یوای ٹی کے خوش قسمت مُردے

    November 23, 2016 6:50 pm PST
taleemizavia single page

ڈاکٹر رانا تنویرقاسم

ایک جگہ میں نے پڑھا تھا کہ مردے دو قسم کے ہوتے ہیں ،ایک وہ مردے جو قبرستان میں رہتے ہیں اور دوسرے وہ جو شہروں میں رہتے ہیں ،قبرستان میں رہنے والے مردے خوش قسمت ہیں کہ ان کے اپنے ذاتی گھر ہیں اور شہروں میں رہنے والے مردے بدقسمت ہیں کہ انہیں اپنی قبروں کا کرایہ دینا پڑتا ہے۔

دو روز پہلے جب میں نے یو ای ٹی لاہور کی جامعہ مسجد کے سامنے واقع قبرستان کی دیوار پر یو ای ٹی لاہور کی اینوائرنمنٹل سوسائٹی کے “فنکار طلباء” قبرستان کی دیوار کو خوبصورت رنگوں سے مزین تصاویر پینٹ کر تے دیکھا تو میں سوچ رہا تھا کہ یہاں کے مردے کتنے خوش قسمت ہیں کہ یوای ٹی کے اس شہر خاموشاں کی دیواروں کی خوبصورتی کو کیسے چارچاند لگا رہے ہیں۔

اگرچہ یوای ٹی کے ان فنکاروں کی جانب سے اسٹریٹ آرٹ پروگرام کا مقصد یوای ٹی کی دیواروں کو اچھے پیغامات اور رنگ برنگی کہانیوں سے مزین کرنا تھا۔

وال پینٹنگ کا یہ مظاہرہ ہرسال کیاجاتا ہے اس بار انہوں نے جس طرح قبرستان کی دیوار کا انتخاب کیا پتہ نہیں اب مردے ان سے خوش ہورہے ہوں گے یا ناراض یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

ویسے اس ایونٹ کے سپانسر ماسٹر پینٹ والوں کے لیے ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی انہیں اس حد تک تو فیق دے کہ اساتذہ کی رہائشوں سے لیکر سٹوڈٹنس کے ہاسٹلز تک ”سپانسرشپ “ کا یہ دائرہ وسیع ہو جائے تاکہ وہ یوای ٹی کے اساتذہ اور ہاسٹلز میں مقیم سٹوڈنٹس کی بھی دعائیں لے سکیں اور انکی” دنیوی قبروں “کی بھی حالت بدل جائے۔

تاکہ کسی کوقبرستان کی رنگین دیوار دیکھ کریہ نہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ ہم سے تومردے ہی اچھے ہیں۔

یوای ٹی کا بدلتا ہوا منظر اس لحاظ سے اطمینان بخش ہے کہ ماضی میں یونیورسٹی کے دوردیوار ، زندہ باد اور مردہ باد کے نعروں ،نفرت انگیز اور فرقہ ورانہ جملوںسے لدے ہوتے تھے اس قسم کی بے ہودہ وال چاکنگ دیکھنے والوں کو ناگوار گزرتی تھی۔

ایک مجلس میں مجھے ایک سینئر استاد نے بڑا دلچسپ واقعہ سنایا کہ ایک جگہ پر اسرائیل مردہ باد کا نعرہ لکھا تھا تو کسی شرارتی لڑکے نے اس کے ساتھ’ حافظ‘ لکھ دیا، واقعہ سنتے ہی مجلس کشت زعفران بن گئی ۔

یہ تو بھلا ہو سابق وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ( ر) ڈاکٹرمحمد اکرم خاں کا جنہوں نے جہنم زدہ یونیورسٹی کو جنت نما بنا دیا ہے۔ موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر فضل احمد خالد جس طرح خود نفیس ہیں اب انہوں نے یونیورسٹی کو بھی اپنی طرح نفیس بنانے کی ٹھان لی ہے۔

اور انقلابی اقدامات کے ذریعے یوای ٹی کی عظمت اور اسکے حسن کو دوبالا کررہے ہیں ہماری دعائیں انکے ساتھ ہیں۔

زمانہ قدیم کے تین نمبر گیٹ کا نقشہ تبدیل ہو گیا ہے۔ اب واقعتا اس کی بدلتی ہوئی وضع قطع کسی تعلیمی ادارے کا منظر پیش کررہی ہے۔اس سے پہلے گیٹ تعلیمی ادارے سے زیادہ کسی ورکشاپ کا گیٹ لگتا تھا۔ اسکے ساتھ زیر تعمیر مین سڑک بھی کسی ”ایکسپریس وے “ سے کم نہیں ہو گی۔

بچوں نے دیواروں کو مختلف ثقافتی اور پیغاماتی رنگوں سے رنگا رکھا ہے۔ واقعتا ای ایچ ایس نے بے رنگ و سپاٹ نظر آنے والی دیواروں کو خوبصورتی کا رنگ دیا ہے۔پینٹنگ اپنے جذبات کے اظہار کا بہترین ذریعہ ہے ۔

یوای ٹی میں زیادہ تر انجینئرنگ کے سٹوڈنٹس ہیں ۔ جن کے بارے میں عمومی تصور پایا جاتا ہے کہ ان کا فنون لطیفہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مگر یوا ی ٹی میں اس وقت تیس سے زائد مختلف سوسائٹیز متحرک ہیں اور اپنے اپنے مینڈیٹ کے مطابق بہترین کارکردگی کا مظاہر ہ کررہی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اب یوای ٹی انجینئرز پلس بہترین شاعر، لکھاری، فنکار، آرٹسٹ،دانشور،سکالر، مصور، سوشل ورکر،گائیک،ڈیزائنرپیدا کررہی ہے۔ یعنی اب انجینئرز کے بارے میں قائم تصور ہمیں تبدیل کرنا پڑے گا۔

