تعلیم، تدریس، تحقیق کے ادارے یونیورسٹی آف سرگودھا میں وائس چانسلر کی خلاف قانون اور میرٹ سے ہٹ کر تقرری نے بھی کئی خدشات، تحفظات اور شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے جس سے جہاں مذکورہ ادارہ میں تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں وہیں سنگین انتظامی مسائل کا بھی سامنا ہے۔

مارچ 2015 ءمیں سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب لاہور کی جانب سے صوبہ پنجاب کی 10 یونیورسٹیز سرگودھا یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی تقرری کیلئے اپریل دو ہزار پندرہ میں درخواستیں طلب کی گئیں۔

اس عہدے کیلئے جہاں پی ایچ ڈی کی شرط مقرر ہوئی وہیں پر یونیورسٹی میں تدریس کا کم از کم 12 سالہ تجربہ،فل پروفیسر کے طور پر ٹیچنگ، کم از کم 15 ریسرچ پیپرز کی پبلیکیشن جن میں کم از کم 5 گزشتہ 5سال میں شائع ہونا اور نتظامی و فنانشل مینجمنٹ کا 10 سالہ تجربہ بھی شامل کیا گیا۔

قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق احمد بھی اُمیدوار بن گئے۔ محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب نے وی سی کیلئے پی ایچ ڈی کی صورت میں 20 نمبرز،ٹاپ 500 یونیورسٹیز میں سے کسی ایک سے پی ایچ ڈی کی صورت میں مزید 5 نمبر،15 سالہ تدریسی/ٹیچنگ تجربہ کے 10 نمبر،ریسرچ پبلیکیشنز کے 10 نمبر، 10 سالہ انتظامی تجربہ کے15 نمبر، 8 سالہ انتظامی تجربہ کے 7.5نمبر اور انٹرویو کے 40 نمبر مقرر کئے۔

ریکروٹمنٹ پالیسی برائے وائس چانسلرز میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ تعلیم، تدریس، تحقیق، انتظامی و معاشی مینجمنٹ کے تجربہ کے مقر کردہ کل 60 نمبرز میں سے 45 نمبر حاصل کرنیوالے امیدواروں کو ہی شارٹ لسٹ کیا جائے گا۔

اس اشتہار کے پیش نظر ڈاکٹر اشتیاق احمد نے بھی یونیورسٹی آف سرگودھا کی وائس چانسلر شپ کیلئے درخواست جمع کروادی جن کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ نہ صرف مذکورہ عہدہ کیلئے اپلائی کرنے کے اہل ہی نہ تھے بلکہ ان کی قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں بطورٹنیور ٹریک ایسوسی ایٹ پروفیسر تقرری بھی غیر قانونی تھی اور اس میں بھی مقررہ رولز اینڈ ریگولیشنز و میرٹ پالیسی کی صریحاً خلاف ورزی کی گئی۔

قائداعظم یونیورسٹی میں بطورٹنیور ٹریک ایسوسی ایٹ پروفیسر انکی تقرری سال 2007 ءمیں کی گئی حالانکہ اس وقت ماڈل ٹنیور ٹریک سٹیٹس ورشن ٹو سا ل 2008 ءکے تحت شرط یہ تھی کہ امیدوار کے 10 ریسرچ پبلیکیشنزکی اشاعت ہونا چاہئے جن میں سے کم از کم 4 کی اشاعت گزشتہ 5 سال میں ضروری ہے مگر اس و قت انکے پاس صرف 4 ریسرچ پیپرز تھے لیکن پھر بھی وہ ایسوسی ایٹ پروفیسر مقرر ہوگئے جو کہ میرٹ پر سوالیہ نشان ہے۔

یہی نہیں بلکہ قائداعظم یونیورسٹی میں بطورٹنیور ٹریک ایسوسی ایٹ پروفیسر اپنی تقرری کے بعد موصوف نے مقررہ 4 سال کا عرصہ تعیناتی بھی پورا نہیں کیااور سراسر نا جائز و غیر قانونی طور پرپوسٹ ڈاکٹریٹ کی آڑ میں برطانیہ چلے گئے۔

اس ضمن میں مروجہ قواعد و ضوابط کے مطابق انہیں صرف ایک سال کی چھٹی کا اختیار حاصل تھا مگر وہ 5 سال 2010ءسے2015ءتک بیرون ملک رہنے کے بعد وطن واپس لوٹے جو صریحاً ناجائز و غیر قانونی اقدام تھا۔

اس ماڈل ٹنیور ٹریک سٹیٹس ورشن ٹو سا ل 2008 ءکے تحت قوانین کی خلاف ورزی پر ہا ئر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور قائد اعظم یونیورسٹی انتظامیہ اسلام ۱ٓباد کو انہیں فوری برطرف کردینا چاہئے تھا مگر نامعلوم وجوہ کی بناءپر ایسا نہ کیا گیا۔

ڈاکٹر اشتیاق احمد کو پی ایچ ڈی کے 20 نمبر،پی ایچ ڈی فرام ٹاپ 500 یونیورسٹیز کی مد میں زیرو نمبر،ٹیچنگ کے تجربہ کے نام پر 10 نمبر،ریسرچ پبلیکیشن کے نام پر 4 نمبر اور ایڈ منسٹریٹو ایکسپیرینس کے نام پر 15 میں سے زیرو نمبر دیا گیا اس طرح انہوں نے کل 60 میں سے 34 نمبر حاصل کئے ۔

یہاں انتہائی اہم امر یہ ہے کہ جب مطلوبہ اہلیت کے مطابق انکے نہ تو 60 میں سے مطلوبہ 45 نمبر تھے، وہ نہ فل پروفیسر تھے،نہ انکے پاس ریسرچ پیپرز پبلیکیشنز تھیں،نہ ایک بھی دن کا انتظامی امور اور فنانشل مینجمنٹ کا تجربہ تھا۔

تو پھر انہیں وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا کیلئے شارٹ لسٹ ہی نہ کیا جاسکتا تھا مگر پھر بھی اس وقت کے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن عرفان علی نے نہ صرف سیاسی دباﺅ کے پیش نظر انہیں شارٹ لسٹ کیا بلکہ بعدازاں سرچ کمیٹی کے بعض ارکان کی معاونت سے انکی تقرری میں بھی معاونت کی۔

ان پر مہربانی تو سرچ کمیٹٰ نے بھی کی کیونکہ انہیں وائس چانسلر لگانے کی سفارش کی گئی تھی۔

سرچ کمیٹی کے سربراہ سید بابر علی اور پاکستان میں یوایس ایڈ کے سابق عہدیدار ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی نے ذاتی پسند کی بنیاد پر اشتیاق احمد کو فیور بھی فراہم کی۔

حالانکہ دستیاب ریکارڈ کے مطابق پروفیسر ڈاکٹر طاہر کامران نے کل 100 میں سے 83 نمبر،ڈاکٹر اشتیاق احمدنے 82 نمبر اور پروفیسر ڈاکٹر ظفر معین ناصر نے 80 نمبر حاصل کئے۔اس طرح تمام تر لوازمات پورے کئے جانے کے بعد پہلی پوزیشن پر آنیوالے پروفیسر ڈاکٹر طاہر کامران کو وائس چانسلر مقرر کیا جانا تھا۔

مگر نامعلوم وجوہ کی بناءپر میرٹ کے تقاضوں کو پامال کرتے ہوئے محکمہ ہائرایجوکیشن پنجاب نے وائس چانسلر تقرری کیس کے عدالتی فیصلے کے فور اً بعد مئی میں ڈاکٹر اشتیاق احمدکو وائس چانسلر تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب اب خود انصاف کریں کہ اُن کی میرٹ پالیسی کی دھجیاں کس نے اُڑائیں کیا بیوروکریسی ملوث ہے یا پھر کوئی با اثر سیاستدان جو اُن کی حکومت کے میرٹ پر دھبہ لگا گیا ہے۔


SAHIBZADA ZAKIR REHMAN-

لکھاری جھنگ پریس کلب کے سابق نائب صدر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *