امریکی کمیشن کا پاکستانی نصاب تبدیل کرنے پردباؤ اور سفارشات

    December 8, 2016 12:23 pm PST
taleemizavia single page

رپورٹ: ازکیٰ ضیاء

یونائیٹڈ اسٹیٹس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجیئس فریڈم (امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی) نے “نصابی ترقی” کے نام پر ملک کے تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والی کتابوں کا از سر نو جائزہ لینے پر زور دیا ہے اور اس بات پر اصرار کیا ہے کہ اسلام کے “واحد برحق عقیدے” کے تصور کو ان نصابی کتب سے خارج کیا جائے۔

امریکی کمیشن نے یہ سفارشات پاکستان کی مقامی این جی او کے ساتھ مشترکہ طور پر کام کرنے کے بعد مرتب کی ہیں۔

امریکی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ “پاکستان میں عدم برداشت کی تدریس۔ پبلک اسکول کی نصابی کتابوں میں مذہبی تعصب” کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سکول اور کالج کی سطح کی نصابی کتب میں سب سے زیادہ ابھرتے رجحانات میں جنگ اور جنگی ہیرو کی قدر و منزلت پر ضرورت سے زیادہ اہمیت دیا جاتا ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ “خاص طور پر، محمد بن قاسم کی فتح ِ سندھ اور سلطان محمود غزنوی کے مشہور سترہ حملوں کا ذکر ہر نصابی کتاب میں فخر کے ساتھ شامل کیا جاتا ہے۔ برصغیر میں تہذیب کے آغاز کی وجہ ان دو واقعات کو سمجھنا اور فنون ِ لطیفہ ،فن تعمیر، اور ثقافت کے ارتقاء کونظر انداز کرنا ان درسی کتابوں میں ایک اہم مسئلہ ہے”۔

رپورٹ میں مزید اضافہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ ” آزادی کے بعد کی تاریخ میں بھارت کے ساتھ جنگوں پر زور دیا گیا اورامن کے لیے اقدامات کی مثالوں بڑی حد تک، نظر انداز کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں غیر متوازن تاریخی بیانیہ پیدا ہوا ۔ تنگ قوم پرستی کا یہ نظریہ پاکستانیوں کو بذریعہ تعلیم پڑھایا اور سیکھایا جارہا ہے”۔

امریکی کمیشن کی طرف سے جاری کردہ اس رپورٹ کی بنیاد پر پاکستانی امن اور ایجوکیشن فاؤنڈیشن یعنی پی ای ایف نے ایک مطالعہ اورتجاویز تیار کی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ا ن این جی اوز کی تجاویز پر، بالخصوص پنجاب اور خیبر پختونخوا میں پبلک اسکول کی نصابی کتابوں میں پہلے سے ہی کئی تبدیلیاں کر دی گئیں ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی عالمی سطح پر مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھتا ہے، اور امریکی صدر، سیکریٹری آف اسٹیٹ، اور کانگریس کے لئے پالیسی تجاویز پیش کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، معاشرتی علوم ، مطالعہ ء پاکستان اور تاریخ کا نصاب طلباء میں پاکستان کے ایک قومی اسلامی تشخص کو فروغ دیتاہے اور بھارت کے ساتھ تنازعات کو اکثر مذہبی لحاظ سے بیان کرتا ہے ۔

رپورٹ میں قومی نصاب میں اسلامی عقیدے کی بے جا اہمیت پراعتراض کیا گیااور کہا کہ، “پاکستان کی مذہبی تنوع کے باوجود اسلامی عقیدے پر زور، اسلام کو پاکستان اور پاکستانی تشخص کی نمایاں خصوصیت کے طور پر ابھارتا ہے”۔

رپورٹ میں ایک مثال میں کہا گیا کہ “اسلامی مذہب، ثقافت اور سماجی نظام غیر مسلموں سے مختلف ہیں؛ اس لیے ان کا ہندوؤں کے ساتھ تعاون کرنا ناممکن ہے”۔

رپورٹ بیان کرتی ہے کہ تازہ ترین تحقیق کے نتائج دو ہزار گیارہ کے مطالعہ اور تجزیہ کو صحیح ثابت کرتے ہیں کہ نصابی کتب عام طور پر فرقہ واریت اور اسلام کے تصورات پر زور دیتی ہیں۔ “ان تصورات کا مرکب مذہب کی بنیاد پر ایک قومی ریاست کی تعمیر ہے جسے اُنیس سے اکہتر سے لے کر دو ہزار آٹھ تک قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کوشش میں ذوالفقار علی بھٹو، ضیاء الحق، نواز شریف اور پرویز مشرف کی حکومتیں تک شامل ہیں”۔

امریکی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں درج ذیل تجاویز پیش کی ہیں؛

اول؛ آئین میں تمام پاکستانیوں کو ملنے والی مذہبی آزادی درسی کتب کے متن میں بھی نظر آنی چاہیے۔ مذہبی آزادی اور رواداری، اور اس کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے لئے فراہم کردہ پاکستان کے آئینی تحفظات طالب علموں کو سکھائے جانے چاہیں۔

دوئم؛ صوبائی تعلیمی وزراء اور ان کی بلا واسطہ رپورٹیں اقلیتوں کے حقوق کے لئے فراہم کی گئی آئینی ضمانتوں کے عین مطابق ہونی چاہیں۔ ایسا کوئی مواد طلباء کو نہیں سکھایا جانا چاہیے جو کسی دوسرے مذہب کی ذلت کی قیمت پر اپنے مذہب کی پیروی سکھائے۔ اور پاکستانی آئین کے مطابق غیر مسلم طلباء پر اسلامی نصاب سے تعلیم حاصل کرنے کی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔

سوئم؛ منفی تلقینِ عقیدہ ختم ہونا چاہیے اور بہتر تعلیم کے لیے غیر جانبدار متن کا انتخاب کرنا چاہیے۔ نصاب سے خوف کے احساس کی بجائے تعمیری حب الوطنی کا احساس پیدا کرنا چاہئے۔ مزید یہ کہ تعلیمی نقطہ ء نظر سے صحیح اور ہمہ گیر نظریات کی ضرورت ہے تا کہ مغربی ممالک اور عیسائیت کے بارے میں فاش تصورات سے بچا جا سکے۔

چہارم؛ اسلام کے “واحد برحق عقیدے” کے تصور کو ان نصابی کتب سے خارج کیا جانا چاہئے۔ پاکستان میں پرامن بقائے باہمی اور مذہبی تنوع کو تسلیم کیا جانا چاہئے تا کہ طالب علم تمام مذاہب کا احترام کرنا سیکھیں۔ اقلیتی گروہوں سے ہیرو کی متناسب مثالیں درسی کتب میں شامل کی جانی چا ہیں اور سائنس، ادب، طب اور کھیل کے شعبوں کے قومی ہیروز کو بھی شامل کیا جانا چاہئے۔

پنجم؛ تاریخی لاپروائی اور مختلف واقعات کی غلط بیانی سے اجتناب کرنا چاہیے تاکہ متنازعہ تاریخ سے بچا جا سکے اور متنوع نقطہ ہائے نظر شامل کیا جانا چاہئے۔

دو ہزار دس گیارہ کی رپورٹ کے مطابق ” مذہب اور سفارت کاری کے لئے بین الاقوامی مرکزِ آئی آر سی ڈی نے پاکستان کے بنیادی اور ثانوی تعلیم کے نظام کا ایک جائزہ لیا اور اساتذہ اور طلباء میں مذہبی اقلیتوں، خاص طور پر ہندوؤں اور عیسائیوں کے خلاف تعصب اور عدم برداشت کی سطح کا اندازہ کیا گیا۔

آئی آر سی ڈی کی تحقیقات اور تجزیہ کے ساتھ ان تحقیقات کو دو ہزار گیارہ میں امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی طرف سے اس عنوان کے تحت شائع کیا گیا؛

اسی طرح منسلک کڑیاں: تعلیم اور پاکستان میں مذہبی و تعلیمی تفریق کے عنوان کے تحت رپورٹ مرتب کی گئی۔اس رپورٹ کی بنیاد پر دو ہزار گیارہ کی نصابی کتابوں میں مذہبی عدم برداشت کی پچیس مثالیں پائی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق ان “مذہبی عدم برداشت کی امثال” کو موجودہ نصابی کتابوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اکثریت (سولہ) کو خارج کر دیا گیا ہے جبکہ تین کم و بیش غیر تبدیل شدہ رہیں اور چھ کو اس طرح تبدیل یا وسیع کیا گیا کہ ان میں موجود قابلِ اعتراض مواد کو برقرار ہا۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب اور خیبر پختون خوا کے ٹیکسٹ بک بورڈز تعصبات کو دور کرنے میں موثر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جبکہ سندھ اور بلوچستان میں پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔
.
موجودہ نصاب کی اٹھہتر کتابوں کے تازہ ترین جائزے سے معلوم ہوا کہ ان کتب میں سے چوبیس میں تقریباً ستر مذہبی عدم رواداری اور تعصب کی مثالیں موجود ہیں۔ ان ستر مثالوں میں سے اٹھاون یعنی چوراسی فیصد بلوچستان اور سندھ کے حکام کی طرف سے شائع کردہ کتب میں موجود ہیں جبکہ سات پنجاب اور پانچ خیبر پختون خوا کی کتب میں موجود تھیں۔

اس سلسلے میں صوبہء پنجاب اور خیبر پختونخوا کی کامیابی قابلِ ستائش ہے۔ “پیف” کے صدر نے یہ رپورٹ حکومت پنجاب کو جمع کرا دی ہے۔

پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اپنے بااثر شراکت داروں کے ساتھ مل کر “پیف” نے ان مذہبی تعصبات کے خاتمے کے لیے وسیع پیمانے پر کام کیا کیونکہ اگر ان تعصبات کا خاتمہ نہ کیا جاتا تو مذہبی اقلیتوں کے خلاف شورش کا اندیشہ تھا۔

اسی طرح “پیف” کے سربراہان نے خیبر پختونخوا کے کئی دورے کیے اورابتدائی و ثانوی تعلیم کے وزراء کو رپورٹ کی نقول فرہم کیں اور نصابی کتب سے متعصب متن ہٹانے کی درخواست کی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *