امریکہ پانچ سال سے نمبر ون: یورپ کی یونیورسٹیاں مسلسل تنزلی کا شکار

    September 23, 2016 1:03 am PST
taleemizavia single page

نمرہ طاہر

کیوایس ورلڈیونیورسٹی رینکنگ کے شائع ہونے والے تازہ ترین ایڈیشن میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی یونیورسٹیاں 20 پوزیشنز میں سے11 حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔

کیو ایس نے 103 ملین تحقیقی مقالات اور 663 اقتباسات کا تجزیہ کیا جو کہ ایلسوئر کے ڈیٹا کے مطابق ترتیب دیا گیا۔

امریکی تسلط کو مضبوط بنانے کے لیے امریکہ کی 32 یونیورسٹیوں نے 100 میں سے 26 پوزیشنز حاصل کیں۔

میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم ائی ٹی) نے مسلسل پانچویں سال پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ سٹینفورڈ نے دوسری اور ہارورڈ یونیورسٹی نے تیسری پوزیشن حاصل کر کے شہرت حاصل کی۔

پہلی 20 پوزیشنز میں سے برطانیہ نے پانچ جبکہ سوئٹزر لینڈ اور سنگاپورنے دو پوزیشنز حاصل کیں ، لیکن کوئی یونیورسٹی دو سے زائد مقامات حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

پہلے 200 درجات میں امریکہ کے 48 ادارے برطانیہ کے 30 ،نیدرلینڈ کے 12، جرمنی کے 11،کینیڈا اور آسٹریلیا کے 09، جاپان کے 08 چین کے07 فرانس،سویڈن اورہانگ کانگ کے 5 ادارے شامل ہیں۔

لیکن درجہ بندی کی وسیع تر کہانی کے مطابق مغربی یورپی اداروں کی کارکردگی میں کمی ہوئی خاص طور پر برطانیہ کی یونیورسٹیاں لڑھک گئیں۔

کیونکہ برطانیہ کی 18 یونیورسٹیوں میں سے 14 یونیورسٹیاں پوزیشنز حاصل کر سکیں اور کچھ یہی صورتحال نیدرلینڈ ، جرمنی اور اٹلی کی معروف یونیورسٹیوں کی رہی۔جبکہ ایشیائی یونیورسٹیوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رہا اور امریکی یونیورسٹیوں نےان کی غالب پوزیشن کومزید مستحکم کیا۔

ایک نمایاں استثنا سوئٹزر لینڈرہا جسکی آٹھ یونیورسٹیوں میں سے چار نے پہلے سے زیادہ بلند مقام حاصل کیا اور ای ٹی ایچ زیورخ یونیورسٹی نے آٹھواں درجہ حاصل کیا۔ جبکہ دوسری جگہ آسٹریلیا کے بلند ترین پانچ اداروں میں سےچار نے اپنی ساکھ کھو دی۔

اس کے برعکس چین کی ٹاپ 13 یونیورسٹیوں نے بلند مقامات حاصل کیے، جبکہ چین کی چار جامعات اب بھی پہلی100 پوزیشنز میں شامل رہیں۔

سنگھوا یونیورسٹی 24ویں پوزیشن حاصل کر کے بہترین رہی اور ہانگ کانگ کی 7 میں سے 6 جامعات پہلی50پوزیشنز میں شامل رہیں۔

جاپان کی 17 یونیورسٹیوں میں سے گیارہ کا شمار پہلی 500 پوزیشنز میں ہوا جبکہ ان میں سے دو ہیروشیما یونیورسٹی اور ٹوکیو میڈیکل اینڈ ڈینٹل یونیورسٹی نے پہلی 50 پوزیشنز میں اور یوکوہاما سٹی یونیورسٹی نے پہلی100 پوزیشنز میں درجہ حاصل کیا۔

جنوبی کوریا کی 16 میں سے 12 یونیورسٹیاں پہلی500 پوزیشنز میں درجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں جبکہ ایک یونیورسٹی نیا اندراج حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہی۔

سنگاپور نے اعلیٰ کار کردگی دکھانے والے ایشیائی ملک کے طور پر اپنی ساکھ قائم رکھی اور اسکی نیشنل یونیورسٹی نے بارہویں اور نینینگ یونیورسٹی نے تیرہویں پوزیشن حاصل کی۔

روس پہلی 100 پوزیشنز میں مقام حاصل کرنے میں ناکام رہا لیکن اس کے باوجود گزشتہ نو سالوں کے مقابلے میں 500 بلند یونیورسٹیوں میں روس کی 11 یونیورسٹیوں کا شمار ہوا۔

ماسکو انسٹیٹیوٹ آف فزکس اینڈ ٹیکنالوجی،ٹومسک سٹیٹ یونیورسٹی، نیشنل ریسرچ ٹومسک پولی ٹیکنیک یونیورسٹی، نیشنل ریسرچ نیوکلیر یونیورسٹی،نیشنل ریسرچ یونیورسٹی ہائر سکول آف اکنا مکس نے بلند درجات حاصل کیے۔

افریقہ نے اپنی نو یونیورسٹیوں کو پہلی 700 پوزیشنز میں مقام حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کی لیکن نو میں سے آٹھ یونیورسٹیوں کو ناکامی کا سامنا رہا۔

افریقہ کی پہلی تین بہترین یونیورسٹیاں جن میں یونیورسٹی آف کیپ ٹاون اورکائرو میں امریکن یونیورسٹی 20 درجےجبکہ یونیورسٹی آف وٹواٹرسینڈ 28 درجے نیچےآ گیئں۔

فی الحال روشنی کا زریعہ صرف سٹیلنبوش یونیورسٹی ہے جس نے پہلی 400 پوزیشنز میں 395 ویں پوزیشن حاصل کی۔

امریکہ کی کوشش تب کامیاب ہو ئیں جب یونیورسٹی آف بیونس اریز نے 85 ویں اور یونیورسٹی آف ڈی ساؤ نے 120 ویں پوزیشن حاصل کی۔

کیو ایس کے مطابق رقم چاہے اوقاف سے حاصل کردہ ہو یاعوام سے ملکوں میں ادارے فنڈنگ کے لیے طے شدہ ہدف سے بھی زیادہ رقم فراہم کرتے ہیں۔

کیو ایس کے ریسرچ گروپ کے مطابق دنیا کے کچھ حصوں میں ریسرچ کے اخراجات پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

اس کے بر عکس مغربی یورپی اقوام پبلک ریسرچ کے اخراجات کو کم کرنے کی تجویز کر رہی ہیں جس کی وجہ سے امریکی اور ایشیائی ہم منصب زوال کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا خصوصابرطانوی یونیورسٹیاں فنڈنگ کی غیر یقینی صورتحال اور بین الاقوامی نوجوانوں پر امیگریشن کے سخت قوانین کی وجہ سے پیدا ہونے والے اثرات سے دو چار ہے۔

برطانیہ کی بلند ترین 400 یونیورسٹیوں میں سے تین چوتھائی یونیورسٹیوں کو دونوں تعلیمی ساکھ اور ملازمت فراہم کرنے والے کی ساکھ کے طور پر نقصان اٹھانا پڑا اور 58 فیصد غیر ملک تعلیمی عملے میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔

برطانیہ کی کارکردگی یورپی یونین کےریفرینڈم ووٹ کی وجہ سے متاثر نہیں ہوئی کیونکہ درجہ بندی کے لیے سروے بریگزٹ سروے سے پہلے کیا گیا تھا۔

اس سال اکیاسی ممالک میں سے کل 916 یونیورسٹیوں کی درجہ بندی کی گئی۔ اور74651ماہرین تعلیم اور 37781آجروں نے کیو ایس کے عالمی سروے کے زریعے درجہ بندی میں شرکت کی۔جو کے کیو ایس کے مطابق ایک بڑا تناسب ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *