طلباء کی خود کُشی، داستان کُچھ اور ہے

    January 17, 2017 9:05 pm PST
taleemizavia single page

پروفیسر محمد عاصم حفیظ

آج کے اخبارات میں نمایاں طور پر چھپنے والی دو خبریں ہمارے معاشرتی المیے کی عکاس ہیں ۔ اسلام آباد میں کلاس ٹیچر کے عشق میں مبتلا ساتویں جماعت کے طالبعلم اسامہ نے خود کو گولی مار کر خودکشی کرلی، اُسامہ اپنی اُستانی کے عشق میں مبتلا تھا اور سمجھانے پر خود کوگولی مار کر زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

اسامہ نے مرنے سے قبل ٹیچر کے نام پر ایک خط لکھا تھا جو اس نے چھوٹے بھائی کو دے کر کہا کہ باہر جاکر سو تک گنتی گنو جب سو تک گنتی ختم ہوجائے تو یہ خط ٹیچرکو دے دینا۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں کہ جب کوئی ”قاتل عشق“ کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہارا ہو ابھی چند روز پہلے ہی حیدر آباد یونیورسٹی میں ماسٹرز کی ایک طالبہ نے ہاسٹل کے کمرے میں پھندا لیکر خود کشی کی تھی ۔ وہ ایک لیکچرار سے شادی کرنا چاہتی تھی ، انکار برداشت نہ کر سکی اور زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

کچھ عرصہ قبل کراچی میں دسویں کلاس کے ایک جوڑے نے ”عشق“ کے ہاتھوں مجبور ہوکر اجتماعی خودکشی کی تھی ۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں اگر آپ اس موضوع پر تحقیق شروع کریں تو چند روز کے اندر درجنوں ایسے جھگڑے ، قتل و غارت ، خاندانی چپقلش کے واقعات اور خونی حادثے دیکھیں گے کہ جس کی وجہ کوئی نہ کوئی پروان چڑھتا، ناکام ہوتا یا بغاوت کرکے گھر بار چھوڑتا” عشق “ہو گا۔

کسی بھی سرکاری یا پرائیوٹ تعلیمی ادارے میں جائیں تو سربراہ آپ کو ایسے کئی قصے سنا دے گا کہ جنہیں سن کر آپ کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے کہ ہماری نوجوان نسل تو ایک طرف بچے بھی عشق و محبت کی کن راہوں کے مسافر بن چکے ہیں ۔

تعلیمی اداروں میں لڑائیاں ہوتی ہیں ، دشمنیاں پالی جاتی ہیں،عزتیں پامال ہوتی ہیںجبکہ مایوسی یا ناکامی میں خودکشی تک کا انتہائی اقدام بھی اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔یہ ہے وہ المیہ کہ جو انتہائی خاموشی سے ہمارے مستقبل کو چاٹ رہا ہے ۔ خاندانی نظام کو تباہ کر رہا ہے اور ہر روز کئی قیمتی جانوں کو نگل رہا ہے۔

یہ پڑھیں؛ مطالعہ پاکسان کا المیہ

بیمار ذہن افراد عشق و محبت کے جال میں پھنسا کر تصاویر اور ویڈیوز بناتے اور بلیک میل کرتے ہیں۔والدین جو کہ دن رات محنت کرکے گھروں کا چولہا جلاتے ہیں انہیں احساس ہی نہیںہو پاتا کہ ان کی پیاری اولاد کن راہوں کی مسافر بن چکی ہے ۔ الیکٹرانک میڈیا ، فلم انڈسٹری اور اب سوشل میڈیا نے محبت کی ان کہانیوں کوابھارنے میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے ۔

ایک ساتویں کلاس کا طالب علم بھلا کس طرح ان جذبات سے آشنا ہوا کہ اسے ایک انجان محبت کی ناکامی پر اپنی جان کا خاتمہ کرنا پڑا ۔ یہ سب اسے میڈیا نے سیکھایا ہے ۔ اس نے کوئی ڈرامہ دیکھا ہوگا ، کسی فلم میں ایسا ہوا ہوگا یا پھر سوشل میڈیا کے کسی ویڈیو کلپ نے عشق ، محبت ، جذبات اور پھر ناکامی پر خودکشی تک رہنمائی کی ہو گی۔

میڈیا کے زیر اثر اس ”عشق“ کے کاروبار میں اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ چڑھتی جوانی کی ایک اچھی خاصی تعداد پڑھائی سے زیادہ وقت اور پیسہ اس کی آبیاری میں اڑاتی ہے۔نت نئے فیشن آزمائے جاتے ہیں ، والدین کو بے وقوف بنانے کے بہانے گھڑے جاتے ہیں ،کلاسز چھوڑ کر کسی پکنک پوائنٹ پر وقت برباد ہوتا ہے۔

جب گھر جانا ہی پڑے تو پھر موبائل اور سوشل میڈیا کے ذریعے راتوں کی نیند اور آرام و سکون کے لئے میسر لمحات کو ضائع کیا جاتا ہے۔ والدین بیچارے دن بدن بڑھتے اخراجات کو اس امید پر برداشت کرتے ہیں کہ بہت جلد ان کی اولاد ڈگری ہولڈر ہوکر کمانے کے قابل ہو جائے گی لیکن ان کی حالت کیا ہوگی جب وہ کسی نہ کسی عشق کے معاملے میں پھنسی اولاد کی تباہی کو اپنی نظروں سے دیکھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

ہر روز کہیں نہ کہیں اس عشق کی کاررستانی سے کسی نہ کسی کی جان جاتی ہے، عزت پامال ہوتی ہے جبکہ وسائل اور وقت کی بربادی کرنیوالوں کی تعداد تو بے شمار ہی ہو گی ۔ یہ ایک رخ ہے جبکہ دوسرا رخ اس سے بھی بھیانک ہے کہ جب انہی کچے اور ناسمجھ جذبات کے ہاتھوں مجبور ہوکر نوجوان جوڑے خاندانوں سے بغاوت کرکے شادی کا ارادہ کر لیتے ہیں ۔

آج کے اخبارات میں ہی فرنٹ پیج پر چھپی ایک اور خبر معاشرے کی تباہی کی عکاس ہے ۔لاہورکی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے پسند کی شادی کرنے پر بیٹی کو زندہ جلانے والی ماں کو سزائے موت اور مقتولہ کے بھائی کو عمرقید کی سزا سنائی ہے۔ زینت بی بی کو پسند کی شادی کرنے پر اسکی ماں نسرین بی بی اور بھائی انیس نے زندہ جلایا تھا۔

ایسے واقعات بھی ہر روز معمول بن چکے ہیں کہ جب خاندان سے بغاوت کرکے ایک ہو جانیوالے جوڑوں کی وجہ سے جھگڑے ہوتے ہیں ، قتل و غارت ہوتی ہے یا پھر اسی جوڑے کو حالات کے ہاتھوں تنگ آکر خودکشی کرنا پڑتی ہے۔ اسی کا ایک دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ جب لڑکا لڑکی زندگی کا یہ بڑا فیصلہ خود کر تو لیتے ہیں لیکن بہت جلد زندگی کی حقیقتوں سے آشنا ہوتے ہی دل بھر جاتا ہےاور پھر طلاق تک نوبت آتی ہے۔

جانئیے؛ ہنزہ میں شرح تعلیم کیسے سو فیصد تک پہنچی

کتنے ہی ایسے واقعات ہیں کہ محبت کے نام پر گھر سے بھاگنے والی لڑکی کو جسم فروشوں کے ہاتھوں بیچ دیا گیا یا پھر اسے دارالامان میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر زندگی گزارنی پڑتی ہے۔

یہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں کہ وہ معاشرتی تباہی کا باعث بننے والے ان واقعات کا نوٹس لے بلکہ ہر صاحب شعور ، سول سوسائٹی ، سماجی و دینی تنظیموں ، استاذہ کرام اور دیگر معاشرتی طبقات کا بھی فرض بنتا ہے کہ زندگیاں عذاب بناتے اور قیمتی زندگیاں اگلتے ان قاتل جذبات پرسلیقے سے قابو پایا جائے ۔ ماہر عمرانیات کو سماجی تعلق پیدا کرنے کی اس گھمبیر کوششوں کے محرکات پر پاکستانی سماج کے پس منظر میں ریسرچ سٹڈیز کریں اور اس رجحان پر قابو پانے کے لیے تجاویز بھی بتلائیں۔

تعلیمی اداروں میں چاہے وہ سکول ہو، کالج ہو یا پھر یونیورسٹی کے نوجوان کا خود ہی اپنی موت کا فیصلہ کر لینا انتہائی غیر معمولی معاملہ ہے۔ ہمارے سماج کے ہر فرد کو سوچنا ہوگا اس سے قبل کہ یہ “قاتل عشق” خود ان کے آس پاس کوئی سانحہ نہ برپا کر ڈالے۔


asim hafeez

پروفیسر محمد عاصم حفیظ سرکاری کالج میں بطور اُستاد تعینات ہیں وہ پیشہ ور صحافی بھی رہ چکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *