یو ایس ایڈ نے 15 سالوں‌ میں پاکستان کے 5300 طلباء میں سکالر شپ دیے

    June 18, 2019 8:44 pm PST
taleemizavia single page

لاہور: امریکی ادارے یو ایس ایڈ کے تحت پاکستان کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ذہین طلباء میں سکالر شپ تقسیم کرنے کا اجراء 2004ء سے ہوا اور اس پروگرام کا نام میرٹ اینڈ نیڈ بیسڈ سکالر شپ پروگرام رکھا گیا.

اس پروگرام کے تحت دس یونیورسٹیوں‌ کے اشتراک سے اب تک 2300 ایسے سکالر شپ تقسیم کیے گئے جن کا تعلق یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور میڈیکل کالجز کے طلباء بھی شامل ہیں. یو ایس ایڈ نے مجموعی سکالر شپ کا 50 فیصد حصہ طالبات میں تقسیم کیا ہے.

اس ضمن میں گورنر ہائوس پنجاب میں تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں گورنر چوہدری محمد سرور، امریکی قونصل جنرل کولین کرینویلگی، چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر طارق بنوری نے شرکت کی.

امریکی قونصل جنرل کولین کرینویلگی کا کہنا تھا کہ ”یہ پروگرام امریکہ اور پاکستان کے درمیان اعلٰی تعلیم کے سلسلے میں قائم طویل اور پائیدار شراکت کی شاندار مثال ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس اسکالرشپ کے نتیجے میں لاتعداد ذہین اور قابل طلباءایک خوشحال مستقبل تشکیل دیں گے۔“

یہ پروگرام ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)، امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ)اور 30پاکستانی یونیورسٹیوں کے درمیان شراکت سے قائم ہوا۔ اسکالرشپ میں تعلیم ، رہائش اور کتابیں شامل ہیں۔ روزمرہ کے اخراجات کے لئے وظیفہ بھی دیا جاتا ہے، جبکہ مالی امداد کا انتظام اور کیرئیر ڈویلپمنٹ پر مشتمل خدمات بھی اس کا حصہ ہیں۔

ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر طارق بنوری نے کہا کہ” اسکالرشپ پروگرام ان شعبوں پر بطور خاص مرکوز ہے جو پاکستانی معیشت کی بہتری کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہےںبشمول زراعت، بزنس، انجینیئرنگ، میڈیکل اور سوشل سائنسز۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد ذہین طلباء، فیکلٹی اور ریسرچرز کے لئے ایسے مواقع پیدا کرنا ہے جو ایک متحرک معاشرے کی تعمیر میں مددگار ثابت ہو سکیں۔“