یوای ٹی کے ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افیئرز ڈاکٹر آصف علی قیصر بھی ادبی ذوق کی حامل شخصیت ہیں۔ انکی ہرد لعزیزی کا ہی کمال ہے کہ وہ ہر وقت سٹوڈنٹس کے جھرمٹ میں نظر آتے ہیں سوسائٹیز انکی راہنمائی میں زیادہ اعتماد کے ساتھ کام کررہی ہیں۔

آرٹ کے ذریعے بچوں نے اپنی اس خیالی دنیا کو حقیقت میں لانے کی کوشش کی۔ بلاشبہ ای ایچ ایس کی ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے۔جن کی ٹیم نے ارد گرد کے حالات کا اظہار دلچسپ پینٹنگ کی صورت میں کیا۔

ایک پینٹنگ میں ایک کوے کو ایک پرندے سے نوالہ چھینتے ہوئے دکھایا ہے۔ اسے بنانے والے سٹوڈنٹ نے کہا کہ کوا خودغرضی، لالچ اور بدفطرتی کی ایک مثال ہے۔ جب قصور میں بچوں کے ساتھ زیادتی کا ویڈیو اسکینڈل سامنے آیا تو اس نے مجھ پر گہرا اثر ڈالا۔

انسانوں کی اس بدفطرتی کو علامتی اظہار میں پیش کرنے کے لیے مجھے کوے سے بہتر اور کوئی چیز نہیں لگی۔ایک طالب علم نے کہا کہ ان کے خیال میں زندگی میں بے شمار دکھ، بے شمار مسائل ہیں، تو اپنی ذاتی زندگی کے مسائل کا آرٹ کے ذریعے اظہار کر کے دوسروں کے مسائل میں اضافہ کرنا نا انصافی ہے۔

کیوں نہ انہیں رنگوں کی خوبصورتی دکھائی جائے تاکہ وہ چند لمحوں کے لیے ہی سہی، لیکن خوشی محسوس کر سکیں۔

ایک پینٹنگ کے ذریعے لوگوں کی خاص طور پر خواتین کی فطرت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ایک پینٹنگ انسانی فطرت کی بدصورتی کو اجاگر کر رہی ہیں تو دوسری طرف شوخ رنگوں سے مزین زندگی کے روشن رخ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔

یہ مصورات اپنے اپنے تصورات اور تخیلات کے سہارے فن مصوری کی نئی جہتوں اور نئے جہانوں کی تلاش میں ہیں اور ان کی تصویروں میں استعمال ہونے والے رنگوں کا اعتماد بتاتا ہے کہ ایک نہ ایک دن یہ سب اپنے اپنے خاکو ں کو عملی زندگی میں بھر دیں گے ۔

متوازن شخصیت کے حصول کے لیئے نصابی کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیو ںکی اہمیت ایک مسلمہ حقیقت رکھتی ہے جس سے نہ صرف دماغ کی بہترین نشو و نماءہوتی ہے بلکہ ایک صحت مند مقابلے کی فضا پیدا ہوتی ہے۔

غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینا ایک سمجھدارانہ انتخاب ہے۔ اس سے کام کرنے کی صلاحیت، لوگوں کے ساتھ معاملات کرنے کی صلاحیت اور انتظام و انصرام کی صلاحیت پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے۔

اس سے آپ کو نئے لوگوں سے ملنے، مزید دوست بنانے اور اپنے ساتھیوں سے میل ملاقات کا موقع ملتا ہے۔ غیر نصابی سرگرمیاں ایک طالبعلم کو ٹائم مینجمنٹ اور سٹریس مینجنمٹ کی صلاحیت بڑھانے میں مدد دیتی ہیں جس سے ان کی مجموعی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے۔

مشاہدے میں آیا ہے کہ غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے طلباءنصابی سرگرمیوں میں بھی بہتر سکور کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ میں بھی سکول کالج اور یونیورسٹیز کی سطح پر ڈبیٹنگ، حسن قرات اور ادبی سرگرمیوں میں نمایاں حیثیت کے ساتھ پیش پیش تھا، اسی طرح نصابی سرگرمیوں میں بھی باعزت ہی رہا۔

میں سمجھتا ہوں کہ ایسے بچے اپنے وقت کا بہتر انصرام کرنا، اپنے دباؤ کو کم کرنا سیکھ جاتے ہیں اور ایک سے زیادہ چیزوں میں انتہائی مہارت حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔

مجموعی طور پر غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے طلباءاپنی نصابی اور روزمرہ کی زندگی کی مہارتوں میں بہتری پاتے ہیں جیسا کہ نظم و ضبط، ہدف کا تعین کرنا، ٹیم ورک، احتساب اور ذمہ داری۔

ایسے طلباءاپنے آپ کو بعد از ثانوی تعلیم کے لیے بھی بہتر طور پر تیار پاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایسے طلباءبعض اوقات یہ بھی دریافت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ جو کچھ انہوں نے کلاس سے باہر ایک باسکٹ بال یا شطرنج کلب میں جو سیکھا وہ آنے والے وقت میں ان کی پیشہ وارانہ زندگی میں ان کے کام میں مدد دے گا۔


tanvir-qasim

رانا تنویر قاسم یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور سے بطور اُستاد وابستہ ہیں۔ اُنہوں نے اسلامیات کے مضمون میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔وہ مثبت تنقیدی نقطء نظر کو اپنی قوت سمجھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *